38

قربانی صرف جانور کی نہیں — نفس کی تہذیب کا سفر

  • نیوز کوڈ : 1741
  • 06 June 2025 - 2:17
قربانی صرف جانور کی نہیں — نفس کی تہذیب کا سفر

قربانی صرف جانور کی نہیں — نفس کی تہذیب کا سفر

از قلم : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

جب حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم سنا، تو یہ صرف ایک باپ اور بیٹے کے رشتے کا امتحان نہیں تھا، بلکہ انسانیت کی تاریخ میں روحانی تطہیر اور نفس کے انکار کی سب سے عظیم مثال قائم ہوئی۔

عید قربان کے دن ہم لاکھوں جانور قربان کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے نفس، انا، حسد، تکبر، حرص اور نفرت کو بھی قربان کیا؟

💠 قربانی کا اصل فلسفہ: خواہشات کی گردن پر چھری

قربانی کا مقصد محض گوشت کاٹنا یا کھال اتارنا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی وہ خصلتیں ختم کرنا ہے جو ہمیں انسان سے درندہ بنا دیتی ہیں۔

قرآن میں اللہ فرماتا ہے

> “نہ ان (قربانی کے جانوروں) کا گوشت اللہ کو پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

(سورہ الحج: 37)

یہی “تقویٰ” وہ چیز ہے جو صرف جانور کی قربانی سے نہیں آتی، بلکہ نفس کی تربیت اور خواہشات پر قابو پانے سے جنم لیتی ہے۔

 اسلامی تعلیمات کے مطابق نفس کی تین حالتیں ہیں:

نفسِ امّارہ — برائی پر اکسانے والا نفس

نفسِ لوّامہ — ضمیر کی خلش رکھنے والا نفس

نفسِ مطمئنہ — اللہ سے راضی اور اللہ کا راضی بندہ

قربانی کا اصل سفر نفسِ امّارہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا سفر ہے۔ یہ وہ جہاد ہے جسے جہادِ اکبر کہا گیا۔

🔥 آج کی قربانیاں: صرف جانور، یا کچھ اور؟

آج جب ہم قربانی کرتے ہیں، تو کیا ہم نے:

اپنے غصے کو ذبح کیا؟

اپنی خود پسندی کو چھری کے نیچے رکھا؟

اپنے اندر کے حسد، بغض، اور کینہ کو قربان کیا؟

اپنی حرام کمائی کی لذت کو مارا؟

اگر نہیں، تو پھر وہ صرف ایک رسم رہ جاتی ہے — روح کے بغیر جسم کی طرح۔

🌹 ابراہیمی پیغام: “سمعنا و اطعنا”

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنی محبتوں، تعلقات اور ترجیحات کو چھوڑ دینا ہی قربانی ہے۔

آج بھی ہم سے وہی قربانی مانگی جا رہی ہے ، اپنی سب سے عزیز شے چھوڑنا، اگر وہ اللہ کی رضا کے خلاف ہو۔

اس سال عید قربان پر جانور کی گردن پر چھری چلانے سے پہلے

اپنے نفس پر، اپنی بری عادتوں پر، اور اپنی غلط سوچوں پر چھری چلائیں۔

کیوں کہ حقیقی قربانی وہی ہے —

جو انسان کو “انسان” بنائے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1741

ٹیگز

تبصرے