صراط ٹائمز / علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں سورہ البقرہ کی آیت 207 کی تفسیر کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ
ترجمہ: اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان بیچ دیتے ہیں، اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے۔
تفسیر المیزان میں شانِ نزول: علامہ طباطبائیؒ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کے واقعہ لیلۃ المبیت کے بارے میں نازل ہوئی، جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کے وقت کفارِ مکہ کے قتل کے منصوبے سے بچنے کے لیے مکہ سے مدینہ روانہ ہو رہے تھے۔جب کفار نے نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی، تو اللہ کے حکم سے حضرت علیؑ نے رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونے کا فیصلہ کیا، تاکہ دشمنوں کو لگے کہ نبی اکرم ﷺ ابھی موجود ہیں، اور اس دوران آپ بحفاظت مدینہ روانہ ہو سکیں۔یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نبی اکرم ﷺ اور اسلام کی حفاظت کے لیے خود کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس بے مثال ایثار کو قرآن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
علامہ طباطبائیؒ کا نکتہ نظر:۔
.۔ يَشْرِي نَفْسَهُ” کا مطلب ہے کہ کوئی اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کر دے
یہ قربانی شعوری اور ارادی تھی—یعنی حضرت علی علیہ السلام نے صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے یہ عمل انجام دیا۔
. اس آیت میں ولایت کا ایک اشارہ موجود ہے—چونکہ علیؑ نے اپنی جان قربان کر کے دینِ اسلام کے تحفظ کی بنیاد رکھی، یہ ان کی قیادت اور دین میں اعلیٰ مقام کو واضح کرتا ہے۔
