عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقَ(علیه السلام) يَقُولُ: إِلَى أَنْ قَالَ: وَ هُوَ عِيدُ اللَّهِ الْأَكْبَرُ، وَ مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيّاً إِلَّا وَتَعَيَّدَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَ عَرَفَ حُرْمَتَهُ، وَ اسْمُهُ فِي السَّمَاءِ يَوْمُ الْعَهْدِ الْمَعْهُودِ، وَ فِي الْأَرْضِ يَوْمُ الْمِيثَاقِ الْمَأْخُوذِ وَ الْجَمْعِ الْمَشْهُودِ.
علی بن حسین عبدی کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیه السلام کو فرماتے سنا (سلسلہ کلام جاری تھا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا): “اور یہ (غدیر کا دن) الله کی سب سے بڑی عید هے۔ اور الله نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس نے اس دن (غدیر کے دن) جشن منایا اور اس کی حرمت کو پہچانا۔ اور اس کا نام آسمان میں ‘یوم العہد المعهود’ (معاہدہ کیے گئے عہد کا دن) هے، اور زمین میں ‘یوم المیثاق المأخوذ’ (لئے گئے پختہ عہد کا دن) اور ‘الجمع المشہود’ (گواہ بنائے گئے مجمع کا دن) هے۔”
تدبراتِ عمیق:
غدیر خم کا واقعہ، جسے بظاہر ایک تاریخی اور زمینی تقرری سمجھا جاتا ہے، درحقیقت امام علی (ع) کی کائناتی ولایت اور سرپرستی کے ایک گہرے، روحانی اور آسمانی عہد کا زمینی اظہار ہے۔ یہ صرف انسانی قیادت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی حقیقت کا اعلان تھا جس کی بنیادیں تخلیقِ کائنات کے ازل سے پیوست ہیں۔ امام صادق (ع) کی یہ حدیث اس تصور کو انتہائی خوبصورتی سے واضح کرتی ہے۔
آسمانی عہد کی وسعت اور ازلیت
جب حدیث غدیر کے دن کو آسمان میں “یومُ العَهدِ المَعْهُودِ” یعنی “معاہدہ کیے گئے عہد کا دن” کہتی ہے، تو یہ ایک انتہائی اہم اور عمیق نکتہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امام علی (ع) کی ولایت کا یہ عہد کوئی نیا فیصلہ یا صرف پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ الله تعالیٰ کا ازلی اور ابدی پیمان تھا جو کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے یا اس کے ابتدائی مراحل میں طے پایا تھا۔
کائناتی منصوبہ: یہ عہد الله کی حکمتِ کاملہ اور اس کے کائناتی منصوبے کا حصہ تھا۔ اگر یہ صرف انسانوں کے لیے ہوتا، تو اسے “آسمانی عہد” یا “عہدِ معهود” کہنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ یہ اصطلاح خود اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس ولایت کا دائرہ عالمِ بالا سے لے کر عالمِ اسفل تک پھیلا ہوا ہے، اور یہ پوری مخلوقات کے لیے تھی۔
ولایتِ تکوینی کی اساس: یہ آسمانی عہد اس بات کی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ امام علی (ع) کی ولایت محض تشریعی (شریعت کے احکام میں انسانی رہنمائی) نہیں بلکہ تکوینی بھی ہے۔ ولایتِ تکوینی کا مطلب ہے کہ امام (الله کے اذن سے) کائنات کے وجودی اور عملی امور میں تصرف کر سکتے ہیں، اشیاء کے نظام کو متاثر کر سکتے ہیں، اور ہر ذرے کی ہدایت اور اس کے کمال میں ان کا ایک کردار ہے۔
ہر نبی کی سنت اور کائناتی ہدایت کا تسلسل
حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ “الله نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس نے اس دن (غدیر کے دن) جشن منایا اور اس کی حرمت کو پہچانا۔” یہ جملہ غدیر کی اہمیت کو مزید وسیع کرتا ہے۔
انبیاء کا مشترکہ ورثہ: اگر حضرت آدم (ع) سے لے کر تمام انبیاء نے اس دن کو عید منایا، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دن ان کے لیے بھی کسی عظیم ولایت یا الٰہی رہنمائی کے تقرر کا دن تھا۔ یہ ولایت تمام زمانوں اور تمام مخلوقات کے لیے تھی، نہ کہ صرف نبی کے پیروکاروں کے لیے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امام علی (ع) کی ولایت اس واحد الٰہی ولایت کا تسلسل اور آخری کامل ترین ظہور ہے جو ہر دور میں کسی نہ کسی نبی یا وصی کے ذریعے ظاہر ہوتی رہی ہے۔
کائناتی رہنمائی: یہ ولایت محض انسانوں کی رہنمائی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ کائنات کے تکوینی نظام کا بھی حصہ ہے، جہاں ہر چیز الله کے اذن سے انہی کے نور اور ولایت سے فیض یاب ہوتی ہے۔ جیسے سورج کی روشنی ہر چیز پر پڑتی ہے، اسی طرح ولایتِ علی (ع) کا نور کائنات کے ہر وجود کو روشن کرتا ہے اور اسے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رکھتا ہے۔
غدیر خم: آسمانی عہد کا زمینی اظہار
غدیر خم کا واقعہ، جہاں پیغمبر (ص) نے حضرت علی (ع) کو مولا قرار دیا، دراصل اسی آسمانی عہد کا زمینی سطح پر عوامی اور حتمی اعلان تھا۔
حجتِ الٰہیہ: الله نے اس آسمانی عہد کو زمین پر واضح کر کے انسانوں پر حجت تمام کی۔ یہ اعلان انسانوں کے لیے ایک میثاق تھا، لیکن اس کی بنیاد اس عہد پر تھی جو کائنات میں پہلے سے طے شدہ تھا۔
عالمگیر ولایت کا عملی مظہر: غدیر میں حضرت علی (ع) کو انسانوں کا مولا مقرر کیا گیا، لیکن یہ ظاہری تقرر اس باطنی حقیقت کا اظہار تھا کہ وہ الله کے اذن سے پوری کائنات کے لیے روحانی اور تکوینی مولا تھے۔ یہ فرمان صرف سیاسی قیادت کا اعلان نہیں تھا بلکہ وجودی سرپرستی کا اقرار تھا۔ ان کی ذات الله کی ربوبیت کے ایک عظیم مظہر کے طور پر کائنات کے تکوینی نظام کے لیے ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
خلاصه:
امام صادق (ع) کی حدیث کی روشنی میں، غدیر خم کا واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک کائناتی حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت علی (ع) کی ولایت صرف انسانی رہنمائی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کائنات کے تکوینی امور اور دیگر مخلوقات تک پھیلا ہوا ہے۔ غدیر کا دن وہ عظیم دن ہے جب آسمانی عہد زمینی میثاق بن گیا، اور علی (ع) کی کائناتی سرپرستی کا اعلان تمام عالمین کے سامنے کر دیا گیا۔ یہ ہمیں ایک ایسی ہستی سے جوڑتا ہے جو نہ صرف ہمارے لیے رہبر هے بلکہ کائنات کے نظام اور ہر وجود کے لیے الله کے نور کا مظہر ھے۔
📚إقبال الأعمال، ج 1، ص476؛ بحار الأنوار، ج 95، ص302، ح2؛ وسائل الشيعة، ج 8، ص89، ح10154.
