تحریر : خانم ام فروہ
اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) ایک ایسی ہستی کے طور پر سامنے آتی ہیں جنہوں نے اپنی دولت، محبت اور قربانی سے اسلام کے ابتدائی ایام میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفیقۂ حیات تھیں بلکہ آپ کی سب سے بڑی اخلاقی، مالی اور روحانی پشت پناہ بھی ثابت ہوئیں۔ ان کی شخصیت ایثار، وفاداری اور غیر متزلزل ایمان کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔
حضرت خدیجہ (س) کی وفات: نبی اکرم (ص) کے لیے ایک عظیم صدمہحضرت خدیجہ (س) نے نبوت کے دسویں سال، رمضان المبارک میں وفات پائی۔ یہ وہی سال تھا جسے نبی اکرم (ص) نے “عام الحزن” یعنی “غم کا سال” قرار دیا، کیونکہ اسی سال حضرت ابو طالب بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ دونوں شخصیات نبی اکرم (ص) کے لیے بہت بڑی مددگار تھیں، اور ان کی جدائی نے آپ (ص) کو بے حد مغموم کر دیا۔نبی اکرم (ص) نے حضرت خدیجہ (س) کی تجہیز و تکفین کے تمام فرائض خود انجام دیے اور انہیں مکہ مکرمہ کے معروف قبرستان “حجون” (جنت المعلیٰ) میں سپرد خاک کیا۔
حضرت خدیجہ (س) کے نمایاں کارنامے
اسلام کے لیے اپنی دولت خرچ کرنا حضرت خدیجہ (س) قریش کی ایک نہایت مالدار اور باعزت خاتون تھیں، لیکن جب نبی اکرم (ص) نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اپنی ساری دولت دین کی ترویج و اشاعت میں صرف کر دی۔ رسول اللہ (ص) نے ان کے اس ایثار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
مجھے کسی کا مال اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا خدیجہ کے مال نے پہنچایا۔
ایک اور حدیث میں آپ (ص) نے فرمایا:۔
میرے دین نے دو چیزوں کے ذریعے استقامت پائی: خدیجہ (س) کے مال اور علی (ع) کی تلوار۔
سب سے پہلے اسلام قبول کرنا: حضرت خدیجہ (س) وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے نبی اکرم (ص) پر سب سے پہلے ایمان لایا اور بغیر کسی تردد کے آپ کی نبوت کی تصدیق کی۔ ابتدائی دور میں جب اسلام کو شدید مخالفت کا سامنا تھا، حضرت خدیجہ (س) نبی اکرم (ص) کے ساتھ کھڑی رہیں اور ان کی سب سے بڑی حامی بنیں۔
. نبی اکرم (ص) کی اخلاقی و روحانی حمایت :۔
جب قریش نے نبی اکرم (ص) کو جھٹلایا، ان کا مذاق اڑایا اور ان پر ظلم ڈھانے لگے، تو حضرت خدیجہ (س) نے نہ صرف انہیں تسلی دی بلکہ ہر لمحہ ان کے ساتھ رہ کر ان کی ہمت بڑھاتی رہیں۔ نبی اکرم (ص) کے لیے وہ نہ صرف ایک بیوی تھیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایک وفادار ساتھی، ایک مشیر اور ایک عظیم سہارا بھی تھیں۔
. مشکلات اور قربانیوں کا سامنا:۔
حضرت خدیجہ (س) نے صرف نبی اکرم (ص) کے ساتھ ہی نہیں بلکہ خود بھی قریش کی عورتوں اور معاشرے کے ظلم و ستم کا سامنا کیا۔ جب مکہ کے سرداروں نے مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور انہیں شعب ابی طالب میں قید کر دیا گیا، تو حضرت خدیجہ (س) نے ہر مشکل کو صبر اور استقامت سے برداشت کیا۔یہاں تک کہ جب وہ حاملہ تھیں، تب بھی مکہ کی عورتوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اسی وقت اللہ نے چار جنتی خواتین (حضرت مریم، حضرت آسیہ، حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ) کو ان کی مدد کے لیے بھیجا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت خدیجہ (س) کا مقام اللہ کے نزدیک کس قدر بلند تھا۔
نبی اکرم (ص) کی حضرت خدیجہ (س) سے لازوال محبت:۔
حضرت خدیجہ (س) کی وفات کے بعد بھی نبی اکرم (ص) ہمیشہ ان کا ذکر محبت اور احترام کے ساتھ کرتے رہے۔ ایک مرتبہ، جب ایک زوجہ نے کہا کہ اللہ نے آپ کو ان سے بہتر بیوی عطا کی ہے، تو نبی اکرم (ص) ناراض ہو گئے اور فرمایا:۔
خدیجہ وہ خاتون تھیں، جب سب نے مجھے چھوڑ دیا، تو انہوں نے میرا ساتھ دیا، جب سب نے مجھے جھٹلایا، تو انہوں نے مجھ پر ایمان لایا۔ وہ میرے لیے سکون اور رحمت کا ذریعہ تھیں اور اپنے مال سے میری مدد کرتی تھیں۔
یہ محبت اور عقیدت اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت خدیجہ (س) نبی اکرم (ص) کی زندگی میں ایک منفرد مقام رکھتی تھیں، اور ان کی یاد ہمیشہ باقی رہی۔
حضرت خدیجہ (س) کی زندگی، خواتین کے لیے ایک مثالی نمونہ :۔
حضرت خدیجہ (س) کی زندگی صبر، قربانی، محبت اور وفاداری کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے اسلام کے ابتدائی ایام میں اپنی دولت، عزت، اور حتیٰ کہ اپنی جان کو بھی دین کے لیے قربان کر دیا۔ ان کی خدمات، ایثار اور نبی اکرم (ص) سے محبت و وفاداری تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔آج بھی، ہر مسلمان عورت کے لیے حضرت خدیجہ (س) کی سیرت ایک روشن مثال ہے، جو سکھاتی ہے کہ کس طرح صبر، ایمان، اور قربانی کے ذریعے دین اور معاشرے کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ حضرت خدیجہ (س) صرف نبی اکرم (ص) کی زوجہ ہی نہیں، بلکہ اسلام کی اولین محافظہ اور خواتین کے لیے ایک عظیم مشعل راہ بھی ہیں۔
