♥53

انقلابی جدوجہد میں تھکن کا سامنا اور اس کا حل

  • نیوز کوڈ : 1183
  • 14 March 2025 - 0:23
انقلابی جدوجہد میں تھکن کا سامنا اور اس کا حل

تحریر : سید جہانزیب عابدی بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ ہر انقلابی جدوجہد میں ایک ایسا مرحلہ ضرور آتا ہے جب لوگ تھکن محسوس کرنے لگتے ہیں اور اہداف کا حصول دشوار دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب کسی راہ میں مسلسل رکاوٹیں آتی ہیں اور کامیابی فوری نظر نہیں آتی، تو […]

تحریر : سید جہانزیب عابدی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

ہر انقلابی جدوجہد میں ایک ایسا مرحلہ ضرور آتا ہے جب لوگ تھکن محسوس کرنے لگتے ہیں اور اہداف کا حصول دشوار دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب کسی راہ میں مسلسل رکاوٹیں آتی ہیں اور کامیابی فوری نظر نہیں آتی، تو مایوسی اور پژمردگی پیدا ہونے لگتی ہے۔ ایسے وقت میں سب سے ضروری امر یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان کے اصل مقصد کی یاد دہانی کرائی جائے۔ جب ایک نظریہ انسان کے دل میں جاگزین ہو جاتا ہے تو اس کی راہ میں حائل مشکلات اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، لیکن بعض اوقات خارجی حالات اور مسلسل دباؤ کے باعث انسان وقتی طور پر اپنی جدوجہد کی روح سے غافل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جدوجہد میں شریک افراد کو ان کے بنیادی نظریاتی اصولوں کی طرف دوبارہ متوجہ کرے اور انہیں اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کی حقیقت سے آگاہ رکھے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی تبدیلی قربانی، صبر اور استقامت کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ اسی لیے قرآن و احادیث میں صبر و استقامت کی بارہا تلقین کی گئی ہے۔ انقلابی تحریکوں کے کارکنان کو رسول اکرمﷺ، اہلِ بیتؑ اور دیگر عظیم ہستیوں کی زندگیاں پڑھنے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ ہر کامیاب تحریک نے مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں امام حسینؑ کی قربانی سب سے بڑی مثال کے طور پر نظر آتی ہے، جنہوں نے کربلا میں اپنے ساتھیوں کے حوصلے کو گرنے نہیں دیا، بلکہ انہیں مسلسل اپنے ہدف کی یاد دہانی کراتے رہے۔ یہی اصول کسی بھی انقلابی تحریک کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ جب تھکن محسوس ہونے لگے تو مقصد پر نظر جمانا ضروری ہو جاتا ہے۔

تاہم، نظریاتی تربیت کے ساتھ ساتھ عملی حکمتِ عملی بھی ضروری ہے۔ مسلسل جدوجہد جسمانی اور ذہنی تھکن کا باعث بنتی ہے، اور اگر کارکنان کو آرام اور فکری تجدید کا موقع نہ دیا جائے تو ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جدوجہد میں شریک افراد کو مکمل آرام دیا جائے تاکہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تازہ دم ہو سکیں۔ بعض اوقات تحریک میں شامل افراد کی ذمہ داریوں میں تنوع پیدا کرنے سے بھی ان کے اندر نیا جوش پیدا ہو سکتا ہے۔ قیادت کو چاہیے کہ وہ کارکنان کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیمِ نو کرے تاکہ وہ یکسانیت اور ذہنی بوجھ سے نکل سکیں۔

روحانی پہلو بھی انقلابی تحریکوں میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اجتماعی طور پر دعا و مناجات، ذکرِ الٰہی اور روحانی محافل کا انعقاد کارکنان کے دلوں کو قوت عطا کرتا ہے اور جذبہ قربانی کو تازہ کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کے لیے کوئی کام کر رہا ہو اور اسے مسلسل الٰہی مدد کی امید ہو، تو اس کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اجتماعی طور پر ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جہاں کارکنان کو روحانی بالیدگی حاصل ہو اور وہ اللہ کے قرب کو محسوس کریں۔

ان سب اقدامات کے ساتھ جب یقین دہانی اور حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے، تو تھکن وقتی ثابت ہوتی ہے اور انقلابی قافلہ تازہ عزم کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ تحریکوں کی کامیابی صرف مادی وسائل یا وقتی جذبات پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل دار و مدار نظریاتی پختگی، مسلسل محاسبے، اور جدوجہد کے تسلسل پر ہوتا ہے۔ اگر تھکن کے ان لمحات میں حکمت، تدبر، اور صحیح حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تو یہی تھکن ایک نئے جذبے میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو جدوجہد کو مزید قوت اور استحکام عطا کرے گی۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1183

ٹیگز

تبصرے