45

دنیاوی زندگی متاعِ غرور

  • نیوز کوڈ : 1271
  • 19 March 2025 - 6:58
دنیاوی زندگی متاعِ غرور

تحریر : سید کاشف علی نقوی قم المقدسہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد بار دنیاوی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی ہے تاکہ انسان دھوکے میں نہ رہے اور اپنی اصل منزل یعنی آخرت کی طرف متوجہ ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ(سورۃ الحدید: 20) اور دنیا کی […]

تحریر : سید کاشف علی نقوی قم المقدسہ

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد بار دنیاوی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی ہے تاکہ انسان دھوکے میں نہ رہے اور اپنی اصل منزل یعنی آخرت کی طرف متوجہ ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ(سورۃ الحدید: 20)

اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سامان ہے۔

یہ آیت مبارکہ ہمیں دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ یہ محض ایک عارضی قیام ہے، اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔

اس تحریر میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں دنیاوی زندگی کی حقیقت پر غور کریں گے۔

۔*1۔دنیا کی حقیقت: قرآن کی روشنی میں*قرآن پاک میں متعدد مقامات پر دنیا کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اس کی عارضی چمک دمک میں مبتلا ہو کر اپنی آخرت کو برباد نہ کرے۔الف) دنیاوی زندگی کی حیثیت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ”(سورۃ الحدید: 20)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیاوی زندگی کھیل، تماشہ، آرائش اور فخر و غرور کا ذریعہ ہے۔ جیسے کھیتی سرسبز ہو کر زرد پڑ جاتی ہے اور پھر بکھر کر ختم ہو جاتی ہے، ویسے ہی دنیاوی زندگی عارضی ہے۔

ب) دنیا کی محبت اور انسان کی آزمائش اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ”(سورۃ آل عمران: 14)

لوگوں کے لیے خواہشات نفس کی رغبت مثلاً عورتیں، بیٹے، سونے اور چاندی کے ڈھیر لگے خزانے، عمدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتی زیب و زینت بنا دی گئی ہیں، یہ سب دنیاوی زندگی کے سامان ہیں اور اچھا انجام تو اللہ ہی کے پاس ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی آزمائش کے ذرائع کو بیان کیا ہے کہ دنیا کی زینت اور اس کی نعمتیں اصل مقصد نہیں بلکہ فانی اور وقتی ہیں، جبکہ اصل کامیابی آخرت میں ہے

۔*2۔دنیا کی حقیقت: احادیث کی روشنی میں رسول اکرم ﷺ نے بھی دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ابدیت کو واضح کیا ہے۔الف) دنیا کی حیثیت ایک مسافر کے طور پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”دنیا کی زندگی میں ایسے رہو جیسے تم کوئی مسافر ہو یا راہ چلتے ہوئے راستے کا عارضی مسافر۔”یہ حدیث ہمیں دنیا کے فریب میں مبتلا ہونے سے روکتی ہے اور ہمیں آخرت کے لیے تیاری کا درس دیتی ہے۔ب) دنیا کی قدر ایک مردہ بکری سے بھی کمحضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک بازار سے گزرے اور وہاں ایک مردہ بکری پڑی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا:> “تم میں سے کوئی اسے لینا پسند کرے گا؟”صحابہؓ نے عرض کیا: “یہ تو بیکار چیز ہے، اس میں کوئی فائدہ نہیں۔”آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے نزدیک اس مردہ بکری سے بھی زیادہ بے وقعت ہے۔

یہ حدیث ہمیں دنیا کی حیثیت کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے کہ جس دنیا کے پیچھے ہم دوڑتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک کسی حقیر چیز سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔

ج) دنیا کے مال و دولت کا فریبرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اگر ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا، اور اس کا پیٹ صرف مٹی ہی بھرے گی۔”

یہ حدیث دنیا کی لالچ اور انسان کی ناتمام خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔

۔*3۔دنیا اور آخرت میں کامیابی کا اصول*قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں سمجھ آتا ہے کہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے، اور دنیاوی زندگی صرف ایک آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

“وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ”(سورۃ الاعلیٰ: 17)

“اور آخرت بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اور آخرت کی نعمتیں دائمی ہیں، جبکہ دنیا عارضی اور فانی ہے۔آخرت میں اہلِ جنت کے لیے بے شمار نعمتیں ہوں گی، جن میں سے کچھ لکھنے لگا ہوں۔

۔ 1۔ ہمیشہ کی زندگی جنت میں موت نہیں ہوگی، ہمیشہ کی زندگی نصیب ہوگی، اور کسی قسم کی بیماری، بڑھاپا یا تکلیف نہیں ہوگی۔

۔2۔ عمدہ اور خوبصورت مکانات جنتیوں کے لیے سونے، چاندی اور جواہرات سے بنے ہوئے عظیم الشان محل ہوں گے، جن کی خوبصورتی کا دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

۔3۔ بہترین لباس اور زیورات جنتیوں کو ریشم کے کپڑے، سونے چاندی کے زیورات، عمدہ خوشبوئیں اور دیگر خوبصورت لباس عطا کیے جائیں گے۔

۔4۔ نہریں اور باغات جنت میں دودھ، شہد، پانی اور شرابِ طہور کی نہریں ہوں گی، اور ایسے سرسبز باغات ہوں گے جن میں ہر قسم کے میٹھے اور لذیذ پھل موجود ہوں گے۔

۔5۔ غم اور پریشانی سے نجات جنت میں کوئی غم، پریشانی، حسد، نفرت یا کوئی منفی جذبات نہیں ہوں گے، بلکہ ہر وقت خوشی اور راحت ہوگی۔

:دنیا میں رہنے کا صحیح طریق

دنیاوی زندگی میں کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا کو چھوڑ دیں بلکہ اس میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”(سورۃ القصص: 77)

جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کرو اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھولو۔

یہ آیت ہمیں توازن کا درس دیتی ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کریں

نتیجہ

دنیاوی زندگی حقیقت میں ایک دھوکے کا سامان ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

“وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ”(سورۃ الحدید: 20)

انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کو اپنی منزل نہ سمجھے بلکہ اسے آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔ دنیا کی محبت اور اس کی لالچ میں مبتلا ہو کر آخرت کو بھول جانا سب سے بڑی نادانی ہے۔

ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی کو گزارنا چاہیے تاکہ ہم دنیا میں بھی فلاح پائیں اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں۔اللہ ہمیں دنیا کی حقیقت سمجھنے اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1271

ٹیگز

تبصرے