بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
ایران کی موجودہ اقتصادی اور سماجی صورتحال، خصوصاً مغربی دنیا کی شدید اقتصادی پابندیوں کے باوجود، ایک پیچیدہ مگر قابلِ غور ماڈل پیش کرتی ہے۔ دنیا بھر میں جب کسی ملک پر ایسی سخت پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جن کی زد میں اس کی کرنسی، بینکاری نظام، درآمد و برآمد، اور عالمی منڈی سے روابط آتے ہیں، تو عموماً ایسے ملک کے عوام کو بدترین معاشی مشکلات، قحط، بے روزگاری اور فاقہ کشی کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن ایران کے بارے میں عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ نہ صرف وہاں کا انفراسٹرکچر فعال اور ترقی یافتہ ہے، بلکہ روزمرہ زندگی میں فقر، فاقہ اور بے ترتیبی وہ انداز نہیں رکھتی جو عالمی تجزیات کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس تضاد کی بنیاد سمجھنے کے لیے ایران کے اندرونی معاشی، نظریاتی، انتظامی اور ثقافتی نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔
ایران کی معیشت میں خود کفالت کا نظریہ ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انقلابِ اسلامی (1979) کے بعد سے ہی ایران نے مغرب پر انحصار ترک کرنے اور اپنے اندرونی وسائل کو ترقی دینے کی حکمت عملی اختیار کی۔ “اقتصادِ مقاومتی” یعنی Resilient Economy کا ماڈل دراصل اسی فلسفے کا تسلسل ہے۔ یہ ماڈل نہ صرف مقامی پیداوار کو فروغ دیتا ہے بلکہ معیشت کو غیر ملکی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے طریقے بھی سکھاتا ہے۔ ایران نے زراعت، بنیادی صنعتوں، معدنیات، تیل و گیس کی پیداوار اور دیگر کلیدی شعبوں میں اپنی تکنیکی اور انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر انحصار کو کم سے کم کر دیا ہے۔
ایران ایک وسیع قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ تیل، گیس، سونا، تانبہ، لوہا، یورینیم اور دیگر قیمتی معدنیات کی بدولت ایران کے پاس نہ صرف مالیاتی طاقت موجود ہے بلکہ برآمدی طاقت بھی حاصل ہے، اگرچہ یہ عالمی پابندیوں کی وجہ سے محدود ہو چکی ہے۔ لیکن ایران نے ان برآمدات کو علاقائی سطح پر چین، بھارت، ترکی، روس، عراق اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ متبادل اقتصادی راستوں کے ذریعے جاری رکھا ہے۔ حتیٰ کہ غیر روایتی طریقوں، جیسے بارٹر ٹریڈ، مقامی کرنسیوں میں لین دین، اور درمیانی ملکوں کے ذریعے تجارت نے ایران کی معیشت کو مکمل مفلوج ہونے سے بچائے رکھا۔
ایک اور اہم پہلو ایران کے اندرونی نظامِ حکومت اور عوامی طرزِ زندگی سے متعلق ہے۔ ایران میں ریاست کی سطح پر جو خدمات عوام کو مہیا کی جاتی ہیں، وہ بہت حد تک سبسڈی پر مبنی ہیں۔ تعلیم، صحت، بجلی، گیس، پانی، حتیٰ کہ آٹا، چینی، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات پر حکومت کی جانب سے سبسڈی دی جاتی ہے۔ ایران کی حکومت نے معیشت میں سرکاری مداخلت کو سماجی فلاح و بہبود کے لیے ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے، نہ کہ صرف منافع کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے سخت معاشی حالات میں بھی عوامی ضروریات کو ترجیح دی۔
اس کے ساتھ ہی، ایرانی قوم کی اجتماعی ثقافت اور مذہبی نظریات نے ایک خاص طرز کی مزاحمتی ذہنیت پیدا کی ہے۔ ایران میں قوم پرستی اور مذہبی ولولہ اس قدر گہرا ہے کہ عوام سختیوں کو برداشت کرنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ وہ ایک عظیم مقصد کے لیے، ایک عالمی استکباری نظام کے خلاف نبردآزما ہیں، اور اس راہ میں تکلیف برداشت کرنا ایک قربانی ہے۔ اسی ذہنیت نے ایک ایسی اجتماعی نظم پیدا کی ہے جس میں فقر و فاقہ کو چھپایا نہیں گیا، بلکہ اس کا سامنا کرتے ہوئے ایک باوقار زندگی کی طرف قدم بڑھایا گیا ہے۔
ایران میں فلاحی اداروں، خیراتی تنظیموں اور مذہبی بنیادوں پر قائم کمیونٹی نیٹ ورکس کی بہتات بھی اس سماجی ہم آہنگی کو ممکن بناتی ہے۔ امامیہ کمیٹیاں، مسجدی نیٹ ورک، بسیج فورسز اور دیگر تنظیمیں روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل، تعلیم، خوراک، رہائش اور روزگار کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سب حکومتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، اور بسا اوقات وہاں بھی پہنچتے ہیں جہاں حکومتی ہاتھ نہیں پہنچتا۔
یہ تمام عوامل ایران کے اس منفرد ماڈل کو تشکیل دیتے ہیں جو مغربی سرمایہ دارانہ ماڈل سے مختلف ہے۔ ایران نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ڈبلیو ٹی او یا نیو لبرل اکنامک آرڈر جیسے اداروں یا اصولوں کی پیروی نہیں کی، بلکہ ایک ایسی معیشت کو پروان چڑھایا جو نظریاتی بنیاد پر قائم ہے، جس کی جڑیں مقامی وسائل، قومی وقار، اور خود کفالت پر ہیں۔
نتیجتاً، ایران میں کرنسی کی قدر گرنے، مہنگائی کی بلند شرح، اور بین الاقوامی تجارت میں مشکلات کے باوجود ایک ایسا معاشرہ قائم ہے جہاں عوام کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں، انفراسٹرکچر فعال ہے، اور غربت کا وہ نمایاں منظر نہیں دکھائی دیتا جو عام طور پر ایسے ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے جو عالمی نظام سے باہر ہوں۔ یہ ماڈل اگرچہ ہر ملک کے لیے قابلِ تقلید نہیں، مگر اس نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ عالمی معاشی نظام سے الگ بھی ایک خود مختار، فعال اور باعزت قومی زندگی ممکن ہے — اگر اس کے پیچھے نظریہ، نظم اور قربانی کا جذبہ ہو۔
ایران کی معیشت میں ایک اور غیر معمولی پہلو اس کی کرنسی کی صورتحال ہے۔ ریال، جو ایرانی کرنسی ہے، عالمی منڈی میں شدید زوال کا شکار رہی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات افراطِ زر نے غیر معمولی حدیں عبور کیں۔ لیکن اس کے باوجود ایران میں روزمرہ کی زندگی کسی ایسے بحران سے دوچار نہیں دکھائی دیتی جو عموماً کرنسی کے انہدام کے بعد نمودار ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب ایران کے داخلی مالیاتی اور اقتصادی نظام کی ساخت، حکومتی پالیسیوں، اور عوامی رویّے میں پوشیدہ ہے۔
پہلی بات جو سمجھنی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ایران کی معیشت “ڈالرائزڈ” نہیں ہے، یعنی وہاں کی معیشت عام طور پر ڈالر پر نہیں چلتی۔ عوامی لین دین، تنخواہیں، اشیائے ضرورت کی خرید و فروخت، تمام کچھ مقامی کرنسی یعنی ریال یا تومان میں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر ریال کی قدر گرتی ہے، لیکن داخلی نظام میں اس کا فوری اور شدید اثر ہر جگہ نہیں پہنچتا۔ جب کسی ملک کی معیشت جزوی یا مکمل طور پر ڈالر پر انحصار کرتی ہے تو کرنسی کی قدر میں معمولی سی تبدیلی بھی عام آدمی کی جیب پر براہ راست اثر ڈالتی ہے، جیسا کہ پاکستان، لبنان یا بعض افریقی ممالک میں دیکھا گیا ہے۔ ایران نے اس انحصار کو کم سے کم رکھا ہے، یہاں تک کہ بعض عالمی مالیاتی نظاموں سے خود کو عملاً علیحدہ کر لیا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایرانی حکومت نے کرنسی کے بحران سے بچاؤ کے لیے ایک متوازی زرِ مبادلہ کا نظام قائم کیا ہے۔ ایک طرف باضابطہ بینکنگ چینلز کے ذریعے حکومت اپنی کرنسی کو ایک مخصوص حد میں رکھتی ہے، اور دوسری طرف غیر رسمی منڈیوں میں کرنسی کی قیمت اپنی جگہ پر چلتی ہے۔ اس سے اگرچہ ایک نوع کی تضاد پیدا ہوتی ہے، لیکن اس تضاد کو حکومت نے سماجی سطح پر اثرانداز ہونے سے روکے رکھا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ضروری اشیاء، جن کی قیمتیں حکومت مقرر کرتی ہے یا جن پر سبسڈی دیتی ہے، وہ افراطِ زر کی لپیٹ میں نہیں آئیں، یا آئیں بھی تو ایک محدود حد تک۔ چنانچہ ایک عام ایرانی شہری کی روزمرہ کی خریداری اور بنیادی اخراجات براہِ راست عالمی کرنسی منڈی کی اُتار چڑھاؤ سے متاثر نہیں ہوتے۔
ایران کی حکومت نے کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کا حل صرف شرحِ تبادلہ کو سنبھالنے میں نہیں تلاش کیا بلکہ اس کے لیے معیشت کے اندرونی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کی کوشش کی۔ مثلاً مقامی پیداوار کو فروغ دے کر درآمدات پر انحصار کم کیا، تاکہ بیرونی کرنسی کی طلب کم سے کم ہو۔ جہاں تک ممکن ہو، ایران نے اپنی ضروریات کی اشیاء کو مقامی سطح پر تیار کرنے کو ترجیح دی، خواہ وہ ادویات ہوں، گاڑیاں، الیکٹرانکس، یا زراعت۔ اس خود کفالت نے بیرونی کرنسی پر انحصار کو محدود کر دیا، اور اس کے نتیجے میں داخلی کرنسی کی زوال پذیری کے اثرات بھی محدود ہو گئے۔
اس کے ساتھ ہی، ایرانی قوم نے کرنسی کے بحران کو ایک قومی آزمائش کے طور پر قبول کیا۔ جہاں دوسری اقوام مہنگائی اور کرنسی کے مسائل کو صرف حکومت کی ناکامی تصور کرتی ہیں، وہاں ایران میں اس کو عالمی سامراجی قوتوں کی سازش سمجھا جاتا ہے۔ عوامی ذہن میں یہ بات جاگزیں ہے کہ کرنسی کی قدر میں کمی ان کی کسی اندرونی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ مغرب کی طرف سے عائد کی جانے والی ایک اقتصادی جنگ کا حصہ ہے۔ اس سوچ نے عوام کو ذہنی طور پر تیار رکھا ہے کہ وہ وقتی مہنگائی یا کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو ایک اجتماعی قربانی کے طور پر برداشت کریں۔
ایران نے کرنسی کے بحران سے نمٹنے کے لیے سونے، زمین اور دیگر غیر نقد اثاثوں کو ایک متبادل مالی تحفظ کے طور پر فروغ دیا ہے۔ عوام کی بچتوں کو ان اشکال میں محفوظ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے اپنے سرمایہ کو صرف بینک نوٹوں یا غیر مستحکم ریال میں رکھنے کے بجائے دیگر محفوظ اور قیمتی شکلوں میں محفوظ رکھا۔ اس سے بھی معیشت میں استحکام پیدا ہوا، کیونکہ panic selling اور کرنسی کی بڑے پیمانے پر تبدیلی کی لہر پیدا نہیں ہوئی۔
بین الاقوامی سطح پر ایران نے کرنسی کے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے دو طرفہ معاہدات، بارٹر سسٹم، مقامی کرنسیوں میں لین دین، اور کرپٹو کرنسی جیسے متبادل ذرائع پر تجربات شروع کیے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے ہر ایک کو مکمل کامیابی نہیں ملی، لیکن ان سب نے مجموعی طور پر ایک ایسا ماحولیاتی نظام پیدا کیا ہے جس نے کرنسی کے بحران کو “قومی بحران” بننے سے روک دیا۔
یوں، ایران کا کرنسی ماڈل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب کسی ملک کا مالیاتی، تجارتی اور ثقافتی نظام ایک نظریاتی بنیاد پر استوار ہو، جب معیشت صرف منافع یا شرحِ نمو کے گرد نہ گھومتی ہو بلکہ خود کفالت، مزاحمت اور عدل کے اصولوں پر کھڑی ہو، تو پھر کرنسی کے زوال کی شدت بھی معاشرے کو گرا نہیں سکتی۔ یہ ماڈل اس بات کی دلیل ہے کہ کرنسی کی قدر محض عددی یا مالیاتی حقیقت نہیں بلکہ ایک قومی ارادہ، مزاحمتی شعور، اور انتظامی حکمت کا مظہر بھی ہو سکتی ہے۔
تیسری دنیا کی معیشت کا جائزہ لیں تو اس اصول کو ماننا ہوگا کہ عوامی فلاح کا تصور صرف معاشی آسودگی یا بنیادی سہولیات کی دستیابی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات سے جُڑا ہوا تصور ہے جس میں انسانی وقار، معاشرتی انصاف، مساوی مواقع، اور روحانی سکون سب شامل ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایران جیسے ماڈل سے عوامی فلاح حاصل ہو سکتی ہے تو ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران نے محض ایک معاشی ماڈل نہیں اپنایا بلکہ ایک فکری، تہذیبی، اور انقلابی راستہ اختیار کیا ہے جس کی جڑیں اسلامی تعلیمات اور نظریاتی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔
ایران نے عالمی سرمایہ دارانہ اور صہیونی کنٹرول والے نظام سے الگ ہو کر جو ماڈل اپنایا، وہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں معیشت کو عوام کی خدمت کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھا گیا نہ کہ صرف منافع کے ایک آلہ کے طور پر۔ جب کوئی ریاست اپنی معیشت کو ایسی بنیاد پر کھڑا کرتی ہے جہاں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں نہ ہو بلکہ اسے تقسیم کیا جائے، جہاں تعلیم، صحت، پانی، بجلی، گیس جیسی بنیادی سہولیات پر منافع کے بجائے خدمت کا اصول لاگو ہو، وہاں عوامی فلاح کا بیج بونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایران میں کئی عشروں سے غربت کی سطح کو قابو میں رکھا گیا ہے، اور بنیادی خدمات حتیٰ المقدور سبسڈی اور آسان دسترسی کے ذریعے عوام کو مہیا کی گئی ہیں۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ محدود وسائل اور عالمی دباؤ کے باوجود ایک ملک اگر چاہے تو ایک ایسا نظام قائم کر سکتا ہے جس میں عوام کا درد مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔
ایران کے اس ماڈل کا ایک نمایاں پہلو خود کفالت ہے، جس کا مطلب ہے کہ ریاست اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خارجی قوتوں کی محتاج نہ ہو۔ جب کوئی ملک اپنی خوراک، توانائی، ادویات، تعلیم اور تحقیق جیسے اہم شعبوں میں خود مختار ہوتا ہے تو اس کے اثرات سیدھے عوام تک پہنچتے ہیں۔ نہ صرف قیمتیں مستحکم رہتی ہیں بلکہ عالمی منڈی کی بے رحمی اور مفاد پرستی سے بھی عوام محفوظ رہتے ہیں۔ ایران نے اس خود انحصاری کو نہ صرف اپنی معیشت میں نافذ کیا بلکہ اس کے پیچھے ایک نظریاتی فہم بھی مہیا کیا، جو عوام میں مزاحمتی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ ایسی ذہنیت جس میں تکلیف کو قربانی سمجھا جاتا ہے، جس میں قناعت اور غیرت کی قدریں سرمایہ داری کی حرص اور نمود و نمائش پر غالب آتی ہیں۔
عوامی فلاح کے ایک اور اہم ستون کی حیثیت ایران میں سماجی تنظیموں، فلاحی اداروں اور مذہبی نیٹ ورک کو حاصل ہے۔ حکومت اکیلی تمام مسائل کا حل پیش نہیں کرتی بلکہ معاشرے کی سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنایا گیا ہے۔ بسیج، کمیٹیاں، مسجدی نیٹ ورک، اوقاف، اور اہلِ خیر حضرات کی مدد سے ایک ایسا سماجی تعاون وجود میں آیا ہے جو فقر، بیماری، بیروزگاری یا دیگر بحرانوں میں عوام کو سہارا دیتا ہے۔ اس طرح عوامی فلاح صرف حکومت کی طرف سے مسلط کردہ نہیں بلکہ معاشرے کے اندر سے اٹھنے والی ایک طاقت بنتی ہے۔ یہی چیز سرمایہ دار معاشروں میں مفقود ہے، جہاں ہر فرد کو نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ایران کے ماڈل سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ عوامی فلاح کا حصول صرف مالیاتی پالیسیوں سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک مضبوط ثقافتی اور اعتقادی اساس بھی ضروری ہے۔ ایران میں اہل بیتؑ کی تعلیمات، قرآنی اصول، اور اسلامی انقلاب کی روح کو نہ صرف حکومت بلکہ عوامی شعور میں بھی جگہ دی گئی ہے۔ یہی شعور عوام کو مشکل حالات میں بھی ایک مقصد کے ساتھ جینے کی طاقت دیتا ہے۔ جہاں مغربی دنیا میں فلاح کا مطلب صرف دولت کی بہتات اور ذاتی آسائش ہے، وہاں ایران جیسے نظام میں فلاح کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو باعزت زندگی، بنیادی ضروریات، اور ایک اعلیٰ مقصد میسر ہو۔
یقیناً اس ماڈل میں کمزوریاں بھی ہیں، خامیاں بھی اور چیلنجز بھی۔ مہنگائی، بیروزگاری، یا حکومتی بدانتظامی جیسے مسائل سے ایران بھی مکمل محفوظ نہیں ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ان مسائل کا حل اس فکری دائرے کے اندر تلاش کیا جاتا ہے جو عوامی فلاح کو مرکزی حیثیت دیتا ہے، نہ کہ وہ عالمی ماڈل جہاں سرمایہ، سود اور کرپشن کی بالادستی ہو۔
اگر اسلامی ممالک واقعی ایران جیسے ماڈل کو اپنائیں تو وہ نہ صرف عالمی معاشی غلامی سے نکل سکتے ہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں دولت اور اختیار چند خاندانوں یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ عوام کے نفع کے لیے کام کر رہا ہو۔ ایسے نظام میں نہ صرف روٹی، کپڑا، مکان مہیا ہو سکتا ہے بلکہ عزت، غیرت، اور شعور بھی پروان چڑھتا ہے۔ عوامی فلاح کا یہی وہ جامع تصور ہے جس کی تلاش میں دنیا سرگرداں ہے، اور جو اسلامی اصولوں میں نہایت فطری انداز سے موجود ہے، بشرطیکہ اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی جرأت کی جائے۔
آج کی دنیا میں بیشتر اسلامی ممالک ایک ایسے عالمی اقتصادی نظام کا حصہ بن چکے ہیں جو نہ صرف سرمایہ دارانہ اصولوں پر قائم ہے بلکہ اپنی گہرائی میں صہیونی مفادات کے زیرِ اثر بھی ہے۔ یہ نظام مرکزی طور پر امریکی ڈالر کی بالادستی، سودی مالیاتی اداروں، عالمی بینک، آئی ایم ایف، اور ان جیسے اداروں کے جال پر قائم ہے۔ ان اداروں کے ذریعے صرف مالیاتی کنٹرول نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی اور ثقافتی غلامی کی بنیادیں بھی مضبوط کی جاتی ہیں۔ اسلامی ممالک، جو اپنی تہذیب، مذہب اور فطری وسائل کے اعتبار سے خود کفیل ہو سکتے ہیں، اس نظام میں اس طرح الجھ چکے ہیں کہ انہیں اپنا حقیقی راستہ کھوجنے میں شدید دشواری پیش آتی ہے۔ اگر یہ ممالک واقعی اس صہیونی-سرمایہ دارانہ نظام سے علیحدگی اور آزادی چاہتے ہیں تو انہیں ایک ہمہ جہت، تدریجی مگر نظریاتی طور پر مضبوط منصوبہ بندی اپنانی ہو گی۔
سب سے پہلا مرحلہ ذہنی و فکری آزادی کا ہے۔ جب تک کسی قوم کی قیادت اور عوام اپنے ذہن میں یہ تصور نہ پیدا کریں کہ موجودہ اقتصادی نظام ایک زنجیر ہے، اور اس سے نجات ممکن اور ضروری ہے، تب تک کسی بھی عملی قدم کی بنیاد مضبوط نہیں ہو سکتی۔ اسلامی معاشروں میں قرآنی و نبوی تعلیمات کی روشنی میں ایک “عدالت محور” معیشت کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہوگا جو سود سے پاک، ذخیرہ اندوزی سے آزاد، اور دولت کی عادلانہ تقسیم پر قائم ہو۔ اس کے لیے تعلیم کے میدان سے آغاز ضروری ہے تاکہ نئی نسل سرمایہ دارانہ فکر کو تقدس کا درجہ دینے کے بجائے اسے ایک استعماری حربہ سمجھے۔
اس کے بعد معاشی خود کفالت کی طرف سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ اسلامی ممالک کو اپنے وسائل کو پہچاننا، ان پر انحصار بڑھانا، اور پیداواری نظام کو مقامی ضروریات کے مطابق استوار کرنا ہوگا۔ موجودہ درآمدی نظام، جہاں ہر شے مغرب سے آتی ہے اور اس کے بدلے ملک کی کرنسی اور خود مختاری نکل جاتی ہے، اسے ختم کر کے مقامی صنعت، زراعت، دوا سازی اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ایک نئی معیشت تعمیر کرنا ہوگی۔ یہ کام یکدم نہیں ہوگا، لیکن اگر نیت خالص اور منصوبہ بندی عملی ہو تو پانچ تا دس سال میں نمایاں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
تیسرا اہم مرحلہ مالیاتی نظام کی اصلاح ہے۔ سود پر قائم بینکاری نظام نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ عالمی اقتصادی غلامی کا سب سے مضبوط ہتھیار بھی ہے۔ اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ سود سے پاک مالیاتی ادارے قائم کریں، زکوٰۃ، خمس، وقف، اور قرضِ حسن جیسے قرآنی اصولوں پر مبنی معیشت کو فروغ دیں، اور ایسے ماڈل اپنائیں جو عوامی فلاح پر مبنی ہوں نہ کہ منافع پر۔ ایران اور بعض دیگر ممالک نے اس راہ میں ابتدائی کوششیں کی ہیں، لیکن ایک جامع، ریاستی سطح کی تحریک کی ضرورت ہے تاکہ ایک نیا مالیاتی ڈھانچہ کھڑا کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی کرنسی کے مسئلے پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ ڈالر پر انحصار اسلامی ممالک کو عالمی معیشت کی غلامی میں جکڑنے کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ اس انحصار کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی تجارت میں مقامی کرنسیوں کا استعمال، دو طرفہ یا علاقائی کرنسی بلاکس کی تشکیل، اور بارٹر سسٹم جیسے متبادل ذرائع کو اپنانا ہوگا۔ اس حوالے سے مسلم ممالک کا ایک مالیاتی بلاک، مشترکہ اسلامی کرنسی، یا ڈیجیٹل کرنسی پر مبنی متبادل نظام بھی قابلِ غور ہے، بشرطیکہ وہ سود، استحصال اور قیاس پر مبنی نہ ہو بلکہ شریعت کی بنیادوں پر استوار ہو۔
اسلامی ممالک کو اپنے باہمی اقتصادی روابط کو بھی از سرِ نو ترتیب دینا ہوگا۔ آج یہ ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت سے زیادہ مغربی طاقتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک مسلم دنیا ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرے گی، جب تک ہم ایران، ترکی، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب، مصر، الجزائر، اور دیگر ممالک کے درمیان مالیاتی اور تجارتی اتحاد نہیں بنائیں گے، تب تک ہم مغرب کے معاشی شکنجے سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ یہ اتحاد صرف مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ امتِ واحدہ کے تصور اور باہمی خود انحصاری پر مبنی ہونا چاہیے۔
اس پورے عمل میں سب سے زیادہ اہم عنصر قیادت کا ہے۔ جب تک اسلامی دنیا میں وہ قیادت پیدا نہیں ہوتی جو نبی اکرم ﷺ، امام علیؑ، یا امام خمینیؒ جیسا عزم، فہم اور روحانی شعور رکھتی ہو، یہ تبدیلی ناممکن رہے گی۔ موجودہ قیادتیں یا تو مغرب کے سامنے جھکی ہوئی ہیں یا اندرونی کرپشن اور مفادات میں الجھی ہوئی ہیں۔ ایک نئے فکری انقلاب کی ضرورت ہے جو عوام کو بیدار کرے، نظریاتی بنیاد پر سیاسی تبدیلی لائے، اور معیشت کو دوبارہ دین کے تابع کرے، نہ کہ دین کو معیشت کا تابع بنا دے۔
اس جدوجہد کا راستہ آسان نہیں ہے۔ مغرب اور اس کے آلہ کار ممالک، ادارے، میڈیا، اور حتیٰ کہ بعض داخلی طبقات اس تبدیلی کی شدید مزاحمت کریں گے۔ لیکن اگر اسلامی ممالک نے اس صہیونی اقتصادی نظام سے نجات حاصل کر لی، تو نہ صرف وہ معاشی آزادی حاصل کریں گے، بلکہ عالمی سطح پر ایک نیا، متوازن، اور انسانی اصولوں پر مبنی اقتصادی نظام متعارف کرا سکیں گے۔ یہ صرف ایک سیاسی یا اقتصادی جنگ نہیں بلکہ تہذیبی اور روحانی بقاء کی جنگ ہے، جس میں کامیابی امت کی آزادی اور ذلت کے درمیان فرق متعین کرے گی۔
