47

نماز کا نُور دلوں کی تاریکی کا علاج / آیت اللہ العظمٰی محمد تقی مصباح یزدی

  • نیوز کوڈ : 1671
  • 11 May 2025 - 1:30
نماز کا نُور دلوں کی تاریکی کا علاج / آیت اللہ العظمٰی محمد تقی مصباح یزدی

نماز کا نُور دلوں کی تاریکی کا علاج / آیت اللہ العظمٰی محمد تقی مصباح یزدی

انسان کبھی کبھار نفس، خواہشات یا غفلت کے سبب گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن دینِ اسلام ہمیں مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑنے کے بجائے، بار بار توبہ کے دروازے کھول کر، نجات کی روشنی دکھاتا ہے۔

آیت اللہ العظمٰی محمد تقی مصباح یزدی رحمۃ اللّٰه علیہ، جو ایک عظیم مفسرِ قرآن اور اسلامی فلسفی تھے، فرماتے ہیں:

“جب کبھی آپ گناہ میں پڑ جائیں تو اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کی کوشش کریں تاکہ نماز کا نور آپ کے سیاہ دل کو روشن کرے۔”

یہ دو رکعت نماز، نہ صرف گناہ کی تاریکی کو کم کرتی ہے، بلکہ انسان کو توبہ کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ جب بندہ رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے، تو اسے اس لمحے اپنی خطائیں، اپنی غفلت، اور اپنے گناہ شدت سے محسوس ہونے لگتے ہیں۔

“جب انسان اللّٰه تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اللّٰه تعالیٰ کے حاظر و ناظر ہونے پر متوجہ ہوتا ہے تو اپنے بُرے کام پر شرم محسوس کرتا ہے اور پچھتاوا محسوس کرتا ہے۔ یہی پچھتایا جانا توبہ کیلئے کافی ہے۔”

یہ احساسِ ندامت، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کا پہلا اور سب سے مؤثر قدم ہے۔ یہ دو رکعت سادہ سی عبادت نہیں، بلکہ روح کی تجدید اور دل کی صفائی کا ایک گہرا ذریعہ ہے۔

اگر ہم ہر لغزش کے بعد رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اپنائیں، تو نہ صرف ہمارے گناہ دھل سکتے ہیں، بلکہ دل نورِ عبادت سے منور ہو سکتا ہے۔ نماز، محض فرض نہیں بلکہ نجات کی راہ ہے – وہ راہ جو ہمیں اپنے رب سے جوڑتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1671

ٹیگز

تبصرے