آیتاللہ مصباح یزدیؒ غدیر کو ایک صرف سیاسی واقعہ نہیں بلکہ توحید، نبوت اور امامت کے تسلسل کی سب سے بلند کڑی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق
“غدیر، انسان کی عبدیت اور خدا کی ربوبیت کے درمیان الٰہی میثاق کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب خدا نے اپنی حاکمیت کو ایک بندۂ کامل کے ذریعے ظاہر کیا۔”
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر انسان خدا کو اپنا معبود مانتا ہے، تو پھر اس کی حاکمیت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ اور جب خدا نے علیؑ کی ولایت کو اپنے نبیؐ کی زبان سے بیان کیا، تو درحقیقت اس نے بتایا کہ ولایتِ علیؑ، ولایتِ الٰہی کا تسلسل ہے۔
مصباح یزدی کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ نے غدیر میں فقط علیؑ کو اپنا جانشین متعارف نہیں کرایا بلکہ “میزانِ بندگی” کو واضح کیا۔ یعنی بندگی کے کمال کا معیار وہی ہوگا جو علیؑ جیسا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فرماتے ہیں:
“غدیر، عبودیت کی سیاست ہے؛ یعنی وہ سیاست جو خدا کی بندگی کے رنگ میں رنگی گئی ہو، نہ کہ دنیاوی مفادات کی بنیاد پر۔”
ان کے خیال میں، غدیر کا پیغام یہ ہے کہ خدائی نظام صرف اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب قیادت بھی اسی کی طرف سے مقرر ہو۔ انسانی رائے یا شورا اگر ولایتِ الٰہی کو نظر انداز کرے، تو وہ نظام کبھی بھی عادلانہ اور خدائی نہیں ہو سکتا۔
آیتاللہ مصباح فرماتے ہیں
“اگر ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ حقیقی کامیابی حاصل کرے تو ہمیں علیؑ جیسے امام کی ولایت کو نہ صرف قبول کرنا ہوگا بلکہ اس کی اطاعت کو اپنے عقیدے کا حصہ بنانا ہوگا۔”
