39

واقعه غدیر؛ دین کی تکمیل اور ولایتِ حقیقی کا آغاز / آیت اللہ العظمی جوادی آملی

  • نیوز کوڈ : 1795
  • 08 June 2025 - 15:53
واقعه غدیر؛ دین کی تکمیل اور ولایتِ حقیقی کا آغاز / آیت اللہ العظمی جوادی آملی

واقعه غدیر؛ دین کی تکمیل اور ولایتِ حقیقی کا آغاز / آیت اللہ العظمی جوادی آملی

آیت اللہ العظمی جوادی آملی، عصر حاضر کے ممتاز مفسر قرآن اور عارف و حکیم، عید غدیر کو نہ صرف اسلامی تاریخ کا مرکزی لمحہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے ایک روحانی، معرفتی اور الٰہی حکومت کے آغاز کی علامت قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے غدیر کی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا

“واقعه غدیر چکیده اتمام نعمت و اکمال رسالت خاتم رسولان و سرآغاز امامت وارثانِ بحق ملک و ملکوت ہے…”

یہ جملہ درحقیقت غدیر کے کائناتی اور معرفتی مقام کو ظاہر کرتا ہے۔ علامہ کے مطابق غدیر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ یہ وہ نقطہ آغاز ہے جہاں رسالت کے ظاہری باب کا اختتام ہوا اور امامت کے باطنی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کا پیغام جس کا مقصد انسانیت کی ہدایت، شریعت کا نفاذ، اور قربِ خداوندی کا راستہ ہموار کرنا تھا، وہ غدیر کے دن “اکمالِ دین” اور “اتمامِ نعمت” کے مرحلے پر پہنچا۔

غدیر کے دن جب پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا
“من کنت مولاه فهذا علی مولاه”
تو درحقیقت وہ اعلان صرف قیادت کا نہیں بلکہ اس نیابت کا تھا جو دین کے ظاہر و باطن دونوں کی نگہبانی کرے گی۔ حضرت علیؑ کو “وارثِ بحق ملک و ملکوت” کہنا اس بات کا اقرار ہے کہ ان کی امامت صرف زمینی حکومت تک محدود نہیں، بلکہ وہ الٰہی حقائق، اسرارِ شریعت، اور ولایتِ باطنی کی بھی محافظ ہے۔

علامہ جوادی آملی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غدیر کے پیغام کو صرف ایک رسمی تقریب یا تاریخی جشن کی طرح نہ دیکھا جائے بلکہ اسے معرفت، وفاداری اور ایمانی بصیرت کی بنیاد پر سمجھا جائے۔
ان کے مطابق

“غدیر نہ صرف دین کی تکمیل ہے بلکہ ایک ایسے سلسلۂ امامت کا آغاز ہے جس کے ذریعے انسان، خدا کی طرف ہدایت یافتہ راستے پر باقی رہ سکتا ہے۔”

یہی وہ امامت ہے جو عصرِ غیبت میں امام مہدیؑ کی صورت میں جاری ہے اور جو اہلِ ایمان کو معرفت، توسل اور ولایت کے ذریعے زندہ رابطے میں رکھتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1795

ٹیگز

تبصرے