صراط ٹائمز / سورہ المائدہ آیت 10 کی تفسیر علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں کچھ اس طرح فرماتے ہیں:۔
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ
ترجمہ:”اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہی لوگ دوزخ میں جلنے والے ہیں۔
تفسیر المیزان سے وضاحت:۔
علامہ طباطبائیؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ:۔
کفر اور تکذیب کی سزا:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے انجام کو بیان فرما رہے ہیں جو کفر کرتے ہیں اور اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔
یہ لوگ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، کیونکہ وہ ہدایت کو رد کر چکے ہیں۔
تقابل (موازنہ) کی حکمت:۔
پچھلی آیت (المائدہ:9) میں مومنین کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کی بشارت دی گئی تھی۔
اس آیت میں کفار کے لیے عذاب کا ذکر ہے تاکہ دونوں رویوں کے انجام کو واضح کیا جا سکے۔
اصحاب الجحیم” کا مطلب:۔
“اصحاب” کا مطلب ساتھی یا مستقل رہنے والا ہوتا ہے۔
یعنی یہ لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، کیونکہ انہوں نے حق کو جان بوجھ کر جھٹلایا۔
