کیوں بعض بڑے صحابه کو علی (ع) کی ولایت ناگوار تھی؟” ایک ایسا سوال هے جو اسلامی تاریخ کے ایک نازک اور پیچیدہ موڑ کو عمیق ترین فکری اور تاریخی بصیرت کے ساتھ سمجھنے کا مطالبه کرتا هے۔ یہ محض ایک جذباتی ردعمل نہیں تھا، بلکہ اس کے پس پردہ گہرے سماجی، سیاسی، نفسیاتی، اور یہاں تک کہ اقتصادی محرکات کارفرما تھے۔ اس ناگواری کو سمجھے بغیر، آیتِ تبلیغ میں بیان کردہ پیغمبر اکرم (ص) کے خوف کی حقیقت اور امامت کی ناگزیریت کو پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا۔
قدیم قبائلی ڈھانچه اور موروثی سرداری کا رجحان
عرب معاشرہ اسلام سے قبل صدیوں سے قبائلی عصبیت اور موروثی سرداری کے اصولوں پر قائم تھا۔ یہ تصور کہ ہر قبیلے کو قیادت کا موقع ملنا چاہیے، ان کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا۔
بنو ہاشم کی مسلسل برتری کا تصور: نبی اکرم (ص) بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے، جو قریش کا ایک ممتاز اور شریف قبیله تھا۔ نبوت کا اس قبیلے میں آنا اور پھر اس کے بعد قیادت کا بنو ہاشم ہی میں تسلسل (حضرت علی (ع) کی صورت میں) بعض دیگر قبائل، خصوصاً قریش کے طاقتور قبائل جیسے بنو امیه (جن کا اسلام سے پہلے بھی اقتدار میں گہرا حصه تھا) اور بنو تیم (جس سے ابوبکر کا تعلق تھا)، کے لیے ہضم کرنا مشکل تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جب نبوت کا دور ختم ہو گیا، تو اب قیادت کا موقع دوسروں کو ملنا چاہیے۔ یہ ایک گہرا قبائلی تعصب تھا جو بظاہر اسلام قبول کرنے کے بعد بھی مکمل طور پر زائل نہیں ہوا تھا۔
سماجی توازن کی خواہش: بعض قبائل محسوس کرتے تھے کہ بنو ہاشم کو نبوت اور پھر خلافت دونوں ملنا ایک قسم کا اقتدار کا ارتکاز ہو گا، جو ان کے نزدیک قبائلی توازن کے خلاف تھا۔
شخصی محرکات: حسد، سابقہ دشمنیاں، اور انتقام کا پوشیدہ جذبه؛
امام علی (ع) کی ذات میں ایسی خصوصیات تھیں جو بعض افراد کے لیے حسد یا سابقہ بغض کا باعث بن سکتی تھیں۔
جنگوں میں فیصلہ کن کردار: حضرت علی (ع) نے اسلام کی ابتدائی اور فیصلہ کن جنگوں (جیسے بدر، احد، خندق، خیبر) میں کفارِ قریش کے کئی بڑے سرداروں اور جنگجوؤں کو واصلِ جہنم کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے رشته دار بعد میں ایمان لے آئے تھے (فتح مکہ کے بعد بھی بہت سے لوگ بادلِ نخواسته اسلام میں داخل ہوئے تھے)۔ اگرچه ظاہراً انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن ان کے دلوں میں اپنی خاندانی بے عزتی اور مقتولین کا پوشیدہ رنج باقی رہ سکتا تھا۔ حضرت علی (ع) کا اقتدار میں آنا ان کے لیے اپنے مقتول رشتہ داروں کی یاد تازہ کرنے اور ایک طرح کی نفسیاتی ندامت کا باعث بن سکتا تھا۔
علمی و روحانی برتری کا حسد: نبی اکرم (ص) کی طرف سے حضرت علی (ع) کو حاصل ہونے والا بے مثال علمی مقام (“میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”) اور روحانی فضیلت بعض صحابه کے لیے حسد کا باعث تھی۔ یہ انسانی نفسیات کی کمزوری هے کہ انسان کبھی کبھی کسی دوسرے کی اتنی بلند فضیلت کو قبول نہیں کر پاتا، خاص طور پر جب وہ خود بھی اعلیٰ مقام رکھتا ہو۔
عمر کا عنصر: حضرت علی (ع) عمر میں بعض بڑے صحابه سے کم تھے۔ عرب معاشرے میں قیادت اور بزرگی کے لیے عمر کو بھی ایک اہم معیار سمجھا جاتا تھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ بات ناگوار تھی کہ ایک نسبتاً نوجوان شخص ان پر حکمرانی کرے۔
بے لچک عدل اور اصول پرستی کا خوف
امام علی (ع) اپنے عدل و انصاف اور اصول پرستی میں بے مثال اور بے لچک تھے۔ ان کی پوری زندگی گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ذاتی مفادات، قبائلی تعلقات، یا دباؤ کو عدل کے راستے میں حائل نہیں ہونے دیا۔
ناجائز مراعات کا خاتمه: بعض وہ لوگ جو اسلام سے پہلے قبائلی نظام میں خاص مراعات یا اثر و رسوخ کے عادی تھے، یا جنہوں نے اسلام کے بعد بھی اپنے لیے کچھ خاص حیثیتیں بنا رکھی تھیں، انہیں یہ خوف تھا کہ اگر حضرت علی (ع) حاکم بنتے ہیں تو وہ ان کی ناجائز توقعات کو پورا نہیں کریں گے اور ان کا سخت عدل انہیں بے لگام نہیں چھوڑے گا۔
معاشرتی تبدیلی کا خوف: حضرت علی (ع) کا عدل، جو کسی رو رعایت کا قائل نہیں تھا، ایک ایسے معاشرے میں جہاں ابھی بھی پرانی رسمیں اور امتیازات باقی تھے، بہت سے لوگوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی اور چیلنج تھا۔ وہ اس تبدیلی کو قبول کرنے پر آمادہ نه تھے۔
سیاسی عزائم اور اقتدار کی کشش
نبی اکرم (ص) کے وصال کے بعد، امت کی قیادت ایک انتہائی پرکشش منصب تھا، جس میں نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی اثر و رسوخ اور اختیار بھی شامل تھا۔
منصبِ خلافت کے لیے ذاتی خواہشات: بعض صحابه کے دلوں میں اس منصب کے لیے اپنے ذاتی یا اپنے قبیلے کے سیاسی عزائم موجود تھے، اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔
غدیر کے اعلان کی مختلف تاویلات: غدیر خم میں نبی اکرم (ص) نے حضرت علی (ع) کے لیے لفظ “مولا” استعمال کیا تھا۔ اگرچہ سیاق و سباق اور پیغمبر (ص) کے سوال (“الست اولی بکم من انفسکم؟” کیا میں تمہاری جانوں سے بھی زیادہ تم پر حق نہیں رکھتا؟) سے اس کا مطلب “سرپرست، حاکم، والی” واضح تھا، لیکن بعض لوگوں نے جان بوجھ کر یا نا دانستہ طور پر اس کا مفہوم محض “دوست اور مددگار” تک محدود کر دیا تاکہ حضرت علی (ع) کی سیاسی و حکومتی ولایت کو تسلیم نہ کرنا پڑے۔ یہ ایک دانستہ کوشش تھی کہ الٰہی تقرر کو عوامی انتخاب میں تبدیل کیا جا سکے۔
سقیفه بنی ساعدہ کا واقعه: نبی اکرم (ص) کے وصال کے فوراً بعد سقیفه بنی ساعدہ میں انصار اور مہاجرین کے بعض رہنماؤں کا اجتماع، جہاں انہوں نے اپنے اپنے دعوے پیش کیے اور بالآخر ابوبکر کو خلیفه منتخب کر لیا، اس بات کی واضح مثال هے کہ اقتدار کی کشش اور سیاسی خواہشات کس قدر غالب تھیں۔
خلاصه:
حضرت علی (ع) کی ولایت سے بعض بڑے صحابہ کی ناگواری ایک واحد وجہ کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ متعدد اور پیچیدہ عوامل کا مجموعہ تھی۔ ان میں گہرے قبائلی تعصبات، سابقہ ذاتی بغض و حسد، حضرت علی (ع) کے بے لچک عدل سے خوف، اپنے سیاسی عزائم، اور الٰہی احکامات کی اپنی خواہشات کے مطابق تاویلات شامل تھیں۔ یہ وہ انسانی کمزوریاں اور سماجی حقائق تھے جن سے نبی اکرم (ص) بخوبی واقف تھے، اور اسی لیے انہیں آیتِ تبلیغ کے نزول پر الله کی حفاظت کی ضمانت کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ یہ ناگواری اس بات کی بھی دلیل هے کہ الٰہی نظامِ امامت کے نفاذ میں کس قدر گہری رکاوٹیں اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں حائل ہو سکتی تھیں، باوجود اس کے کہ الله کا حکم واضح تھا۔
غدیر کو زندہ کریں…
آنے والے نسلوں تک حقیقت غدیر منتقل کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں…
