34

تفسیر قرآن / سورہ العادیات آیت 6

  • نیوز کوڈ : 1367
  • 26 March 2025 - 23:11
تفسیر قرآن / سورہ العادیات آیت 6

علامہ طباطبائیؒ کے مطابق، یہ آیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور دنیاوی محبت میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو فراموش کر دیتا ہے۔ اس کی نظر ان نعمتوں پر نہیں رہتی جو اسے ملی ہیں، بلکہ وہ ان چیزوں کی […]

علامہ طباطبائیؒ کے مطابق، یہ آیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور دنیاوی محبت میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو فراموش کر دیتا ہے۔ اس کی نظر ان نعمتوں پر نہیں رہتی جو اسے ملی ہیں، بلکہ وہ ان چیزوں کی طرف دیکھتا ہے جو اسے نہیں ملی ہوتیں، اور یوں وہ ناشکری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ
“بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔”
(سورہ العادیات: 6)

قرآن مجید میں انسان کی ناشکری کی حقیقت کو کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے، اور سورہ العادیات کی یہ آیت اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائیؒ اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہاں “کنود” کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے سخت ناشکری اور احسان فراموشی۔

کنود کی تفسیر

تفسیر المیزان کے مطابق، “کنود” کا مطلب ہے وہ شخص جو نعمتیں پا کر بھی ان کا انکار کرے یا انہیں نظر انداز کرے۔ یہ لفظ اس انسان کی حالت کی وضاحت کرتا ہے جو آزمائشوں میں گھبرا جاتا ہے اور راحت میں اپنے رب کو بھول جاتا ہے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رویے کو پہچانیں اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، نہ کہ انہیں بھول جائیں۔

نتیجہ

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ناشکری انسان کی ایک عام صفت ہو سکتی ہے، لیکن ایک مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فطرت سے باہر نکلے اور اللہ کی عطا کردہ ہر نعمت پر شکر گزار بنے۔ تفسیر المیزان کے مطابق، اللہ کی ناشکری صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل اور رویے سے بھی ظاہر ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں اپنی زندگی میں شکر گزاری کو ایک عملی حقیقت بنانا چاہیے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1367

ٹیگز

تبصرے