تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
اکثر اوقات میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ صرف دو افراد کی کہانی نہیں رہتا، بلکہ اس کے گہرے اور دیرپا اثرات اُن معصوم بچوں پر بھی پڑتے ہیں، جو نہ کچھ کہہ سکتے ہیں، نہ کچھ سمجھا سکتے ہیں، لیکن سب کچھ محسوس کرتے ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ طلاق کے دوران والدین اپنی الجھنوں، جذبات اور زخموں میں اتنے الجھ جاتے ہیں کہ اُن ننھے دلوں کی تکلیف نظر انداز ہو جاتی ہے، جنہیں اس وقت سب سے زیادہ سہارے، محبت اور تسلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
یاد رکھیے، بچے کسی ایک فریق کے نہیں ہوتے۔ وہ دونوں کا عکس ہوتے ہیں۔ جب آپ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، تو اس نفرت کا عکس بھی بچے کی ذات پر پڑتا ہے۔
تو ایسے نازک وقت میں کیا رویہ اپنانا چاہیے؟
🔹 بچوں کو جھگڑوں کا حصہ نہ بنائیں
بچوں کو ثالث یا منصف بنانے کی کوشش نہ کریں۔ وہ نہ عدالت کے اہلکار ہیں، نہ کسی کے گواہ۔ اُنہیں صرف یہ یقین چاہیے کہ اُن کے والدین الگ ہو چکے ہوں، تب بھی دونوں اُن سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔
🔹 دوسرے والد یا والدہ کی کردارکشی سے گریز کریں
جب آپ اپنے سابق شریکِ حیات کی توہین کرتے ہیں، تو درحقیقت آپ اپنے بچے کی شناخت کے ایک حصے کو مجروح کر رہے ہوتے ہیں۔ بچہ خود کو آدھا ادھورا محسوس کرتا ہے۔
🔹 بچے کی بات سنیں، جذبات کو تسلیم کریں
اگر وہ روتا ہے، سوال کرتا ہے، خاموش رہتا ہے یا چڑچڑا ہو جاتا ہے—یہ سب اس کے دل کی کیفیت کی علامات ہیں۔ اسے اظہار کی آزادی دیں، نہ کہ خاموشی پر مجبور کریں۔
🔹 ماہرِ نفسیات سے مدد لینے سے نہ گھبرائیں
اگر بچہ غیر معمولی رویہ اختیار کرے، تو فوراً اسے سنجیدگی سے لیں۔ یہ اس کی خرابی نہیں بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا اظہار ہے، جسے سمجھنے اور سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں!
آپ دونوں نے ایک دوسرے سے راہیں جدا کی ہیں، لیکن بچے کے لیے آپ دونوں زندگی بھر والدین ہی رہیں گے۔
اور سب سے ضروری بات:
اپنے بچے کو اپنا ہتھیار نہ بنائیں۔
وہ انتقام کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک نرم، نازک اور محبت کا طلبگار دل ہے، جسے صرف سچائی، سکون اور اپنائیت کی ضرورت ہے۔
