43

ابراھیم ع و اسماعیل ع, علی ع و حسین ع

  • نیوز کوڈ : 1807
  • 09 June 2025 - 3:18
ابراھیم ع و اسماعیل ع, علی ع و حسین ع

ابراھیم ع و اسماعیل ع, علی ع و حسین ع

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

محرم کی عزاداری اور ذوالحجہ کے ایامِ حج و قربانی اور روز غدیر محض مذہبی رسومات نہیں بلکہ تاریخِ اسلام میں یہ تینوں ایام اسلامی سیاست، اجتماعی شعور، اور حکومت الٰہی کے قیام کے اہم ترین شعائر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان تینوں مظاہر میں ایک ایسی معنوی گہرائی اور انقلابی روح کارفرما ہے جو امتِ مسلمہ کو سست روی، غلامی، اور باطل قوتوں کے غلبے سے نکال کر اللہ کی حاکمیت اور عدلِ الٰہی کے قیام کی طرف دعوت دیتی ہے۔
ذوالحجہ میں حج ایک ایسا عظیم اجتماع ہے جو ہر سال دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کو وحدت، شعور، اور اطاعتِ الٰہی کے پیغام پر اکٹھا کرتا ہے۔ حج دراصل اسلام کے سیاسی و اجتماعی پہلو کو مجسم کرتا ہے جہاں رنگ، نسل، زبان، اور جغرافیہ کی تفریق مٹ جاتی ہے اور سب ایک ملت واحدہ کی صورت میں خدائے واحد کے سامنے سراپا بندگی بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ طوافِ کعبہ صرف ایک روحانی عمل نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنی زندگی کے تمام دائروں کو اللہ کی مرکزیت کے گرد گھمائے۔ سعی بین صفا و مروہ صبر و جستجو اور قربانی حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کے جذبہ تسلیم و رضا کا اظہار ہے، جو کسی فردی عبادت تک محدود نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا درس دیتی ہے، چاہے وہ مال کی ہو، جان کی ہو یا اقتدار و مفاد کی۔ حج کی رسومات بظاہر ظاہری اعمال پر مشتمل نظر آتی ہیں، مگر ان کے اندر ایک عمیق روحانی، فکری اور انقلابی پیغام پوشیدہ ہے۔ احرام باندھنا دنیاوی وابستگیوں، طبقاتی فرق، اور ظاہری امتیازات سے نکل کر خالص عبدِ خدا بننے کا اعلان ہے۔ یہ اعلان ہے کہ بندہ اب صرف اللہ کا ہے، نہ کسی قوم، نہ کسی نسل، نہ کسی اقتدار کا نمائندہ۔ عرفات میں وقوف اللہ کی بارگاہ میں کامل عاجزی، اعترافِ بندگی، اور امت کے اجتماعی شعور کی تجدید ہے۔ مزدلفہ میں جمع ہونا خدا کی یاد میں ایک رات گزارنا، درحقیقت اس بات کا اظہار ہے کہ سچے مومن کی راتیں بھی اللہ کے ذکر سے خالی نہیں ہوتیں۔ منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنا، باطل قوتوں اور نفسِ امارہ کے خلاف عملی بغاوت کا اظہار ہے۔ قربانی دینا محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ بندہ خدا کے حکم کے لیے اپنی جان، مال، خواہشات، اور سب کچھ قربان کرنے پر آمادہ ہے۔ طوافِ کعبہ مرکزیتِ توحید کا عملی اعلان ہے کہ ہماری زندگی کا ہر دائرہ اللہ کے گرد گھومے گا۔ صفا و مروہ کی سعی ایک ماں کے صبر، امید، اور جستجو کی یادگار ہے، جو امت کو سکھاتی ہے کہ خدا کی راہ میں کبھی مایوس نہ ہو۔ ان تمام رسومات میں اللہ کی حاکمیت، انسان کی بندگی، اور امت کی وحدت کا گہرا پیغام پوشیدہ ہے جو اگر شعور کے ساتھ ادا کیا جائے تو حج ایک زندہ، متحرک اور انقلابی عبادت بن جاتی ہے۔
اسی طرح محرم بالخصوص عاشورہ کا دن، جسے عام طور پر سوگ و گریہ کے ایّام کے طور پر سمجھا جاتا ہے، درحقیقت ظلم کے خلاف قیام، حق کے لیے قربانی، اور باطل حکومت کے انکار کا دن ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام کربلا کسی شخصی اقتدار یا خاندان کے مفاد کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ ایک سیاسی اور الٰہی جدوجہد تھی تاکہ دینِ محمدیؐ کو تحریف، ملوکیت، اور جاہلیت ثانیہ سے بچایا جا سکے۔ امام حسینؑ نے جس قربانی کا مظاہرہ کیا وہ محض شہادت نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ اور پروگرام ہے، جو امام علیؑ کے سیاسی فلسفے اور حکومتِ عدل کے خواب کی عملی تکمیل کی راہ دکھاتا ہے۔
کربلا کی جنگ، ایک ایسی سیاسی بغاوت تھی جو وقت کے فاسق، جابر اور طاغوتی نظام کے خلاف ایک الٰہی حکومت کے قیام کی بنیاد رکھ رہی تھی۔ امام حسینؑ نے مدینہ سے نکلنے سے لے کر کربلا کے میدان تک مسلسل یہی پیغام دیا کہ ان کا قیام فقط اصلاحِ امت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اور اللہ و رسولؐ کی اصل سنت کو زندہ کرنے کے لیے ہے۔ یہ تمام نعرے اور مقاصد کسی روحانی مشق یا اخلاقی تحریک تک محدود نہیں بلکہ عملی سیاست، حکومت، اور نظامِ عدل کے قیام کا علَم بلند کرنے کی علامتیں ہیں۔ عزاداری کی رسومات جیسے ماتم، نوحہ، جلوس، تعزیہ، اور مجالس محض جذباتی اظہارِ غم نہیں بلکہ ایک زندہ سیاسی شعور کی علامتیں ہیں۔ مجلس میں امام حسینؑ کے قیام کا تذکرہ امت کو ظلم کے خلاف بیدار کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ نوحہ اور ماتم، مظلوم کے ساتھ عملی ہمدردی کا اعلان اور ظالم کے خلاف اعلانِ براءت ہوتے ہیں۔ جلوس سڑکوں پر نکل کر یہ پیغام دیتا ہے کہ حسینؑ کا مشن محصور نہیں بلکہ عوامی اور علنی تھا، جو باطل حکومت کو للکارنے کا ایک مسلسل عمل ہے۔ تعزیہ یا علم، اہلِ بیتؑ کی قیادت اور عدل پر مبنی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں، جنہیں ہاتھوں میں اٹھا کر عزادار گویا اس نظام کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ تمام رسومات دراصل اس نظریے کا اظہار ہیں کہ اگر کہیں بھی باطل نظام مسلط ہو جائے تو حسینی پیروکار خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ ہر دور میں یزید وقت کے خلاف قیام کریں گے، چاہے اس کے لیے جان، مال یا وقت کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ عزاداری اس طرح ایک دائمی سیاسی احتجاج، شعور کی بیداری، اور اسلامی حکومت کے اصولوں کی یاد دہانی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
لہٰذا اگر ایک طرف حج کا اجتماع امت کو اللہ کی حاکمیت اور امت واحدہ کی اجتماعی طاقت کی یاد دہانی کراتا ہے تو دوسری طرف محرم کا پیغام اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ اگر امت میں عدلِ الٰہی مفقود ہو جائے، اگر حکمرانی اللہ کے بجائے طاغوت کے ہاتھوں میں آ جائے، تو پھر ہر مؤمن پر واجب ہے کہ وہ امام حسینؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس باطل نظام کے خلاف قیام کرے، چاہے اس کے لیے قربانی کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔
دونوں شعائر دراصل ایک ہی مقصد کے دو مظاہر ہیں۔ ایک امت کی ترتیب اور اجتماعیت کی صورت میں حکمتِ الٰہی کا اظہار ہے، اور دوسرا اس اجتماعیت کی روح میں اگر فساد داخل ہو جائے تو اس کی تطہیر کے لیے انقلابی اقدام کا پیغام۔ حج امت کی وحدت کو منظم کرتا ہے اور محرم اس وحدت کو حق کے راستے پر باقی رکھنے کے لیے بیداری کی چنگاری روشن کرتا ہے۔ حج سے ہم اسلامی حکومت کی بنیادیں سیکھتے ہیں اور محرم سے ہم اسے بچانے اور قربانی دینے کا ہنر۔
یہ دونوں دینی شعائر اگر صرف رسومات کی صورت میں انجام دیے جائیں اور ان کے انقلابی اور سیاسی مضامین سے غفلت برتی جائے تو امت فقط ظاہر پرست، بے شعور اور بے مقصد ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن اگر ان شعائر کو قرآن، سنت اور سیرتِ معصومینؑ کی روشنی میں سمجھا جائے تو یہ شعورِ دینی، غیرتِ ایمانی، اور قیامِ عدل کی ایسی تحریک بن سکتے ہیں جو امت کو ظالموں کے پنجوں سے نکال کر خالصتاً اللہ کی حکومت کے زیرِ سایہ لے آئے۔
پس، محرم کی عزاداری اور ذوالحجہ کی قربانی اگر ایک شعوری، ایمانی اور سیاسی نقطۂ نظر سے ادا کی جائیں تو یہ امت مسلمہ کو نہ صرف اس کی اصل شناخت دلاتی ہیں بلکہ اسے اس کی عالمی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ وہ ظالموں کے خلاف قیام کرے، دین کے نام پر بنائے گئے طاغوتی نظاموں کو رد کرے، اور زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے ہر ممکن قربانی دے۔ یہی دراصل حج ابراہیمیؑ اور حسینیت کا مشترکہ پیغام ہے: “اللہ کے لیے جیو، اللہ کے لیے مرو، اور اللہ کی حکومت کے قیام کے لیے قربانی سے نہ گھبراؤ۔”
غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حُسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

قربانیِ اسماعیلؑ اور قربانیِ حسینؑ دو عظیم الٰہی مظاہر ہیں جن میں ایک توحید کی راہ میں باپ اور بیٹے کی تسلیم و رضا کا نمونہ ہے اور دوسرا باطل کے خلاف کامل صداقت، عزیمت اور فدیہِ اسلام کی بلند ترین مثال۔ ان دونوں قربانیوں کے درمیان جو تاریخی اور فکری پُل ہے، وہ غدیر کی تاریخ اور اس کی حکمت سے جڑتا ہے۔ قربانیِ اسماعیلؑ اطاعتِ محض کا اعلان تھی، جس نے بتایا کہ اللہ کی راہ میں رشتہ، خون، خواہش اور جذبات سب قربان کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اللہ نے اس قربانی کو ایک سنتِ جاریہ میں تبدیل کر کے حج کا حصہ بنا دیا تاکہ امت ہر سال اس اطاعت و تسلیم کا سبق یاد کرے۔

اسی طرح امام حسینؑ کی قربانی، اسماعیلؑ کی روحانی وارثت کا اوجِ کمال تھی، جس نے ظلم کے خلاف قربانی کی معراج دکھائی۔ مگر ان دونوں کے درمیان غدیر کا واقعہ ایک ایسا نظریاتی سنگِ میل ہے جو اس قربانی کو راستہ، منزل اور قیادت عطا کرتا ہے۔ غدیر میں نبی اکرمؐ نے یہ اعلان فرمایا کہ اب امت کو قیادت کے باب میں گمراہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ جس طرح دینِ خدا کا نزول وحی کے ذریعے ہوا، اسی طرح اس دین کی حفاظت اور عملی تطبیق بھی اللہ کے منتخب ولی کے ذریعے ممکن ہے۔ غدیر کا اعلان صرف ایک روحانی مقامِ ولایت کا تعارف نہیں بلکہ حکومتِ الٰہی کے تسلسل اور نظامِ امامت کی بنیاد ہے۔

اگر قربانیِ اسماعیلؑ اطاعت کا سبق دیتی ہے اور قربانیِ حسینؑ ظلم کے خلاف قیام کا، تو غدیر ان دونوں کو ایک نظریہ اور نظام میں مربوط کرتی ہے۔ غدیر بتاتی ہے کہ دین صرف عبادات یا قربانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جس کی قیادت الٰہی نمائندوں کے ہاتھ میں ہونا ضروری ہے۔ اسی قیادت کے انکار نے کربلا برپا کی، اور اسی قیادت کے ساتھ وفاداری نے حسینؑ کو وارثِ ابراہیمؑ بنایا۔

غدیر کی حکمت یہ ہے کہ امت اپنی منزلِ قربانی، اپنی جنگِ حق و باطل، اور اپنی اجتماعی نجات کے سفر میں اکیلی نہ ہو، بلکہ وہ ایک الٰہی امام کی سرپرستی میں اس راہ پر گامزن ہو۔ اس لیے اسماعیلؑ کی قربانی کے بعد امامت ابراہیمؑ کو عطا ہوئی، اور حسینؑ کی قربانی بھی دراصل اسی سلسلۂ امامت کا بقا اور دفاع تھا، جس کی بنیاد غدیر میں رکھی گئی تھی۔ یوں غدیر، قربانی کے دونوں کناروں کو ایک الٰہی نظام میں باندھ دیتی ہے تاکہ قربانی محض جذبات نہ بنے، بلکہ ایک بصیرت مند جدوجہد میں ڈھل جائے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1807

ٹیگز

تبصرے