صراط ٹائمز / سورہ انفال، آیت 47 کا عربی متن اور ترجمہ درج ذیل ہے:۔
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيُصَادُّونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
ترجمہ: اور ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو اپنے گھروں سے تکبر اور لوگوں کو دکھانے کے لیے نکلے اور اللہ کی راہ میں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اللہ ان کے تمام اعمال کو گھیرنے والا ہے۔
تفسیر المیزان / اس آیت کی تفصیل میں علامہ طباطبائی (رحمت اللہ علیہ) نے فرمایا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو فتح کے بعد مال و دولت کے لالچ میں آ جاتے ہیں، حالانکہ جنگ کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور دین کی حفاظت ہے۔ اس میں مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ انہیں اس دنیاوی مال و متاع کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے جو عارضی ہے، بلکہ اللہ کی رضا اور جہاد کے اصل مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال کو صاف اور نیک بنانا چاہیے۔ اس کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع اور قربانیوں کا ثواب حاصل کرنا چاہیے۔
علامہ طباطبائی کے مطابق، اس آیت میں دنیاوی لذتوں سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کا مقصد اللہ کے راستے میں جدوجہد کرنا ہو، نہ کہ فتح حاصل کرنے کے بعد صرف مال و دولت کے پیچھے دوڑنا۔
یہ تفسیر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلامی جہاد کے دوران مسلمانوں کو کسی قسم کی فریب دہی یا دنیاوی لذتوں کی طرف نہیں مائل ہونا چاہیے، بلکہ انہیں اپنے عمل میں اخلاص اور اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
