تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
اور رسول نے کہا: اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔
امت مسلمہ کی غفلت پر شکوہ
اے امتِ محمد (ص)! میں تجھ سے شکوہ کروں تو کس زبان میں؟ کہاں ہے وہ ملت جسے خَیْرُ أُمَّةٍ (بہترین امت) کہا گیا؟ کہاں ہیں وہ وارثانِ علم و شجاعت جن کے آباء و اجداد نے کربلا میں سجدے میں سر کٹا کر دین کو زندہ رکھا؟ تجھے علم کی امانت سونپی گئی تھی، تُو نے اسے اغیار کے حوالے کر دیا! تجھے شجاعت کا درس دیا گیا تھا، تُو نے بزدلی اور مصلحت پسندی کو اپنا شعار بنا لیا! پھر بھی تُو اہلِ بیتِ اطہارؑ کی شفاعت کا طلبگار ہے؟علم تمہاری میراث تھی، تم نے اسے چھوڑ دیا اللہ نے سب سے پہلا حکم دیا: “اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ” (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا)۔
مگر افسوس، آج یہی امتِ مسلمہ علم سے کوسوں دور ہے۔کیا تم نے نہیں سنا کہ مولا علیؑ نے فرمایا: “العِلْمُ سُلطانٌ، مَن وَجَدَهُ صالَ بِهِ، وَمَن لَم يَجِدهُ صيلَ عَلَيهِ” (علم اقتدار ہے، جس کے پاس ہو وہ غالب آتا ہے، اور جس کے پاس نہ ہو وہ مغلوب ہو جاتا ہے)؟
مگر اے امتِ مسلمہ! آج تُو ہی مغلوب ہے، تُو ہی اغیار کی دست نگر ہے، تُو ہی دوسروں کی ایجادات اور تحقیقات پر فخر کرتا ہے، جبکہ تیرے ہی اسلاف ابنِ سینا، جابر بن حیان، نصیر الدین طوسی اور ابو ریحان البیرونی کی تحقیقات کو دنیا نے آگے بڑھایا۔ کیا تُو نے “وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ” (جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ چلو) – (سورۃ الاسراء: 36) نہیں پڑھا؟ پھر کیوں تُو اندھی تقلید میں مصروف ہے؟شجاعت تمہارا وصف تھی، مگر تم نے دنیا کی چمک پر بیچ ڈالا شجاعت اہلِ بیتؑ کا ورثہ ہے، حسین ابنِ علیؑ کے ماننے والوں کی پہچان ہے، مگر افسوس! آج یہی امت باطل کے آگے سر جھکائے بیٹھی ہے۔امام حسینؑ نے فرمایا: “موت في عزٍّ خير من حياة في ذلٍّ” (عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہے)۔ مگر تُو نے عزت کی موت کے بجائے ذلت کی زندگی کو اپنا مقدر بنا لیا! تُو ظالموں کے درباروں میں سرنگوں ہے، تُو اپنی غیرت کو دنیاوی منافع کے عوض فروخت کر چکا ہے۔ کیا تُو نے نہیں سنا کہ مولا علیؑ نے فرمایا: “لَا تَكُنْ عَبْدَ غَيْرِكَ وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ حُرًّا” (کسی غیر کا غلام نہ بن، اللہ نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے)؟پھر بھی شفاعت کے طلبگار؟اور اس سب کے باوجود، تُو رسولِ اکرمﷺ اور آلِ رسولؑ کی شفاعت کا امیدوار ہے؟ کیسی سادہ لوحی ہے! شفاعت کے حقدار وہ ہیں جو حق پر ڈٹے رہیں، جو علم و تقویٰ کے راستے پر چلیں، جو باطل کے خلاف قیام کریں، جو حسینی بنیں، جو “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو) – (سورۃ آل عمران: 103) پر عمل کریں۔امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: “مَن سَرَّهُ أن يكونَ مِن أصحابِ القائمِ فلينتظِرْ، وليعملْ بالورعِ ومحاسنِ الأخلاقِ” (جو چاہتا ہے کہ امامِ زمانہؑ کے اصحاب میں ہو، وہ انتظار کرے اور پرہیزگاری و اچھے اخلاق کو اپنائے)۔تو بتا! کیا تُو واقعی امامِ زمانہؑ کے اصحاب میں شامل ہونے کے لائق ہے؟جاگ مسلم! اپنی کھوئی میراث واپس لا!یہ وقت غفلت کا نہیں، بیداری کا ہے! واپس پلٹ آ، قرآن کو اپنی زندگی کا دستور بنا، علم کو اپنا ہتھیار بنا، ظلم کے خلاف قیام کر، حسینیت کو اپنی پہچان بنا، اور اپنی کھوئی ہوئی میراث کو واپس لے! اگر تُو چاہتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ اور اہلِ بیتؑ تجھے اپنی شفاعت سے نوازیں، تو اُن کے دین پر عمل کر، اُن کے راستے کو اختیار کر، اُن کے مقصد کو اپنی زندگی کا ہدف بنا!ورنہ یاد رکھ! اگر تُو نے اپنی حالت نہ بدلی، تو وہی رسولِ اکرمﷺ جس کی شفاعت کے طلبگار ہو، بروزِ قیامت یہ نہ کہہ دیں: “يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا“۔ (اے میرے رب! بے شک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ دیا)۔
اللهم عجل لوليك الفرج و اجعلنا من أنصاره و أعوانه!
