صراط ٹائمز / کے مطابق تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائی رحمہ اللہ نے آیتِ مباہلہ (سورہ آلِ عمران 3:61) کی تفسیر نہایت گہرائی اور علمی استدلال کے ساتھ بیان کی ہے۔
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
ترجمہ:”پھر جو شخص اس (عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں) تم سے جھگڑا کرے بعد اس کے کہ تمہارے پاس علم آچکا ہے، تو ان سے کہو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تمہارے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں اور تمہاری عورتوں کو، ہم اپنی جانوں کو بلاتے ہیں اور تمہاری جانوں کو، پھر ہم دعا کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں۔”
تفسیر المیزان میں آیتِ مباہلہ کی وضاحت:۔
علامہ طباطبائی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ ایک اہم مکالمے کا نتیجہ تھا، جہاں وہ نبی اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ جب وہ اپنی ضد پر قائم رہے، تو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو مباہلہ کا حکم دیا۔
أَبْنَاءَنَا” (ہمارے بیٹے) سے مراد:۔
نبی اکرم ﷺ نے اس میں حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام کو شامل فرمایا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں “اہل بیت” کا جزو اور امت کے اعلیٰ ترین افراد میں سے ہیں۔
نِسَاءَنَا” (ہماری عورتیں) سے مراد:۔
رسول اللہ ﷺ نے صرف حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اس میں شامل فرمایا، جو ان کی عظمت و فضیلت کا واضح ثبوت ہے۔
أَنْفُسَنَا” (ہماری جانیں) سے مراد:۔
یہاں “جان” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو شامل فرمایا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک خاص نسبت حاصل ہے اور وہ دینِ اسلام میں نبی اکرم ﷺ کے سب سے قریبی فرد ہیں۔
مباہلہ کا نتیجہ:۔
جب نجران کے عیسائیوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سب سے قیمتی ہستیوں کو لے کر آئے ہیں، تو وہ مباہلہ کرنے سے خوفزدہ ہوگئے اور صلح پر آمادہ ہوگئے۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے اہل بیتؑ کی سچائی کی زبردست دلیل ہے۔
نتیجہ:۔
تفسیر المیزان میں اس آیت کو اہل بیتؑ کی فضیلت، نبی اکرم ﷺ کی صداقت، اور اسلام کی سچائی کے اہم دلائل میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام سب سے زیادہ عزیز اور دین کے ستون ہیں۔
