تحریر : یداللہ صالحی
فلسفیانہ نقطہ نظر سے اسلامی حقوق بشر اور عالمی حقوق بشر کے نظریاتی بنیادوں میں فرق پایا جاتا ہے۔
جیسے ان دونوں کی معرفت شناسی ،انسان شناسی اور اقدار شناسی میں نمایاں فرق ہیں۔
1-جس طرح سے پہلے بیاں ہوچکا کہ حقوق بشر سیکولر طبیعی حقوقی اور پوزیٹویزم کے حقوقی نظام پر استوار ہے۔اور انسان کے ارادے کو ہی سبھی چیزوں کا معیار قرار دیتا ہے۔
جبکہ اسلامی حقوقِ بشر میں معیار ارادہ خدا محور و مرکز ہے۔
2-حقوق بشر میں معرفتی بنیاد عقل اور تجربہ محور ہے۔ اور الحاد ،مادہ پرستی اور معاد کا منکر اور سیکیولر بنیادوں پر استوار ہے۔اور محور ھیومینزم یا اصالت انسان ہے۔
جبکہ اسلامی حقوقِ بشر میں معرفت کی بنیاد معرفت عقل یا تجربہ میں منحصر نہیں بلکہ وحی پر استوار ہے۔
اصالت خدا کا قایل ہے۔اور ہر چیز میں مرکزیت خدا کو حاصل ہے۔انسان کے لیے معاد کا قایل ہے ۔اور انسان خود کو خدا کا عبد اور بندہ تصور کرتا ہے لہذا خدا کے ارادے کے تابع اپنی زندگی کو قرار دیتا ہے۔
لہذا اسلامی حقوق بشر ،مضبوط معقول اور مستحکم بنیادوں پر استوار ہے۔اور انسان کے لیے کرامت و شرافت کا قایل ہے ۔انسان کےلیے خالق کا معتقد ہے۔
🔸 اسلامی حقوق بشر اور عالمی حقوق بشر میں مشترکات
عالمی حقوق بشر جیسا کہ پہلے بیان کرچکا کہ یہ محض بیسویں صدی کے انسانوں کی کھوپڑی کی پیداوار نہیں بلکہ اسے دوسرے ادیان کے تعلیمات سے بھی لیا گیا ہے۔
بلکہ آزادی طلب اور مزاحمت کار لوگوں اور کمال طلب لوگوں کے افکار کا محصول ہے۔جنہوں کے انبیاء کرام کی تعلیمات سے فایدہ اٹھایا ہوتا ہے۔یا الہی پیشواؤں کے تحت تاثیر قرار پایا ہوتا ہے۔
لہذا عالمی حقوق بشر کے کچھ شقیں نہ صرف اسلامی حقوق بشر سے ٹکراؤ نہیں رکھتا بلکہ اسلامی حقوق بشر سے سازگار اور ھماھنگ ہیں ۔
جیسے انسانوں کی آزادی ،کرامت ،شرافت جیسے موضوعات میں مشترک ہیں
اس کے باوجود اختلافات بھی فروان ہیں۔
🔸 مشترک پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ
حق حیات
عالمی حقوق بشر کے شق /3 میں لکھا ہوا ہے کہ
ہر انسان کو جینے کا حق حاصل ہے۔اور آزادی کا حق حاصل ہے۔اور اپنی جان مال عزت ناموس کی تحفظ کا حق حاصل ہے۔
الف) اس قانوں کے مطابق ہر انسان کو حق حاصل ہے اور وہ اپنے حق سے چشم پوشی کرسکتا ہے۔ اور اعلامیہ حقوق بشر میں یہ استثناء کا تزکرہ نہیں۔ لہذا یوں سمجھ آتا ہے کہ ہر انسان اپنے جینے کا حق سے خود کو محروم کرکستا ہے اور خودکشی سے اپنی زندگی کا۔خاتمہ کرکستا ہے۔
ب) زندگی جینے کےلیے کسی طرح کی بھی محدودیت اور قید و پابندی کا زکر نہیں۔لہذا کسی کو حق حاصل نہیں کہ دوسروں کے زندگی کو نقصان پہنچائے ۔
لیکن دین اسلام کے حقوقی نظام حق زندگی کو نہایت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔چونکہ زندگی خدا کی طرف سے رحمت کی علامت ہے۔ اور یہ خدا کی طرف سے روح پھونکنے کا نتیجہ ہے
۔اس نظریے کی رو زندگی انسان کی قدروقیمت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
اور انسان ،امانتدار ہے۔خدا نے انسان کو زندگی بطور امانت بخشا ہے۔
دین اسلام میں نہ صرف ذمہداری کا تصور ہے بلکہ دوسروں کے زندگی کو احترام کرنے اور انکی زندگی میں تجاوز نہ کرنا اور ان کی احترام رعایت کرنا ضروری ہے ۔
تاکہ دوسروں کے زندگی محفوظ رہ سکے۔امنیت چین سکوں ہر کسی کو نصیب ہو۔
لیکن جیسا کہ پہلے عرض ہوا زندگی کا حق ابدی اور ہمشیہ کےلیے نہیں۔جب تک انسان کو یہ حق حاصل ہے وہ تکامل کرکستا ہے اور اپنے ھستی اور وجودی نقص کو برطرف کرکے تکامل پیدا کرسکتا ہے۔اور یہ خدا کی جانب سے انسانوں کو بڑی عظیم نعمت ہے لیکن اس کے علاؤہ یہ حق زندگی سلب ہوتاںہے۔
جب کوئی کسی دوسرے کی آزادی اور دوسرے کی زندگی کو خراب کرے دوسروں کو آزار و اذیت کا باعث بن جایے سماج میں قتل ڈاکہ یا خوںں خرابے کا شکار ہوجایے پھر اس شخص کی کرامت و شرافت سلب ہوجاتی ہے اس سے حق زندگی سلب ہوجاتا ہے اس کی فطری اور پیدایشی آزادی کا حق ختم ہوجاتی ہء۔
پھر اسے پھانسی یا جھاد کے زریعے لگام دیا جاتا ہے۔
🔸 کرامت انسانی کا قانون
کرامت کا لغوی معنی سخاوت ،جوان مردی ،عطا کرنا ہےاور بزرگواری اور شرافت استعمال ہوتا ہے۔
انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ محترم انداز سے زندگی گزارے ۔اور دوسرے انسانوں کے ساتھ احترام آمیز زندگی کرے ۔
حقوق بشر کے مسودے میں کرامت ذاتی کو یوں بیان کیا ہے۔
خاندان اور گھرانے کی ذاتی شرف و کرامت کا حق قابل انتقال نہیں ۔اس کی بنیاد آزادی ،عدالت اور صلح کی بنیاد پر استوار ہے ۔
سبھی انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔لہذا حقوق کے لحاظ سے سبھی مساوی ہیں۔سبھی انسان کو عقل ،ضمیر دیا گیا ہے۔
حقوق بشر کے مسودے میں شہری حقوق کا تزکرہ موجود ہے۔
سارے شہریوں کو یکساں شہری حقوق ،ازادی اور امنیت حاصل ہے۔
حقوق بشر میں ظالم جابر اور سفاک لوگوں کے حوالے سے قانون موجود ہے
البتہ اس کے باوجود حقوق بشر کے مسودے میں غیر معمولی کمزوری پایا جاتا ہے۔
حقوق بشر کے مسودے میں بیاں شدہ قوانین کےلیے عقلی فلسفی منطقی نظریاتی بنیادیں ذکر نہیں ہوا ہے۔
حقوق بشر لکھنے والوں نے اسے پیدایشی حق اور طبعیی حق قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق یہ حقوق قابل سلب نہیں ۔
جبکہ اسلامی حقوق بشر کے رو سے یہ حقوق دایمی نہیں بلکہ جوں ہی انسان اپنی کرامت و شرافت کو گنوا دے پھر وہ حقوق سلب ہوتا ہے۔
انسان سماجی مخلوق ہے۔اور انسان کی تکامل سماج کے اندر رہ کر ممکن ہے لہذا مادی اور معنوی چیزوں سے بہرہ مند ہونے کےلیے فردی طور پر اور معاشرتی طور پر وسایل فراہم ہے۔
کچھ چیزیں انسان کی کرامت کو ختم کرتی ہیں لہذا ان سے بچنا لازمی اور ضروری ہے
حقوق بشر کے مسودے میں انسانی کرامت کو مطلق اور ذاتی قرار دیا ہے۔
اگر معاشرے کے اندر انسان برا انداز سے جینا شروع کرے تو کسی کو حق نہیں کہ اسے روکے ٹوکے۔
یہاں تک کہ مقننہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس قانوں شکن انسان سے جرم اور معاشرتی برا کام چھڑانے کےلیے اقدام کرے۔
شق /5 کے مطابق کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی گناہ گار کو سزا دے جسے چنگیز خان ہو یا ہٹلر یا سٹالن کے جرایم اور ظلم و جمایت پر اسے قانونی گرفت میں لینے کا حق حاصل نہیں۔تاکہ اس مجرم کی کرامت اور عزت نفس مجروح نہ ہو!!!!!؟؟؟؟
حقوق بشر کے مسودے میں یہ موجود ہے کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔
اسلامی نقطہ نگاہ سے انسان کی کرامت دو طرح کے ہیں۔
ایک پیدایشی کرامت و شرافت اور دوسرا دینی کرامت و شرافت ۔
پہلے قسم کا کرامت و شرافت انسان جوں جوں برائی انجام دیتا ہے وہ سلب ہوتا۔ ہء۔
دوسرا قسم قانوں شکنی کرنے پر ختم ہوجاتا ہے۔گناہ کمجب ارتکاب کرتا ہے یا فساد منکرات بجا لاتا ہے تو پھر اس شخص کی کرامت سلب ہوجاتی ہے۔اب وہ محترم اور معظم نہیں رہتا ۔
اب قانونی گرفت اس پر آسانی سے لگا سکتا ہے۔سزا و عقاب دے سکتا ہے۔تاکہ دوسرے محترم انسانوں کی جان مال عزت آبرو کو اس جنایت کار کہ جرم سے بچائے اور تحفظ دے۔
اسلامی عدالت کی زمہ داری ہے کہ جو شخص دوہرے شہریت کو حامل ہو تو اس سے ویسا سلوک کرے جو ایک شہریت کا حامل ہے۔
انیں کسی قسم کی فرق و امتیاز روا نہ رکھے ۔
معاشرے کے اندر حقوق میں یکسانیت ہو۔
🔸 انسانوں کا باہمی مساوی ہونا
حقوق بشر کی رو سے سبھی انسان ایک جیسے ہیں کسی کو دوسرے پر کسی قسم کی برتری یا تفوق حاصل نہیں۔
مرد کو عورت پر اور عورت کو مرد پر کسی قسم کی برتری حاصل نہیں
مشرقی کو مغربی پر مغربی کو مشرقی انسان پر کسی فضیلت حاصل نہیں۔
مذہب ،رنگ نسل نژاد کسی بھی پہلو سے کسی کو دوسرے پر کویی برتری حاصل نہیں۔
البتہ انسانوں کا مساوی ہونے کا ہدف و مقصد قانوں میں یکسانیت ہونا ہے۔
کسی کو قانوں سے کسی قسم کی مخصوص چھوٹ حاصل نہیں ۔
انسان ہونے کے ناطے سبھی کی مذہ داریاں یکساں ہیں ۔عدالت و مساوات کی رعایت کرنا ضروری ہے۔
مرد کو عورت پر برتری نہیں ۔البتہ ذمہ داریوںیں فرق ہے۔
جبکہ دین اسلام نے 14 صدی پہلے ان سبھی قانوں کو وضع فرمایا ہے ۔تبعیص ،امتیازات کی جڑوں کو خشک کیا ہے۔
سبھی انسانوں کو باہم برادر اور بھای قرار دیا ہے۔
توحیدی آیڈیولوجی کی رو سے سبھی انسان پیدایشی طور پر ایک جیسے ہیں ۔سبھی ایک آدم کی نسل سے ہیں ۔
لہذا سب یکساں اور مساوی ہیں۔لہزا حقوقیں بھی یکساں ہیں
قانونی طور پر عدالتی طور پر معاملات میں ہر جگہ یکساں قانون اور ضابطہ مدنظر ہے۔
سب کی زمہ داریاں مشخص و معین ہیں ۔
مردہ کی جدا زمہ داریاں ہیں انکے بدنی جسمانی تقاضوں کے مطابق ان پر ذمہ داریاں عاید ہیں جبکہ مرد کی مرداانہ جسمانی ساخت اور ڈھانچے کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں
رنگ نسل زبان جغرافیائی بنیادوں پر ان کے حقوق میں کویی فرق روا نہیں۔
نابرابری اور تبعیض کو ممنوع قرار دیا ہے۔
عالم ہو یا عوام سیاست دان ہو یا رعایا سبھی کے حقوق یکساں ہیں۔
📚 منابع و حوالہ جات
1-عبداللہ جوادی آملی ،نظریہ حقوقی اسلام ،ج1ص 127-132
2-محمد تقی مصباح یزدی ،نظریہ حقوقی اسلام ج1ص 262-266
3باقر شریف القریشی ،النظام السیاسی فی الاسلام ص 210
