تحریر: خانم ام فروہ
امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نہ صرف علم و معرفت کے آفتاب تھے بلکہ اخلاق و کردار کی ایسی روشن مثال تھے جس پر پورا اسلام فخر کرتا ہے۔ آپ کی سیرت کا ہر گوشہ صبر، حلم، سخاوت، انکساری اور رحم دلی کی درخشاں تصویر پیش کرتا ہے۔
آپ کی شخصیت میں عجز و انکسار اس قدر تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ جلیل القدر امام اور خراسان کے ولی عہد تھے، آپ ہمیشہ عام لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملتے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور ان کے سوالات کو صبر و محبت سے سنتے اور جواب دیتے۔
سخاوت و کرم نوازی
آپ کی سخاوت ضرب المثل تھی۔ راتوں کی تاریکی میں چھپ کر محتاجوں اور یتیموں کے گھروں تک راشن اور ضروریات پہنچانا آپ کا معمول تھا۔ یہ امداد اس قدر پوشیدہ انداز میں دی جاتی تھی کہ لینے والا بھی نہ جان پاتا کہ یہ احسان کس کا ہے۔
حسنِ اخلاق کی تعلیم
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
“نیکی یہ نہیں کہ انسان صرف اپنے مال سے دے، بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ اپنے اخلاق سے لوگوں کے دل جیتے۔”
آپ کے حسنِ خلق نے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلموں کو بھی آپ کا گرویدہ بنا دیا۔ آپ کی گفتگو، برتاؤ اور عفو و درگزر کا انداز اتنا متاثر کن تھا کہ ہر دل آپ کا اسیر ہو جاتا۔
حلم و بردباری
آپ کا حلم اس مقام پر تھا کہ دشمنوں کی تلخ باتیں بھی برداشت کر لیتے اور ان کے لیے دعا گو رہتے۔ خلیفہ وقت مأمون کی طرف سے دی گئی آزمائشوں کو آپ نے صبر و حکمت سے قبول کیا اور اہل بیت علیہم السلام کے بلند مقام کو ہر محفل میں اجاگر فرمایا۔
امام رضا علیہ السلام کی اخلاقی تعلیمات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ یہ سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت، خلوص، برداشت اور عدل و انصاف وہ بنیادی اقدار ہیں جن پر ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
خداوند کریم کے حضور دعا ہے کہ وہ ہمیں امام رعوف کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
