صراط ٹائمز / یہ حدیث کتاب نھج البلاغہ میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے جس کا متن اور مختصر وضاحت ذیل میں ذکر کی جارہی ہے۔
قالَ الإمامُ عَلِيٌّ عليه السلام:۔
“الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لا دَارُ مَقَرٍّ، وَالنَّاسُ فِيهَا رَجُلانِ: رَجُلٌ بَاعَ فِيهَا نَفْسَهُ فَأَوْبَقَهَا، وَرَجُلٌ ابْتَاعَ نَفْسَهُ فَأَعْتَقَهَا”
ترجمہ:۔
“یہ دنیا گزرگاہ ہے، ٹھہرنے کی جگہ نہیں۔ لوگ دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو اپنی جان کو (دنیا کے عوض) بیچ کر ہلاک کر لیتا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنی جان کو (نیکی کے ذریعے) خرید کر آزاد کر لیتا ہے۔”
(نہج البلاغہ، حکمت 133)
یہ حدیث دنیا کی حقیقت اور انسان کے اختیار پر روشنی ڈالتی ہے کہ وہ یا تو دنیا کی محبت میں اپنے آپ کو گم کر دے، یا نیک اعمال کے ذریعے اپنی نجات حاصل کرے۔
