صراط ٹائمز / یہ خطبہ کتاب نھج البلاغہ خطبہ 50 سے نقل کیا گیا ہے جو امام علی علیہ السلام نے اس وقت ارشاد فرمایا جب جنگ جمل کے بعد آپ کے لشکر میں بعض لوگوں نے اختلاف کا اظہار کیا اور فتنے کی فضا پیدا ہونے لگی۔ اس میں امام علیہ السلام نے دنیا کی حقیقت، آزمائش، اور حق و باطل کے درمیان تمیز کو واضح کیا ہے۔
متنِ خطبہ:”فَلَيْسَتِ الدُّنْيَا بِدَارِ صَفَاءٍ، وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ الدُّنْيَا لِمَا بَعْدَهَا، وَابْتَلَى فِيهَا أَهْلَهَا، لِيَعْلَمَ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا؛ فَلَيْسَتِ الدُّنْيَا دَارَ الْقَرَارِ، وَإِنَّمَا جُعِلَتْ مَجَازًا لِيُعْرَفَ فِيهَا أَهْلُ الطَّاعَةِ مِنْ أَهْلِ الْمَعْصِيَةِ.”
ترجمہ : یہ دنیا خالص سکون و راحت کی جگہ نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ نے اس دنیا کو آخرت کے لیے بنایا ہے اور اس میں بسنے والوں کو آزمایا ہے تاکہ یہ جانچ سکے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ پس، یہ دنیا قرار کی جگہ نہیں ہے بلکہ ایک گزرگاہ ہے، جس میں اطاعت گزاروں اور نافرمانوں کے درمیان فرق ظاہر ہو جاتا ہے۔
وضاحت:یہ خطبہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کی حقیقت عارضی ہے اور اس میں حق و باطل کے درمیان کشمکش ہمیشہ رہے گی۔
امام علی علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا کہ:دنیا خالص راحت کی جگہ نہیں – یہ ایک امتحان گاہ ہے جہاں انسانوں کو آزمایا جا رہا ہے۔یہ دنیا آخرت کے لیے بنائی گئی ہے – یعنی یہ عارضی زندگی اصل منزل نہیں بلکہ آخرت کی تیاری کا موقع ہے۔ اللہ عمل کا امتحان لے رہا ہے لوگوں کی نیت، ان کے اعمال اور حق کے ساتھ ان کی وابستگی کو جانچا جا رہا ہے۔ اطاعت گزار اور گناہگار الگ ہو جاتے ہیں – اس دنیا میں ہر شخص کا عمل اس کے مقام کا تعین کرتا ہے، اور حق و باطل میں کوئی درمیانی راہ نہیں۔
یہ خطبہ ہمیں پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو مقصد کے تحت گزارنا چاہیے، اور سچائی و حق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ غیر جانبداری ممکن نہیں۔
