44

قیام حق کی جدوجہد میں ناامیدی حرام ہے

  • نیوز کوڈ : 1889
  • 13 June 2025 - 0:29
قیام حق کی جدوجہد میں ناامیدی حرام ہے

قیام حق کی جدوجہد میں ناامیدی حرام ہے

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

تاریخِ انسانیت میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہ قومیں اجتماعی طور پر گمراہ ہو گئیں، انقلابی تحریکیں زوال کا شکار ہو گئیں، اور دیندار افراد دین سے منہ موڑ بیٹھے۔ قرآن نے بارہا ہمیں ان واقعات کی یاد دہانی کروائی ہے جہاں اکثریت نے حق کا انکار کیا، یا جہاں کچھ افراد نے وقتی قربانی دینے کے بعد راہِ حق کو چھوڑ دیا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مومنین کو کبھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اکثریت کے بگاڑ کو دیکھ کر اپنی ذمہ داری ترک کر دیں یا مایوسی کا شکار ہو جائیں۔ بلکہ وہ بار بار انہیں تاکید فرماتا ہے کہ تم پر جو حق واضح ہو چکا ہے، اور جس پر تمہیں یقین حاصل ہے، اُس پر ڈٹے رہو، اور اپنی استطاعت، ہمت اور وسائل کے دائرے میں جو تم پر فریضہ عائد ہوتا ہے، اُسے ترک نہ کرو، چاہے تم تنہا رہ جاؤ۔

قرآن کریم کی وہ آیت جس میں ارشاد ہوتا ہے: “افإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم؟” یعنی “کیا اگر رسول شہید ہو جائیں تو تم الٹے قدم واپس پلٹ جاؤ گے؟” ایک زبردست مہمیز ہے ہر حق پرست کے لیے۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ حتیٰ اگر سب لوگ پیچھے ہٹ جائیں، حتیٰ کہ اگر نبی بھی دنیا سے تشریف لے جائیں، تب بھی ایک سچے مومن کا فرض تبدیل نہیں ہوتا۔ اُس کی وابستگی کسی ہستی کی زندگی یا کسی گروہ کی تعداد سے مشروط نہیں، بلکہ اُس کی وفاداری حق، عدل، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق کی راہ پر چلنا کبھی بھی ایک اجتماعی فیشن نہیں رہا۔ ہمیشہ سے حق پرست کم تعداد میں رہے ہیں، اُن پر طنز ہوا، اُنہیں تنہا کیا گیا، اور انہیں دنیاوی کامیابی سے محروم دکھایا گیا۔ مگر وہی لوگ تاریخ کے اصل کامیاب انسان قرار پائے، کیونکہ انہوں نے حق کو فقط نعرہ یا احتجاج نہیں سمجھا بلکہ ایک ذمہ داری، ایک عہد، ایک امانت جانا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اُنہیں “صادقین”، “صابرین”، اور “متقین” جیسے القابات سے نوازا۔

اگر آج امت مسلمہ اجتماعی طور پر دین سے منحرف ہو جائے، ملحدانہ افکار کو قبول کر لے، اور انقلابی تحریکیں دنیا پرستی، قومی مفاد یا ذاتی اغراض کی نذر ہو جائیں، تو ایک سچے مومن کو اپنی راہ بدلنے کی اجازت نہیں۔ اُس پر واجب ہے کہ وہ حق کی شمع کو تھامے رکھے، چاہے وہ اندھیری رات ہو، چاہے طوفان ہو، یا چاہے اُس کے ساتھی ایک ایک کر کے پیچھے ہٹتے جائیں۔ وہ اپنی استطاعت کے مطابق، چاہے قلم سے ہو یا زبان سے، عمل سے ہو یا دعا سے، اپنے فریضے کو ادا کرتا رہے۔

یہی وہ نقطہ ہے جو ایمان کو وقتی جذبے سے جدا کرتا ہے۔ وقتی جذبہ حالات کے زیر و بم کا شکار ہوتا ہے، جبکہ ایمان ایک اندرونی روشنی ہے جو کسی تعریف یا تنقید، تنہائی یا مقبولیت، کامیابی یا ناکامی سے متاثر نہیں ہوتی۔ یہ ایمان ہی ہے جو ہمیں انفرادی سطح پر بھی میدان میں قائم رکھتا ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو دنیا کی ہر تاریکی میں اُمید کا چراغ بن کر روشن ہوتا ہے۔

پس، مومن کی نگاہ ہمیشہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں کیا جواب دے گا۔ اُسے اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے یا نہیں، نہ کہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ اگر دنیا پیچھے ہٹ جائے تو بھی وہ آگے بڑھتا ہے، اگر سب سو جائیں تو بھی وہ جاگتا ہے، کیونکہ اُس کا مقصد فقط دنیا میں اثر ڈالنا نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا حاصل کرنا ہے۔ یہی وہ فلسفہ ہے جو ہر دور کے سچے مصلح، نبی، اور ولی نے اپنایا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ حق پر ڈٹے رہنے والے ہی دراصل وقت کے امام کے حقیقی منتظر اور دین کے اصل وفادار ہیں۔

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کا انتظار صرف وقت گزرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک فکری، روحانی، اور عملی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن کچھ افراد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تھک جاتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں یا گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے لائحہ عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ انتظار کو محض ایک تاریخی واقعہ کے منتظر رہنے کے بجائے اپنے باطن، فکر، اور کردار کی مسلسل اصلاح کے عمل میں بدل دیں۔

پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے عقیدے کی تجدید کریں۔ ظہور کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ ایک شخصیت ظاہر ہو گی، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ حق کا عالمی ظہور ہو گا، عدل غالب آئے گا، اور باطل کا خاتمہ ہو گا۔ جو لوگ تھک جاتے ہیں اُنہیں چاہیئے کہ وہ دوبارہ اس سوال پر غور کریں کہ کیا وہ صرف ظاہری نجات دہندہ کے منتظر تھے، یا وہ واقعی عدل، تقویٰ، اور توحید کے نظام کے قیام کے خواہشمند ہیں؟ اگر وہ واقعی امام کے مقصد کے حامی ہیں تو اُنہیں اپنے کردار کو اُس مقصد کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ علم و بصیرت میں اضافہ کیا جائے۔ گمراہی اکثر جہالت سے جنم لیتی ہے۔ اگر انسان قرآن، اہل بیتؑ کی سیرت، اور دینی تعلیمات کو شعوری طور پر سمجھنے کی کوشش کرے، تو اس کا عقیدہ کمزور نہیں ہوتا بلکہ مزید گہرا ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کے بنیادی اصولوں کو مضبوط کریں، عصرِ غیبت کے فلسفے کو سمجھیں، اور امامت کے جامع مفہوم پر تدبر کریں۔

تیسرا قدم عملی تعلق کا قیام ہے۔ انتظار صرف زبانی نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی ہونا چاہیے۔ نماز باجماعت، صداقت، امانت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، سماجی عدل، اور ظالم کے خلاف کھڑا ہونا — یہ سب اس عملی انتظار کا حصہ ہیں۔ اگر کوئی شخص ان اصولوں سے کٹ جائے تو وہ نہ صرف ظہور سے دور ہو جاتا ہے، بلکہ خود گمراہی کے دلدل میں جا گرتا ہے۔

چوتھا نکتہ روحانی تربیت ہے۔ امامؑ کا حقیقی منتظر وہی ہو سکتا ہے جو اپنے نفس کا مجاہد ہو، جس نے اپنی خواہشات، غصے، حسد، تکبر، اور دنیا پرستی پر قابو پایا ہو۔ ایسے افراد جو مایوس ہو جاتے ہیں اُنہیں چاہیے کہ وہ دعا، توبہ، مناجات، اور تذکیۂ نفس کے ذریعے اپنے دل کو منور کریں تاکہ امامؑ سے روحانی تعلق دوبارہ قائم ہو۔

آخر میں، یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ انتظار ایک اجتماعی تحریک ہے۔ انسان جب تنہا ہو جاتا ہے تو کمزور پڑتا ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ باایمان افراد کی مجالس میں شریک ہوں، ایسے دینی مراکز یا تحریکات کا حصہ بنیں جو امامؑ کے راستے پر کام کر رہی ہیں، تاکہ وہ تنہائی سے نکل کر امید، عمل، اور ہدایت کے ماحول میں داخل ہوں۔

امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: “جو امام قائمؑ کے انتظار میں مر جائے، وہ اس طرح ہے جیسے وہ اُن کے خیمے میں تلوار لے کر دشمن سے جنگ کر رہا ہو۔” اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انتظار صرف بیٹھے رہنے کا نام نہیں، بلکہ میدان میں ڈٹے رہنے کا نام ہے، چاہے وقت کتنا بھی طویل کیوں نہ ہو۔ جو لوگ تھک جاتے ہیں، اُنہیں چاہیئے کہ وہ خود کو نئے سرے سے متحرک کریں، ورنہ وقت اُنہیں تاریخ کے کنارے پھینک دے گا اور قافلۂ امامؑ آگے بڑھ جائے گا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1889

ٹیگز

تبصرے