تحریر : سید عمار حیدر زیدی قم
آج کے دور میں کچھ لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام خواتین کو آزادی نہیں دیتا اور انہیں مردوں سے کم تر مقام دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، وہ مغربی نظریات کو “خواتین کی آزادی” کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہی نظریات عورت کو ایک تجارتی اور جنسی شے بنا کر اس کی اصل عزت اور وقار کو ختم کر رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی خواتین کے حقوق اور ان کے مقام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کی اولین خاتون، حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا)، کی زندگی سے سیکھنا ہوگا۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک آزاد، باوقار اور کامیاب خاتون تھیں، جنہوں نے اسلام کے ابتدائی ایام میں اپنا سب کچھ دین کی خدمت میں پیش کر دیا۔
حضرت خدیجہ (س) ایک خودمختار اور کامیاب بزنس وومن : اگر اسلام خواتین کو دبانے والا دین ہوتا تو حضرت خدیجہ (س) جیسی عظیم شخصیت کیسے وجود میں آتی؟ وہ عرب کی سب سے کامیاب تاجرہ تھیں، جن کی تجارت کے قافلے پورے خطے میں مشہور تھے۔ نہ صرف وہ مالی طور پر خودمختار تھیں بلکہ ان کی ایمانداری اور بہترین فیصلے انہیں عرب کی سب سے باوقار خاتون بناتے تھے۔انہوں نے اپنی مرضی سے نبی اکرم (ص) کو اپنی تجارت کے معاملات سونپے، خود انہیں شادی کا پیغام بھیجا، اور پھر اپنی دولت کو اسلام کی خدمت میں وقف کر دیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے خواتین کو مکمل خودمختاری دی، لیکن وہ خودمختاری عزت و وقار کے ساتھ تھی، نہ کہ آج کے مغربی معاشرے کی نام نہاد “آزادی” کی طرح، جہاں عورت کو آزادی کے نام پر صرف ایک جنسی شے بنا دیا گیا ہے۔
اسلام میں عورت کی حقیقی آزادی: عزت و وقار کے ساتھ مغربی معاشرہ جو آج خواتین کو آزادی کے نام پر فیشن، ماڈلنگ، فلم انڈسٹری اور اشتہارات میں پیش کرتا ہے، وہ درحقیقت عورت کی اصل غلامی ہے۔ آج مغربی دنیا کی عورت کو آزادی کے نام پر نیم عریاں لباس پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے، اسے مارکیٹنگ کا ایک ذریعہ بنا دیا گیا ہے، اور اس کا سب سے بڑا “حق” یہ بنا دیا گیا ہے کہ وہ جسم فروشی، فحاشی اور بے حیائی میں حصہ لے سکتی ہے۔اس کے برعکس، اسلام عورت کو ایک باعزت مقام دیتا ہے۔ حضرت خدیجہ (س) کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں عورت کامیاب بھی ہو سکتی ہے، خودمختار بھی، لیکن عزت اور وقار کے ساتھ۔ وہ ایک تاجرہ تھیں لیکن ان کی تجارت میں فحاشی، دھوکہ دہی یا بے حیائی کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ وہ دولت مند تھیں لیکن ان کی دولت انہیں غرور میں مبتلا نہیں کرتی تھی، بلکہ وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے میں فخر محسوس کرتی تھیں۔
مغربی غلامی آزادی کے نام پر شیطان کی اطاعت: مغربی دنیا میں عورت کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر وہ پردہ کرتی ہے، اپنے گھر اور خاندان کو اہمیت دیتی ہے، یا اپنے شوہر اور بچوں کی خدمت کرتی ہے تو وہ “پسماندہ” ہے، جبکہ اگر وہ بے حیائی کو اپناتی ہے، مختصر لباس پہنتی ہے، اور سوشل میڈیا یا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں خود کو پیش کرتی ہے تو وہ “آزاد” کہلائے گی۔یہی اصل دھوکہ ہے! یہ وہی شیطانی چال ہے جس کے ذریعے عورت کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر ایک برانڈ، ایک پروڈکٹ، اور ایک “تفریحی شے” بنا دیا گیا ہے۔ آج عورت اپنی مرضی سے نیم عریاں لباس نہیں پہنتی، بلکہ یہ فیشن انڈسٹری اور سوشل میڈیا کی زبردستی ہے۔ آج عورت خود کو “بے باک” سمجھ کر کام کر رہی ہے، لیکن حقیقت میں وہ سرمایہ داروں اور کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔
حضرت خدیجہ (س) حقیقی آزادی اور اسلام کی عزت دار خاتون: اگر عورت کی آزادی کا مطلب عزت و وقار کا تحفظ، معاشی استحکام، ازدواجی خوشی اور روحانی اطمینان ہے، تو سب سے زیادہ آزاد عورت حضرت خدیجہ (س) تھیں۔ وہ نہ صرف ایک خودمختار اور کامیاب خاتون تھیں، بلکہ ایک بہترین بیوی اور نبی اکرم (ص) کی سب سے بڑی مددگار بھی ثابت ہوئیں۔نبی اکرم (ص) نے ان کے بارے میں فرمایا:”خدیجہ وہ خاتون تھیں، جب سب نے مجھے چھوڑ دیا، تو انہوں نے میرا ساتھ دیا، جب سب نے مجھے جھٹلایا، تو انہوں نے مجھ پر ایمان لایا۔ وہ میرے لیے سکون اور رحمت کا ذریعہ تھیں۔”یہ حقیقی آزادی کی پہچان ہے! اسلام عورت کو ایسا مقام دیتا ہے جہاں وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے، نہ کہ مغربی معاشرے کی طرح جہاں عورت کو صرف ایک جسمانی کشش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
جدید مسلم خواتین کے لیے سبق: آج کی مسلم خواتین کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس راستے کو اپناتی ہیں:وہ راستہ جو حضرت خدیجہ (س) نے چنا، جہاں عورت کامیاب، خودمختار، اور باعزت ہو، اپنے شوہر، بچوں، اور دین کے ساتھ وفادار ہو، اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے۔یا وہ راستہ جو مغربی دنیا دکھا رہی ہے، جہاں عورت کو آزادی کے نام پر بے حیائی، تنہائی، اور استحصال کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔اگر حضرت خدیجہ (س) جیسی ایک عظیم اور کامیاب خاتون نے اپنی دولت کو اسلام کے لیے قربان کیا، اپنے شوہر کا ساتھ دیا، اور خود کو ایک عزت دار اور نیک خاتون کے طور پر پیش کیا، تو کیسے ممکن ہے کہ اسلام خواتین کے حقوق کو محدود کرے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو “آزادی” آج مغرب دیتا ہے، وہ درحقیقت عورت کو ایک غلام بنا رہی ہے، جبکہ جو “عزت” اسلام دیتا ہے، وہ عورت کو حقیقی آزادی عطا کرتی ہے۔
نتیجہ: عورت کی اصل آزادی اسلام میں ہے، مغربی دھوکے میں نہیں حضرت خدیجہ (س) کی زندگی کا پیغام یہ ہے کہ عورت کی اصل کامیابی اس کے وقار، عزت اور خودمختاری میں ہے، نہ کہ مغربی معاشرتی چالوں میں۔ اسلام عورت کو مکمل آزادی دیتا ہے، لیکن ایسی آزادی جو اسے ایک باعزت ماں، ایک وفادار بیوی، اور ایک کامیاب انسان بناتی ہے، نہ کہ ایسی آزادی جو اسے صرف ایک جسمانی کشش یا کاروباری پروڈکٹ بنا دے۔مسلم خواتین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مغرب کی دی گئی آزادی اصل میں غلامی ہے، اور اسلام کی دی گئی عزت اصل میں آزادی ہے۔ جو عورتیں حضرت خدیجہ (س) کے نقش قدم پر چلیں گی، وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گی۔۔
