28

حدیث / لوگوں کو اپنی زبان کے بجائے اپنے عمل سے دین کی طرف بلاؤ ۔

  • نیوز کوڈ : 1179
  • 12 March 2025 - 2:35
حدیث / لوگوں کو اپنی زبان کے بجائے اپنے عمل سے دین کی طرف بلاؤ ۔

صراط ٹائمز / کتاب وسائل الشیعہ جلد 16, صفحہ 210 میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے جس کا متن اور اسکی وضاحت کچھ اس طرح ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ “کونوا دُعاةَ النّاسِ بِغَیرِ ألسِنَتِکُم، لِیَرَوا مِنکُمُ الوَرَعَ وَالاجتِهادَ وَالصَّلاةَ وَالخَیرَ، فَإِنَّ ذلِکَ داعِیَةٌ.” ترجمہ:۔لوگوں کو […]

صراط ٹائمز / کتاب وسائل الشیعہ جلد 16, صفحہ 210 میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے جس کا متن اور اسکی وضاحت کچھ اس طرح ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

“کونوا دُعاةَ النّاسِ بِغَیرِ ألسِنَتِکُم، لِیَرَوا مِنکُمُ الوَرَعَ وَالاجتِهادَ وَالصَّلاةَ وَالخَیرَ، فَإِنَّ ذلِکَ داعِیَةٌ.”

ترجمہ:۔
لوگوں کو اپنی زبان کے بجائے اپنے کردار سے دین کی طرف بلاؤ، تاکہ وہ تم میں تقویٰ، کوشش، نماز اور بھلائی دیکھیں، کیونکہ یہی اصل تبلیغ ہے۔”

وضاحت:۔

۔ عملی تبلیغ کی اہمیت:۔
امام صادقؑ اس حدیث میں ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ اسلام کی تبلیغ صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اعمال اور کردار سے ہوتی ہے۔ اگر ہمارا عمل اچھا ہوگا تو لوگ خود بخود اسلام کی طرف مائل ہوں گے۔

۔ تقویٰ اور پرہیزگاری:۔
امامؑ نے “الورع” (تقویٰ) پر زور دیا، یعنی ہمیں گناہوں سے بچنا چاہیے تاکہ ہمارے کردار میں پاکیزگی ہو۔ ایک دیانت دار اور متقی انسان خود بخود دوسروں کے لیے نمونہ بن جاتا ہے۔

۔ محنت اور کوشش:۔
الاجتہاد” کا مطلب ہے مسلسل محنت کرنا، چاہے وہ عبادت میں ہو، اخلاق میں ہو یا کسی بھی نیک کام میں۔ امامؑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ کامیابی کے لیے محنت ضروری ہے۔

۔ نماز کی پابندی:۔
الصلاة
” یعنی نماز کا ذکر کرکے امامؑ نے واضح کیا کہ عبادت انسان کے کردار کو سنوارتی ہے۔ ایک نمازی شخص کی زندگی میں سکون، صبر اور برکت ہوتی ہے۔

بھلائی اور نیکی:۔
الخیر” کا مطلب ہے ہر اچھا کام، جیسے دوسروں کی مدد کرنا، ایمانداری اختیار کرنا، سچ بولنا اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔ یہ چیزیں خود بخود دوسروں کو متاثر کرتی ہیں۔

نتیجہ:۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ایسا کردار اپنانا چاہیے کہ لوگ ہماری باتوں کے بجائے ہمارے عمل سے سیکھیں۔ اگر ہم سچے، ایماندار، نیک اور عبادت گزار ہوں گے تو لوگ خود بخود دین کی طرف مائل ہوں گے۔ یہی حقیقی تبلیغ ہے!۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1179

ٹیگز

تبصرے