صراط ٹائمز / کے مطابق تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائیؒ، اس آیت (البقرہ 2:286) جو ذیل میں موجود ہے کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ:۔
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ
ترجمہ:۔
اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جو نیکی وہ کمائے وہ اسی کے لیے ہے، اور جو برائی وہ کمائے وہ اسی پر ہے۔
تکلیف کی حدود:اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک بنیادی اصول بیان کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی انسان پر اس کی طاقت اور استطاعت سے بڑھ کر کوئی حکم یا ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ شریعت کے تمام احکام اسی اصول کے مطابق ہیں۔ اگر کوئی مکلف (مکلف شخص) کسی شرعی حکم کو ادا کرنے سے قاصر ہو، تو شریعت میں اس کے لیے رعایت رکھی گئی ہے، جیسے مریض کے لیے روزے کا حکم نرم کیا جانا یا مجبوری میں کسی حرام چیز کے استعمال کی اجازت دینا۔
. جزا و سزا کا اصول:آیت کے دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ عدل کا اصول واضح فرما رہے ہیں کہ “لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ” یعنی ہر انسان کے لیے وہی ہوگا جو اس نے کمایا، اور اس پر وہی ہوگا جو اس نے جان بوجھ کر غلط کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی جزا یا سزا اس کے اپنے اعمال پر مبنی ہوگی، اور اللہ کسی پر ناحق ظلم نہیں کرے گا۔
. گناہ اور نیکی میں فرق:علامہ طباطبائیؒ “کَسَبَتْ” اور “اكْتَسَبَتْ” کے الفاظ پر غور کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:”کَسَبَتْ” نیکی کے لیے استعمال ہوا ہے، جو فطری طور پر آسان ہوتی ہے۔”اِكْتَسَبَتْ” گناہ کے لیے استعمال ہوا ہے، جو عام طور پر اضافی محنت اور ارادے سے کیا جاتا ہے، یعنی گناہ کا ارتکاب اکثر شعوری فیصلے کے تحت ہوتا ہے، جبکہ نیکی کا جذبہ فطری ہے۔
. اللہ کی رحمت اور عدل:یہ آیت بندے کے دل کو اطمینان دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف عادل ہے بلکہ رحیم بھی ہے۔ وہ بندے کے حالات کو جانتا ہے اور اسی کے مطابق اس پر ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ یہ اصول اسلامی احکام میں ہر جگہ نمایاں ہے، مثلاً نماز میں قیام اگر ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے، حج صاحب استطاعت پر فرض ہے، اور توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
نتیجہ:تفسیر المیزان کے مطابق، اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے عدل، رحمت اور شریعت میں آسانی کے اصول کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ آیت بندے کو حوصلہ دیتی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو اور جو بھی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ اس کی طاقت کے مطابق ہی ہے۔
