بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
عزاداریٔ محرم الحرام، جہاں ایک طرف کربلا کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے، وہیں دوسری جانب یہ ایک ایسا روحانی، سماجی اور معاشی نظام بھی تشکیل دیتی ہے جس سے ایک مکمل سوسائٹی کی معیشت پر گہرا اور مثبت اثر پڑتا ہے۔ بظاہر یہ صرف مجالس، ماتم اور جلوسوں کی شکل میں نظر آتی ہے، لیکن اس کے اندر ایک زبردست “سرکولیشن آف ویلتھ” کا اصول کارفرما ہوتا ہے، جو مہینوں نہیں بلکہ پورے سال کی معیشت کو سہارا دیتا ہے۔
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ایک پورا معاشی پہیہ حرکت میں آ جاتا ہے۔ عزاداری کے انعقاد کے لیے جو بینرز، سبیلیں، لنگر، ٹینٹ، ساؤنڈ سسٹم، لائٹنگ، اور لباس تیار ہوتے ہیں، ان میں ہزاروں مزدور، کاریگر، کپڑے والے، الیکٹریشن، لوہار، درزی، ٹرانسپورٹر اور چھوٹے کاروباری شامل ہو جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے لے کر بڑے شہروں تک ہر جگہ ایک معاشی گہماگہمی پیدا ہو جاتی ہے۔
مسجدوں اور امام بارگاہوں کی مرمت اور آرائش و زیبائش ہوتی ہے۔ لنگر کے لیے دیگوں کی خریداری، سبزی، گوشت، چاول، گھی، مصالحہ جات کی کھپت میں اچانک اضافہ ہوتا ہے۔ قصائی، باورچی، مزدور، خواتین اور نوجوان سب اس نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ گلی گلی سبیلیں اور نیاز کی تقسیم کا اہتمام ہوتا ہے۔ پانی، دودھ، شربت اور دیگر اشیائے خورونوش کی فروخت اور فراہمی سے ایک مکمل لوکل اکانومی کو فروغ ملتا ہے۔
صرف یہی نہیں، عزاداری میں استعمال ہونے والے علم، تابوت، ذوالجناح، جلوس کے سامان، کپڑوں اور علامتی اشیاء کی تیاری میں بھی سیکڑوں ہنرمندوں کو کام ملتا ہے۔ غمی کی یہ عبادت، بظاہر ایک سوگوار ماحول میں، معیشت کے ایک ایسے زاویے کو جنم دیتی ہے جو مارکیٹ کے کسی بھی “سیزنل بزنس” سے کم نہیں۔
یہ پیسہ صرف چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہیں رہتا بلکہ آگے بڑھتا ہے۔ جو شخص علم بناتا ہے، وہ اس آمدنی سے اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرتا ہے، جو دیگ پکاتا ہے وہ اسی کمائی سے بچوں کی فیس دیتا ہے، سبزی والا، گوشت فروش، دودھ والا، لکڑی والا، سب اپنے اپنے شعبے میں عزاداری کے طفیل روزگار حاصل کرتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ آگے پھیلتا چلا جاتا ہے۔
پھر یہی لنگر، یہی نیاز، وہ غریب اور ضرورت مند لوگ کھاتے ہیں جنہیں سال بھر شاید ایک وقت کا کھانا بھی نصیب نہ ہو۔ کوئی بھی شخص بھوکا نہیں رہتا، نہ ذات پوچھی جاتی ہے، نہ مذہب، نہ مسلک۔ صرف “حسینؑ کا صدقہ ہے” کہہ کر سب کو کھلایا جاتا ہے۔ یہ وہ فلاحی نظام ہے جو نہ کسی حکومت کا مرہونِ منت ہے نہ کسی NGO کی اسکیم کا حصہ۔ بلکہ یہ نظام تو صرف ایک نام حسینؑ کی نسبت سے چل رہا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی جب اپنے امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں کو دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں انتظامی خرچ، کرپشن اور سست روی کا سامنا کرتے ہیں، لیکن عزاداری کے اس نظام میں بغیر کسی حکومتی عمل دخل کے ایک “direct redistribution of wealth” ہو رہا ہوتا ہے۔
عزاداری نہ صرف ہمیں روحانی طور پر بیدار رکھتی ہے بلکہ ایک مضبوط سوشل سیکیورٹی نیٹ ورک بھی مہیا کرتی ہے۔ ایک جذبہ، ایک عقیدہ، اور ایک مظلوم کی یاد، کس طرح ایک پورے معاشی چکر کو چلاتی ہے، عقل حیران رہ جاتی ہے۔
یہ غم صرف آنسو نہیں بانٹتا، بلکہ روٹی بھی بانٹتا ہے۔ یہ ماتم صرف سروں پر ہاتھ نہیں مارتا، بلکہ مزدوروں کے ہاتھوں کو روزگار دیتا ہے۔ یہ جلوس صرف سڑکوں پر نہیں نکلتا، بلکہ ہزاروں گھروں میں خوش حالی لے کر آتا ہے۔
فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ
یقیناً یہ حسینؑ کی نسبت سے جاری سلسلہ برکت کا ہی نمونہ ہے، جو نہ صرف دلوں کو زندہ رکھتا ہے بلکہ معیشت کی سانسیں بھی بحال رکھتا ہے۔
