35

نوجوانوں کی دینی رہنمائی کے فطری طریقے اور حکمت عملی

  • نیوز کوڈ : 1097
  • 07 March 2025 - 0:53
نوجوانوں کی دینی رہنمائی کے فطری طریقے اور حکمت عملی

تحریر : سید جہانزیب عابدی بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نوجوانی کا دور انسانی زندگی کا ایک نازک اور اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں جذباتی، فکری، اور روحانی نشوونما ایک خاص رخ اختیار کر رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بچے خود کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی آزادی اور […]

تحریر : سید جہانزیب عابدی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

نوجوانی کا دور انسانی زندگی کا ایک نازک اور اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں جذباتی، فکری، اور روحانی نشوونما ایک خاص رخ اختیار کر رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بچے خود کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی آزادی اور خودمختاری کے متلاشی ہوتے ہیں، اور اپنے نظریات کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ایسے میں اگر والدین اور اساتذہ دین کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کریں تو اکثر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور نوجوان دین سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ دین کی طرف ان کی رہنمائی فطری طریقے سے کی جائے، انہیں سختی کے بجائے حکمت اور نرمی سے اس راہ پر چلایا جائے، اور سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ غیر مستقیم انداز میں ان کے دلوں میں دینی جذبہ پیدا کیا جائے۔

اگر دین کو بوجھ اور جبر کے طور پر پیش کیا جائے تو نوجوانوں کے لیے اسے قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن اگر انہیں یہ بتایا جائے کہ اسلام محض چند احکام و عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، تو ان کی دلچسپی بڑھنے لگتی ہے۔ دین کی خوبصورتی کو ان کی فطرت، ان کی سوچ، اور ان کے سوالات کے مطابق پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر انہیں آزادی دی جائے کہ وہ سوال کریں، اپنی الجھنوں کا اظہار کریں، اور پھر عقل و حکمت کے ساتھ ان کی رہنمائی کی جائے، تو وہ نہ صرف دین کو سمجھنے لگیں گے بلکہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بھی بنا لیں گے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ نوجوانوں کو دین کے دشمنوں اور ان کی سازشوں سے آگاہ کیا جائے۔ انہیں یہ بتایا جائے کہ استعماری قوتیں، میڈیا، اور مغربی نظریات کیوں اسلام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، کیوں مسلمانوں کی شناخت مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور کیسے ذہنی غلامی کے جال میں نوجوانوں کو پھنسایا جاتا ہے۔ جب انہیں یہ شعور دیا جائے گا کہ دین سے دوری دراصل دشمنوں کے منصوبے کا حصہ ہے، تو وہ خود بخود دین کی گہرائی میں جانا شروع کریں گے۔ نوجوانوں کے اندر ایک فطری باغیانہ رجحان ہوتا ہے، اور اگر انہیں یہ باور کرایا جائے کہ اصل بغاوت وہی ہے جو استعماری طاقتوں کے خلاف ہو، تو وہ دین کی طرف زیادہ سنجیدگی سے متوجہ ہوں گے۔

اس مقصد کے لیے سب سے پہلے ان سے دوستی کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔ والدین اگر صرف احکامات جاری کرنے والے بن کر رہیں گے تو نوجوان ان سے دور ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ اپنے بچوں کو یہ محسوس کرائیں کہ وہ ان کے جذبات، خیالات، اور احساسات کو سمجھتے ہیں، تو بچے خود بخود ان کی بات سننے لگیں گے۔ اگر نوجوانوں کو اعتماد دیا جائے، ان سے مشورہ کیا جائے، اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جائے تو وہ دین کی باتوں کو زیادہ توجہ سے سنیں گے اور ان پر غور کریں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ، دین کو محض عبادات کی فہرست کے طور پر نہ سکھایا جائے، بلکہ اس کے عملی فوائد اور اس کی حکمتیں بھی اجاگر کی جائیں۔ نماز کو محض ایک رسمی فریضہ کہنے کے بجائے اسے ذہنی سکون اور قوتِ ارادی کا ذریعہ بنا کر دکھایا جائے۔ روزے کو صرف بھوکا رہنے کا نام نہ دیا جائے، بلکہ اس کی جسمانی اور روحانی برکات پر روشنی ڈالی جائے۔ دینی تعلیمات کو عقل و منطق کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ نوجوان اسے کسی جبر کے بجائے اپنے فائدے کی چیز سمجھیں۔

نوجوانوں کے لیے ایک مقصد متعین کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ان کے سامنے کوئی اعلیٰ ہدف نہیں ہوگا، تو وہ فضول تفریحات، عارضی لذتوں، اور وقت کے ضیاع میں مبتلا ہو جائیں گے۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ وہ اس امت کے معمار ہیں، ان کے اندر وہ صلاحیتیں ہیں جو امتِ مسلمہ کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتی ہیں، اور انہیں اپنی زندگی کو ایک عظیم مشن کے لیے وقف کرنا ہے۔ انہیں امام علیؑ، امام حسینؑ، اور دیگر اسلامی شخصیات کی جدوجہد سے روشناس کرایا جائے، تاکہ وہ انہیں اپنے لیے رول ماڈل بنائیں۔

یہ تمام چیزیں تدریجی انداز میں، حکمت کے ساتھ اور نرمی سے سکھانے کی ضرورت ہے۔ سختی کرنے سے نوجوان بغاوت پر اتر آتے ہیں، لیکن اگر انہیں محبت دی جائے، ان کی سوچ کو اہمیت دی جائے، ان سے مکالمہ کیا جائے، اور ان کی فکری نشوونما کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں، تو وہ خود بخود دین کے محافظ اور مبلغ بن جائیں گے۔ دین کوئی بیرونی چیز نہیں ہے جو ان پر تھوپی جائے، بلکہ یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ ضرورت صرف اس فطرت کو بیدار کرنے کی ہے، اور یہی سب سے مؤثر حکمتِ عملی ہے۔

والدین کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے کس فکری اور عملی راستے پر جا رہے ہیں۔ آج کے دور میں، جہاں میڈیا، تعلیمی نظام، اور سماجی ماحول نوجوانوں کے ذہنوں کو ایک مخصوص سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہا ہے، وہاں والدین کے لیے سب سے ضروری کام یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو شعوری طور پر ایک ایسا راستہ دکھائیں جو انہیں نہ صرف ایک باعزت، باوقار، اور باہدف زندگی کی طرف لے جائے، بلکہ انہیں اس عالمی ابلیسی نظام کے شکنجے سے بھی آزاد کرے، جو انسان کی اصل شناخت، ایمان، اور غیرت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی استکباری طاقتیں کیوں نوجوانوں کو بے مقصدیت، تفریحی جنون، اور فکری غلامی میں مبتلا کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ نوجوان کبھی اپنے دین، اپنی ثقافت، اور اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھیں۔ وہ کبھی بھی ظلم کے خلاف کھڑے نہ ہوں، وہ کبھی بھی یہ سوال نہ کریں کہ ہمیں کن راستوں پر چلایا جا رہا ہے، اور وہ کبھی بھی اسلامی قیادت یعنی امامت و ولایت کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان حقیقتوں سے آگاہ کریں اور انہیں بتائیں کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔

نوجوانوں کے لیے دین کو سختی اور جبر کے بجائے ایک پرکشش اور عملی نظام کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر والدین صرف نصیحتیں کرتے رہیں اور دین کو صرف ایک عبادتی رسم کے طور پر پیش کریں، تو نوجوان اسے ایک روایتی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے۔ لیکن اگر انہیں بتایا جائے کہ دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، باطل کا مقابلہ کرنے، اور خود کو دنیا میں ایک مثالی انسان بنانے کا درس دیتا ہے، تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں ایسی فضا قائم کریں جہاں دینی گفتگو صرف روایتی انداز میں نہ ہو بلکہ ایک فکری اور عملی جہت رکھتی ہو۔ بچوں سے سوال کریں، ان کی رائے جانیں، انہیں تحقیق کی طرف مائل کریں۔ انہیں بتائیں کہ دنیا میں جو جنگیں ہو رہی ہیں، جو میڈیا پر پروپیگنڈے کیے جا رہے ہیں، جو نظریاتی حملے ہو رہے ہیں، وہ دراصل اسلام کو کمزور کرنے کے لیے ہیں۔ اگر نوجوان یہ شعور حاصل کر لیں کہ انہیں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت دین سے دور کیا جا رہا ہے، تو وہ خود بخود بیدار ہو جائیں گے۔

نوجوانوں کو دین سے جوڑنے کے لیے انہیں دینی شخصیات کی مجاہدانہ زندگیوں سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ امام علیؑ، امام حسینؑ، اور دیگر معصومینؑ کی زندگیوں کو صرف تاریخی واقعات کے طور پر پیش کرنے کے بجائے، انہیں عملی نمونہ بنا کر دکھایا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ اگر یہ ہستیاں بھی خاموش رہتیں، اگر یہ بھی سازشوں کے سامنے جھک جاتیں، تو آج دین کا کوئی نام و نشان نہ ہوتا۔ جب نوجوان یہ محسوس کریں گے کہ وہ بھی اسی مشن کا حصہ بن سکتے ہیں اور ان کے سامنے بھی ایک عظیم مقصد ہے، تو وہ اپنا راستہ خود متعین کریں گے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک متبادل فکری اور عملی نظام قائم کریں۔ اگر والدین خود مغربی نظامِ تعلیم، میڈیا، اور ثقافت کو ہی زندگی کی کامیابی کا معیار سمجھیں گے، تو پھر وہ اپنے بچوں کو کیسے اس سے بچائیں گے؟ اس کے برعکس، اگر وہ اپنے گھروں میں دینی سوچ کو پروان چڑھائیں، اسلامی تاریخ اور تعلیمات پر بات کریں، اور نوجوانوں کو ایک ایسی فضا فراہم کریں جہاں وہ اپنے دین کو جدید دنیا کے مسائل کا حل سمجھ سکیں، تو وہ اس راستے کو خود اختیار کریں گے۔

نوجوانوں کو دین کی طرف مائل کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انہیں میدانِ عمل دیا جائے۔ اگر وہ صرف سننے والے بن کر رہیں گے، تو وہ جلد یا بدیر اس راستے سے ہٹ جائیں گے، لیکن اگر انہیں کسی تحریک، کسی مشن، کسی عملی سرگرمی کا حصہ بنایا جائے، تو وہ دین کے عملی تقاضے کو سمجھنے لگیں گے۔ انہیں علمی، سماجی، اور فکری محاذوں پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ محسوس کریں کہ وہ ایک بڑی تحریک کا حصہ ہیں۔

آخر میں، سب سے اہم چیز دعا اور والدین کا اپنا کردار ہے۔ اگر والدین خود اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ وہ دین کو زندگی کا حقیقی نظام سمجھتے ہیں، تو ان کے بچے بھی اسی راہ پر چلیں گے۔ اگر وہ خود بھی اسی مغربی طرزِ زندگی اور دنیاوی مادی کامیابیوں کے پیچھے دوڑیں گے، تو ان کے بچوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ دین کے راستے کو اپنائیں، غیر منطقی ہوگا۔ والدین کے کردار، گفتار، اور طرزِ زندگی میں جو اخلاص ہوگا، وہی ان کے بچوں کے دلوں پر اثر ڈالے گا۔

یہی وہ راستہ ہے جو نوجوانوں کو عالمی استکباری نظام سے آزاد کر کے، انہیں ایک حقیقی دینی، فکری، اور عملی قیادت کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر والدین یہ ذمہ داری سنجیدگی سے نبھائیں، تو وہ نہ صرف اپنی نسل کو محفوظ کر سکتے ہیں بلکہ وہ ایک ایسی نسل کی تربیت کر سکتے ہیں جو دین کے حقیقی محافظ اور مبلغ بنے گی۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1097

ٹیگز

تبصرے