تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
اہل بیت علیہم السّلام سے محبت ہر مومن کے دل میں موجود ہوتی ہے، لیکن محبت اور مودّت میں ایک بنیادی فرق ہے۔ محبت ایک فطری جذبہ ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے، مگر مودّت ایک عملی کیفیت ہے جو محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے قربانی، وفاداری اور اطاعت میں ظاہر ہوتی ہے۔
محبت (Love) ایک جذباتی وابستگی ہے، جیسے والدین کو اپنی اولاد سے یا کسی کو اپنے کسی عزیز سے ہوتی ہے۔
مودّت (Deep Affection & Devotion) محبت کی اس بلند ترین شکل کا نام ہے جو انسان کو محبوب کی اطاعت، فداکاری اور ہر حال میں اس کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور کر دے۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے اہل بیتؑ سے صرف محبت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ “مودّت” کا حکم دیا:”قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا ٱلْمَوَدَّةَ فِى ٱلْقُرْبَىٰ”(سورۃ الشوریٰ: 23)
ترجمہ: کہہ دو (اے رسولﷺ)، میں تم سے اس (رسالت) پر کوئی اجر نہیں مانگتا، مگر اپنے قریبیوں سے مودّت۔
یہاں محبت کے بجائے “مودّت” کا لفظ آیا ہے، کیونکہ محض محبت کافی نہیں، بلکہ اس محبت میں قربانی، وفاداری اور مکمل اطاعت بھی ہونی چاہیے۔
مودّت وہ دریا ہے جس میں محبت کے تمام سمندر ضم ہوتے ہیں اگر محبت کو سمندر کہا جائے تو مودّت ایک وسیع دریا ہے، جس میں محبت کے یہ تمام سمندر ضم ہوتے ہیں۔ محبت کے کئی درجے ہیں، مگر مودّت وہ آخری درجہ ہے جہاں انسان اپنی ہر چیز محبوب پر نثار کر دیتا ہے۔ اسی حقیقت کا اظہار ہم زیارتِ عاشورہ میں کرتے ہیں:”بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، وَمَالِی وَأَہْلِی، وَمَا مَلَکَتْ یَدِی”
ترجمہ: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، میرا مال، میرا اہل و عیال اور جو کچھ میرے ہاتھ میں ہے، سب کچھ آپ پر قربان۔
یہ صرف زبانی محبت نہیں بلکہ حقیقی مودّت ہے، جہاں انسان اپنے محبوب کے لیے اپنی ہر شے کو قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔
امام علیؑ نے حقیقی مودّت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:”محبت کا تقاضا ہے کہ جس سے محبت کی جائے، اس کے اصولوں کو اپنایا جائے۔”
(نہج البلاغہ، حکمت 45)
امامؑ یہاں محض زبانی محبت کو رد کرتے ہیں اور عمل کی تاکید کرتے ہیں، کیونکہ جو شخص حقیقی مودّت رکھتا ہے، وہ محبوب کے راستے میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
حقیقی مودّت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اہل بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں۔ امام حسینؑ کے جانثاروں نے اسی مودّت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں اور کہا:”یَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ، لَنْ نُفَارِقَکَ أَبَدًا، نَقْتُلُ دُونَکَ وَنُقَطَّعُ أَلْفَ مَرَّةٍ وَنَحْنُ مَعَکَ”
ترجمہ: اے فرزندِ رسولؐ! ہم آپ کو کبھی نہیں چھوڑیں گے، ہم آپ کے لیے ہزار مرتبہ قتل ہونے اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے لیے بھی تیار ہیں۔
یہی وہ جذبہ ہے جو ایک سچے محب کو مقامِ فداکاری تک پہنچاتا ہے، جہاں وہ اپنی جان، مال، اولاد اور ہر چیز محبوب کے راستے میں قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔
محبت کا صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ اسے مودّت کی صورت میں ثابت کرنا ضروری ہے۔ اہل بیتؑ سے سچی مودّت وہی رکھتا ہے جو ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلے، ان کی قربانیوں کو سمجھے، اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرے۔ جو لوگ اپنی محبت کو مودّت میں بدلتے ہیں، وہی لوگ اللہ کے ہاں “مقامِ محمود” تک پہنچتے ہیں۔
اللہ ہمیں محبّت کو حقیقی مودّت میں ڈھالنے اور اہل بیتؑ کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خداوند رب العزت کی نصیحتوں سے فائدہ اٹھاؤ، اس کی موعظتوں کو قبول کرو کیونکہ اللہ نے تم پر حجت تمام کر دی ہے اور اچھے اور برے اعمال کی تمیز واضح کر دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت مشکلات کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور دوزخ خواہشات کی پیروی سے۔
مولانا سید منظور علی نقوی امروہوی نے اس خطبے کے اہم نکات بیان کیے:
اطاعت اور معصیت کی حقیقت: ہر اطاعت میں کچھ ناگواری اور ہر معصیت میں کچھ لذت ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی خواہشات کو روک لے اور نفس کی ہوس کو قابو میں رکھے، اللہ اس پر رحم کرے گا کیونکہ نفس ہمیشہ گناہ کی طرف مائل رہتا ہے۔
مومن کا نفس: مومن ہمیشہ اپنے نفس پر نظر رکھتا ہے، اپنی کوتاہیوں کو پہچانتا ہے اور اپنی اصلاح کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ ان سے سبق لو جو پہلے اس راہ پر گزرے ہیں اور دنیا کو مسافر کی طرح چھوڑ کر آگے بڑھ گئے ہیں۔
قرآن کی عظمت: قرآن نصیحت کرنے والا، ہدایت دینے والا اور سچ بولنے والا ہے۔ جو بھی اس کے ساتھ رہے، اس کی ہدایت میں اضافہ یا گمراہی میں کمی پاتا ہے۔ قرآن سے شفا اور رہنمائی حاصل کرو، اسے اللہ سے رجوع کرنے کا ذریعہ بناؤ، نہ کہ لوگوں سے۔
قرآن کی شفاعت: قیامت کے دن قرآن ان لوگوں کے حق میں شفاعت کرے گا جو اس کی پیروی کرتے ہیں، اور ان کے خلاف ہوگا جو اس سے منحرف ہو گئے ہیں۔
عمل، استقامت، صبر اور ورع: عمل کرو، استقامت اختیار کرو، صبر کرو اور ورع اختیار کرو۔ اپنی منزل کی طرف بڑھو اور اللہ کے حقوق ادا کرو۔ حضرت علی علیہ السلام خود قیامت کے دن تمہارے اعمال کے گواہ ہوں گے۔
زبان کی حفاظت: زبان کو قابو میں رکھو کیونکہ زبان انسان کے دل کی عکاس ہوتی ہے۔ مومن سوچ سمجھ کر بولتا ہے جبکہ منافق بے سوچے بولتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کا استحکام زبان کی درستگی سے ہوتا ہے۔
بدعت سے بچاؤ: مومن وہی چیز حلال سمجھتا ہے جو پہلے حلال تھی اور حرام وہی جو پہلے حرام تھی۔ بدعتیں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال نہیں کر سکتیں۔ نصیحتوں سے فائدہ اٹھاؤ اور گمراہی سے بچو۔
ظلم کی اقسام: ظلم تین طرح کے ہیں: شرک جو کبھی معاف نہیں ہوگا، نفس پر ظلم جو بعض اوقات بخش دیا جاتا ہے، اور بندوں کے ایک دوسرے پر ظلم جس کا سخت بدلہ ہوگا۔
دین میں استقامت: دین میں رنگ بدلنے سے بچو، حق پر متحد رہو، کیونکہ اتحاد میں خیر ہے اور اختلاف میں نقصان۔
اپنے عیوب پر غور: مبارکباد اس شخص کو جو اپنے عیوب پر غور کرتا ہے، اپنے گھر میں رہتا ہے، اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے تاکہ وہ خود اصلاح کرے اور دوسروں کو تکلیف نہ دے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے امت کو اللہ کی نصیحتوں پر عمل کرنے، قرآن کی ہدایت کو اپنانے، زبان کی حفاظت کرنے اور دین میں استقامت اختیار کرنے کی تاکید کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنت مشکلات اور صبر سے حاصل ہوتی ہے اور دوزخ خواہشات کی پیروی سے۔ ظلم، بدعت اور رنگ بدلنے سے بچو اور اپنے نفس کی اصلاح میں لگے رہو تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔چاپلوسی کی جڑیں دراصل کمزوری، عدمِ خوداعتمادی اور دنیا پرستی میں پیوست ہوتی ہیں۔ چاپلوس شخص دوسروں کے سامنے اپنی اصلیت چھپانے کے لیے جھوٹی تعریفوں اور بناوٹ کا سہارا لیتا ہے، تاکہ وہ اُن کا اعتماد حاصل کر سکے یا ان سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھا سکے۔ مگر چونکہ یہ سارا عمل نفاق پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے دل کی گہرائیوں میں ایک اضطراب اور حسد پلتا رہتا ہے۔ جب کوئی دوسرا شخص اُس کی سازشوں یا خوشامد سے متاثر نہ ہو، یا اُسے نظر انداز کر دے، تو وہ چاپلوس شخص کے دل میں ایک خاموش آگ بھڑک اٹھتی ہے جو کینہ، بغض اور حسد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اس طرح چاپلوسی اور کینہ دراصل ایک ہی باطن کی دو علامتیں بن جاتی ہیں۔ چاپلوسی ایک ظاہری چہرہ ہے جو سماج یا کسی شخصیت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جبکہ کینہ وہ پوشیدہ چہرہ ہے جو دل کی گہرائیوں میں چھپا ہوتا ہے۔ دونوں کا تعلق ریاکاری، دنیا پرستی اور اخلاقی پستی سے ہے۔ ایسا شخص کبھی خالص محبت یا خلوص کا حامل نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے تعلقات قائم کرتا ہے۔ جب مفادات حاصل نہ ہوں، تو یہی تعلقات بغض و عناد میں بدل جاتے ہیں۔
قرآن و احادیث میں بھی منافقین کی یہی صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ زبان سے کچھ اور ہوتے ہیں اور دل سے کچھ اور۔ وہ جب اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، مگر جب اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو محض مذاق کر رہے تھے۔ یہ دوغلا پن اصل میں چاپلوسی اور کینہ پروری کی جڑ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص اگر مسلسل جھوٹے لب و لہجہ کے ساتھ تعریفیں کرتا رہے تو اس کا دل خلوص اور سچائی سے خالی ہو جاتا ہے، اور وہ دوسروں کی عزت و کامیابی سے چِڑنے لگتا ہے۔ یہ چِڑ اور حسد ہی بعد میں کینہ بن جاتی ہے۔
ایک مخلص انسان نہ کسی کی جھوٹی تعریف کرتا ہے اور نہ ہی دل میں کسی کے خلاف زہر پالتا ہے۔ وہ سچائی اور اصولوں پر قائم رہتا ہے، چاہے اس کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن چاپلوس شخص وقتی فائدہ کے لیے اپنے ضمیر کو بیچ دیتا ہے، اور جب فائدہ نہ ملے تو وہی شخص دشمنی کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس لیے معاشرتی اور دینی سطح پر ان دونوں صفات کو نہایت خطرناک سمجھا گیا ہے، اور ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
الغرض کہ چاپلوسی اور کینہ گری ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک ہی بیمار دل کی علامتیں ہیں۔ جس دل میں صداقت، خلوص اور خوفِ خدا ہو، وہ نہ چاپلوسی کرتا ہے اور نہ ہی دل میں کینہ پالتا ہے۔ جبکہ جس دل میں مفاد پرستی، دنیا کی محبت اور ریاکاری ہو، وہ بیک وقت خوشامد بھی کرتا ہے اور دل میں حسد اور بغض بھی رکھتا ہے۔ لہٰذا ایک باضمیر انسان کو ان دونوں اخلاقی بیماریوں سے بچنا چاہیے تاکہ وہ نہ صرف خود کو پاک رکھ سکے بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحمت اور بھلائی کا سبب بنے۔
ایسے اشخاص کے شر سے بچنے کے لیے سب سے پہلا قدم باطنی بصیرت کو بیدار کرنا ہے تاکہ انسان خوشامدانہ باتوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو پہچان سکے۔ یہ لوگ بظاہر انتہائی مہذب، نرم گو اور ہمدرد دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی باتوں میں مصنوعی چاشنی ہوتی ہے اور رویوں میں ایک خاص بناوٹ نظر آتی ہے۔ ان کی باتوں سے فوری متاثر ہو جانا عقلمندی نہیں بلکہ ایک فریب میں آ جانا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان صرف باتوں پر نہیں، بلکہ عمل اور رویے کو بھی پرکھے۔ اگر کوئی شخص بار بار بے وجہ تعریف کرے، ہر بات پر تائید کرے اور ہر طرف سے جھک کر ملے، تو یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایسے افراد سے محفوظ رہنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک حد تک تعلق رکھ کر محتاط رویہ اپنایا جائے۔ حد سے زیادہ قربت، ذاتی رازوں کا انکشاف، یا ان پر اعتماد کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی فطرت میں چونکہ دوغلا پن ہوتا ہے، اس لیے وہ آپ کی باتوں کو دوسرے مقامات پر آپ ہی کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دانائی اسی میں ہے کہ ان کے ساتھ نہ تو سختی اختیار کی جائے کہ دشمنی کھل کر سامنے آ جائے، اور نہ ہی اتنا اعتبار کیا جائے کہ وہ آپ کی کمزوریوں سے واقف ہو جائیں۔
انسان کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئے، مگر دل سے محتاط رہے۔ گفتگو اور میل جول میں نرمی ہو، لیکن اپنے حدود و دائرے کو ہمیشہ قائم رکھا جائے۔ دینِ اسلام نے بھی ہمیں سکھایا ہے کہ کسی کے ساتھ ایسا تعلق رکھو کہ اگر وہ دشمن بن جائے تو تمہارے راز محفوظ رہیں، اور اگر دشمن کے ساتھ حسنِ سلوک کرو تو بھی اس میں عدل اور وقار برقرار رہے۔ یہ توازن ایک مؤمن کی نشانی ہے۔
ایسے افراد سے بچنے کے لیے روحانی تحفظ بھی بہت اہم ہے۔ دعا، ذکرِ الٰہی، اور سورۂ فلق و ناس جیسی قرآنی آیات کا ورد انسان کو نظروں کے شر، حسد، اور خفیہ عداوتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دل میں اللہ پر کامل بھروسہ ہو تو کوئی بھی انسان اس کا نقصان نہیں کر سکتا، خواہ وہ بظاہر دوست بن کر آئے یا دل میں زہر چھپائے بیٹھا ہو۔
آخر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی فطرت کے مطابق ہی عمل کرتا ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ خود کو اس حد تک مضبوط بنانا چاہیے کہ ان کا شر ہم پر اثر نہ کر سکے۔ یہ مضبوطی صرف عقل سے نہیں، بلکہ روحانیت، اخلاص اور صبر سے حاصل ہوتی ہے۔ ایسے افراد کے وجود کو مکمل نظر انداز کرنا بعض اوقات اُن کے شر کو ختم کر دیتا ہے، کیونکہ یہ اپنی شناخت اسی وقت قائم رکھتے ہیں جب اُن کی خوشامد یا سازش کا ردِ عمل ظاہر ہو۔ خاموشی، حکمت اور فاصلے کا امتزاج ہی اُن کے شر سے بچنے کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
