24

بنیادی ضروریات کا فقدان مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دینا

  • نیوز کوڈ : 1112
  • 07 March 2025 - 14:44
بنیادی ضروریات کا فقدان مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دینا

تحریر : سید جہانزیب عابدی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔لاحول ولا قوۃ الاباللہ۔اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجھم اجمعین جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے کئی ایسے شعبے ہیں جنہیں استعماری سرمایہ داری نے ذہانت، ترقی اور انسانی مستقبل کی ضامن قرار دے دیا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانیت کی اجتماعی فلاح کے بجائے […]

تحریر : سید جہانزیب عابدی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
لاحول ولا قوۃ الاباللہ۔
اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجھم اجمعین

جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے کئی ایسے شعبے ہیں جنہیں استعماری سرمایہ داری نے ذہانت، ترقی اور انسانی مستقبل کی ضامن قرار دے دیا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانیت کی اجتماعی فلاح کے بجائے مخصوص طاقتور طبقات کے مفادات کے لیے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان شعبوں کو غیر ضروری طور پر عالمی ترجیح بنا دیا گیا ہے جبکہ دنیا کی ایک بڑی آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ انسان بھوک، ننگ، بیماری اور تعلیم کی کمی کا شکار ہے، مگر سرمایہ دارانہ سائنس ایسے شعبوں میں اپنی محنت اور سرمائے کو جھونک رہی ہے جو عام انسان کے کسی بنیادی مسئلے کو حل نہیں کرتے بلکہ اسے مزید ذہنی، اخلاقی اور تہذیبی زوال میں دھکیل دیتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظاموں پر بے پناہ سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو زیادہ “سہولت بخش” بنایا جا سکے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی محض چند بڑی کمپنیوں اور مخصوص طاقتور اقوام کے مفاد میں استعمال ہو رہی ہے۔ لاکھوں لوگ بھوک، بیماری اور پانی کی قلت کا شکار ہیں، مگر سرمایہ دارانہ ذہنیت نے تحقیق کے وسائل کا رخ ایسے روبوٹس اور ڈیجیٹل سسٹمز کی طرف موڑ دیا ہے جو انسانوں کی جگہ لے رہے ہیں، بیروزگاری بڑھا رہے ہیں اور معاشرتی ناہمواریوں میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے لیے ان ٹیکنالوجیز کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس کا روزگار چھن رہا ہے، اور وہ مزید استحصال کا شکار ہو رہا ہے۔
ڈیجیٹل گیجٹس، اسمارٹ فونز اور ورچوئل رئیلٹی جیسے شعبے بھی جدید سائنس کی اولین ترجیحات میں شامل ہو چکے ہیں، حالانکہ دنیا کی اکثریت صحت، خوراک اور بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہی ہے۔ بڑی کمپنیاں اور حکومتیں مل کر ایسے آلات اور سافٹ ویئر بنا رہی ہیں جو انسانوں کی حقیقی زندگی سے ان کا رشتہ کمزور کر رہے ہیں اور انہیں مصنوعی دنیا میں محصور کر رہے ہیں۔ غریب ممالک میں لوگ بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، مگر ان کے ہاتھوں میں مہنگے فون اور جدید ٹیکنالوجی کے آلات موجود ہیں، جو صرف ان کی ذہنی الجھنوں اور اخلاقی زوال میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے لوگوں کو اخلاقی، عقیدتی اور تہذیبی لحاظ سے کمزور کر دیا ہے، اور وہ اپنی اصل زندگی کی بہتری پر توجہ دینے کے بجائے مصنوعی شہرت اور عارضی تفریح میں گم ہو چکے ہیں۔
کاسمیٹک اور جمالیاتی سرجری جیسے سائنس کے شعبے بھی استعماری سرمایہ داری کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ کسی حقیقی انسانی مسئلے کو حل نہیں کرتے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اور میڈیکل انڈسٹری خوبصورتی کے نئے معیارات طے کر رہی ہیں، تاکہ لوگوں کو اپنے قدرتی وجود سے غیر مطمئن کر کے ان سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جا سکے۔ یہ سارا نظام انسان کی فطری خوبصورتی کو غیر اہم بنا کر اس پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اپنی شکل و صورت کو سرمایہ دارانہ معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھاری سرمایہ خرچ کرے، جبکہ وہی سرمایہ بھوک، صحت اور تعلیم پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔
اسلحہ سازی اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے میدان میں سائنس کی بے تحاشا ترقی بھی ایک واضح مثال ہے کہ کیسے سرمایہ دارانہ طاقتوں نے اپنی مرضی کی ترجیحات متعین کی ہیں۔ کروڑوں لوگ جنگوں کے نتیجے میں بے گھر ہو رہے ہیں، لاکھوں افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں، مگر سائنس کا پیسہ اور محنت مہلک ہتھیاروں، ڈرونز اور جنگی مشینری بنانے میں لگائی جا رہی ہے، جو انسانوں کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں مزید خطرات میں ڈال رہی ہے۔ استعماری قوتیں جدید سائنس کے ذریعے ایسے ہتھیار بنا رہی ہیں جو پوری پوری آبادیوں کو مٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ انہی وسائل سے دنیا بھر کے غریبوں کے مسائل حل کیے جا سکتے تھے۔
بائیو ٹیکنالوجی اور جینیٹک انجینئرنگ کو بھی جدید ترین سائنسی ترقی میں شمار کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی زیادہ تر استحصالی قوتوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو عام انسان کی صحت بہتر بنانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بڑی دوا ساز کمپنیاں ایسی دوائیں اور ویکسین بنا رہی ہیں جن کا اصل مقصد بیماریوں کو جڑ سے ختم کرنا نہیں بلکہ مریضوں کو مستقل صارف بنانا ہے تاکہ وہ ساری زندگی ان دوائیوں پر انحصار کرتے رہیں اور کمپنیوں کو مسلسل منافع ملتا رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صحت عامہ کی صورتحال بگڑ رہی ہے، اور بیماریاں ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ شکل اختیار کر رہی ہیں۔
جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت ایسے شعبے بھی پیدا کیے جا رہے ہیں جو انسان کی حقیقی ضرورت سے زیادہ نفسیاتی اور جذباتی کمزوریوں کو بڑھانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ سوشل میڈیا الگورتھمز اور نیورومارکیٹنگ کے ذریعے صارفین کی نفسیات پر کنٹرول حاصل کرنے کا عمل سرمایہ دارانہ دنیا میں ایک اعلیٰ سائنسی مہارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ لوگوں کی آزادی، خودمختاری اور شعوری فیصلوں کو محدود کرنے کی ایک استحصالی حکمتِ عملی ہے۔ ایسی تکنیکیں تیار کی جا رہی ہیں جو لوگوں کی توجہ کو مستقل طور پر اپنی جانب مرکوز رکھیں، ان کی سوچنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیں اور انہیں غیر محسوس طریقے سے سرمایہ دارانہ مصنوعات اور ثقافت کے دائرے میں قید کر دیں۔
تفریح اور کھیل کود کے میدان میں بھی سائنسی ترقی کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ زیادہ تر استعماری مقاصد کو تقویت دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ کھیلوں کی صنعت کو اتنا زیادہ تجارتی رنگ دے دیا گیا ہے کہ اب یہ جسمانی صحت اور تفریح کا ذریعہ کم اور مالی منفعت کا ایک بڑا میدان زیادہ بن چکی ہے۔ عالمی کھیلوں کے بڑے ایونٹس، جیسے اولمپکس اور فیفا ورلڈ کپ، حقیقی معنوں میں عوامی فلاح سے زیادہ مخصوص طاقتور طبقات کے لیے منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں۔ دوسری طرف، کھیلوں کو اس قدر حد سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ نوجوان اپنی تعلیم اور عملی زندگی کو چھوڑ کر صرف ان مصنوعی مقابلوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جو درحقیقت ان کے مستقبل کے لیے کوئی ٹھوس فائدہ نہیں رکھتے، بلکہ ان کی صلاحیتوں کو ضائع کرنے کا ایک طریقہ بن چکے ہیں۔
ورچوئل اور آگمینٹڈ ریئلٹی جیسی ٹیکنالوجیز کو بھی انسانی ترقی کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ حقیقت سے فرار اور مصنوعی دنیا میں پناہ لینے کا ایک خطرناک ذریعہ بن چکی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے نوجوان نسل کو حقیقت کے میدان میں جدوجہد کرنے کے بجائے مصنوعی اور خیالی دنیا میں قید کر دیا گیا ہے، جہاں وہ غیر حقیقی تجربات کو اصل زندگی سے زیادہ ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اس سے ایک ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو عملی میدان میں ناکام، جذباتی طور پر ناپختہ، اور حقیقی دنیا کی مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ مفادات کے تحت اس ٹیکنالوجی کو عام کیا جا رہا ہے تاکہ انسانوں کو حقیقت سے بے خبر رکھ کر ان کا ذہنی اور فکری استحصال کیا جا سکے۔
خلائی تحقیق اور بین الاقوامی اسپیس پروگرامز کو بھی ترقی کی معراج سمجھا جاتا ہے، حالانکہ زمین پر رہنے والے اربوں انسان ابھی تک بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ مہنگے ترین خلائی منصوبوں پر کھربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ انہی وسائل سے دنیا میں بھوک، غربت اور بیماری کے خلاف جنگ لڑی جا سکتی تھی۔ سرمایہ دارانہ اقوام کے لیے چاند اور مریخ پر بستیاں بسانا زیادہ ضروری ہو چکا ہے، جبکہ زمین پر بسنے والے بے شمار انسان پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ یہ ترقی درحقیقت انسانی ضروریات کے برعکس محض ایک طاقت کی دوڑ اور وسائل پر قبضے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جہاں اصل مقصد انسانیت کی فلاح نہیں بلکہ مخصوص طاقتوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔
جدید ذہنی صحت کے نظریات اور سائیکوتھراپی کو بھی اس انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے کہ اس سے انسانوں کو اصل مسائل کی جڑ تک پہنچنے کی ترغیب دینے کے بجائے انہیں وقتی سکون اور مصنوعی طریقوں میں الجھا دیا گیا ہے۔ انسانوں کے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کی اصل وجوہات کو ختم کرنے کے بجائے ایسی دوائیں اور تکنیکیں عام کر دی گئی ہیں جو وقتی سکون تو دیتی ہیں، مگر اصل مسائل کا کوئی دیرپا حل فراہم نہیں کرتیں۔ سرمایہ دارانہ نفسیات کا مقصد انسان کو ذہنی طور پر مضبوط اور باوقار بنانا نہیں، بلکہ اسے ایک ایسا صارف بنانا ہے جو ہمیشہ کسی نہ کسی مصنوعی علاج یا سہولت پر انحصار کرتا رہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف سائنس اور ٹیکنالوجی کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں ماحولیاتی بحران کا اصل سبب یہی سرمایہ دارانہ صنعتی نظام ہے، جو زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے زمین کے وسائل کا بے دریغ استحصال کر رہا ہے۔ کاربن کریڈٹس، گرین انرجی اور دیگر نام نہاد ماحولیاتی منصوبے درحقیقت بڑی کارپوریشنز کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، جبکہ اصل ماحولیاتی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ دینِ فطرت کی تعلیمات کے مطابق، اگر انسان سادہ طرزِ زندگی اختیار کرے اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہے تو کسی پیچیدہ سائنسی حل کی ضرورت ہی نہ پڑے، مگر سرمایہ داری نے اس مسئلے کو بھی کاروباری موقع میں تبدیل کر دیا ہے۔
جدید سائنس و ٹیکنالوجی میں ایسے نئے رجحانات متعارف کرائے جا رہے ہیں جو بظاہر ترقی کے نام پر آگے بڑھ رہے ہیں لیکن درحقیقت انسانی فطرت اور سماجی توازن کو بگاڑنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار نظاموں کو اس قدر فروغ دیا جا رہا ہے کہ انسان کی سوچنے، فیصلہ کرنے اور عملی میدان میں محنت کرنے کی صلاحیت ہی ماند پڑ رہی ہے۔ مشینوں اور سافٹ ویئرز کو انسانی ذہانت پر فوقیت دے کر ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ لوگ خود انحصاری اور مہارت کے بجائے صرف ان مشینی نظاموں پر انحصار کرنے لگیں جو چند مخصوص طاقتور اداروں کے کنٹرول میں ہیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو رہے ہیں، ذہنی طور پر سست اور غیر ذمہ دار ہو رہے ہیں، اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کھو رہے ہیں، کیونکہ ہر مسئلے کا حل محض ایک بٹن دبانے تک محدود کر دیا گیا ہے۔
جینیاتی انجینئرنگ اور بایو ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایسی ایجادات اور تجربات کیے جا رہے ہیں جو انسان کی حیاتیاتی اور اخلاقی ساخت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ مصنوعی طور پر انسانی جینز میں تبدیلیاں کرکے ایسے افراد پیدا کیے جا رہے ہیں جن کی فطرت، شناخت اور صلاحیتیں کسی مخصوص طاقت کے کنٹرول میں ہوں۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت نے اس شعبے کو ایسے تجرباتی میدان میں بدل دیا ہے جہاں اخلاقیات اور قدرتی اصولوں کو پس پشت ڈال کر ایک ایسی مصنوعی نسل تخلیق کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو مخصوص قوتوں کے مفادات کے مطابق کام کرے۔ یہ رجحان معاشرتی تقسیم اور عدم توازن میں مزید اضافہ کرے گا، جہاں ایک طبقہ “اعلیٰ” جینیاتی صلاحیتوں کا مالک ہوگا اور دوسرا طبقہ عام انسانوں کی طرح کمتر تصور کیا جائے گا۔
ڈیجیٹل کرنسیوں اور مالیاتی ٹیکنالوجیز کو ترقی کا ایک نیا زینہ قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ ان کا اصل مقصد عالمی مالیاتی نظام کو چند بڑی طاقتوں کے کنٹرول میں دینا ہے۔ کرپٹو کرنسی اور مرکزی بینکوں کے ڈیجیٹل کرنسی منصوبے درحقیقت ایسی مالیاتی غلامی کو فروغ دے رہے ہیں جہاں فرد کی ہر خرید و فروخت اور مالی سرگرمی پر گہری نگرانی رکھی جا سکے اور اسے کسی بھی وقت نظام سے نکال کر بے بس کیا جا سکے۔ نقدی کے خاتمے کی مہم کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ ہر شخص ایک ڈیجیٹل شناخت کا محتاج ہو، جو حکومتوں اور کارپوریٹ طاقتوں کے مکمل کنٹرول میں ہو۔
تعلیمی نظام میں بھی جدید ٹیکنالوجی کو اس انداز میں متعارف کرایا جا رہا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان اصل علمی تعلق کمزور ہو جائے۔ ای لرننگ پلیٹ فارمز اور آن لائن تعلیمی ماڈلز کو فروغ دے کر کتابی مطالعہ، گہرے غور و فکر اور استاد شاگرد کے براہ راست علمی ربط کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً، ایک ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو محض معلومات جمع کرنے پر توجہ دے رہی ہے لیکن حکمت، تجزیہ اور تنقیدی سوچ سے محروم ہو رہی ہے۔ تعلیم، جو ایک سماجی اور اخلاقی ذمہ داری تھی، اسے ایک تجارتی صنعت میں بدل دیا گیا ہے، جہاں معیار اور حقیقی علم سے زیادہ ڈیجیٹل سہولیات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
تفریحی صنعت میں ورچوئل اور ڈیجیٹل کلچر کو اس حد تک غالب کر دیا گیا ہے کہ لوگ حقیقی زندگی کے سماجی، خاندانی اور اخلاقی معاملات سے کٹتے جا رہے ہیں۔ میٹاورس جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے لوگوں کو ایک ایسی مصنوعی دنیا میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں وہ حقیقت سے کٹ کر محض ایک ڈیجیٹل شناخت میں گم ہو جائیں۔ حقیقی انسانی تعلقات، خاندانی اقدار اور سماجی رشتے کمزور ہو رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ داری کا ہدف یہ ہے کہ ہر شخص ایک ورچوئل دنیا میں مشغول رہے اور حقیقی دنیا کے مسائل اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند نہ کرے۔
حیاتیاتی اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو ترقی کا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ افراد کی نجی زندگی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی ایک سازش ہے۔ اسمارٹ شہروں اور بائیو میٹرک شناخت کے نام پر ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جہاں ہر فرد کی نقل و حرکت، طرزِ زندگی، گفتگو، مالی لین دین، اور حتیٰ کہ جسمانی سرگرمیوں تک کی نگرانی ممکن ہو سکے۔ یہ نظام آزادی کے بجائے مکمل غلامی اور کنٹرول کا ایک ایسا طریقہ ہے جہاں کسی بھی شخص کو محض ایک ڈیٹا پوائنٹ کے طور پر دیکھا جائے اور اس کے جذبات، خیالات اور نظریات کو مخصوص سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔
یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیچھے جو ذہنیت کام کر رہی ہے، وہ دراصل حقیقی انسانی فلاح کے بجائے مخصوص مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ انسانیت کے اصل مسائل، جیسے بھوک، غربت، جہالت، صحت، اور سماجی انصاف، کو حل کرنے کے بجائے غیر ضروری اور مصنوعی ترجیحات کو ترقی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ سائنس کا ہدف انسان کو زیادہ خودمختار اور باشعور بنانے کے بجائے اسے ایک ایسی مشین میں تبدیل کرنا ہے جو ہر وقت کسی نہ کسی نظام کی محتاج بنی رہے اور اپنی اصل فطری زندگی سے دور ہو جائے۔
یہ تمام سائنسی شعبے استعماری سرمایہ داری کی مسلط کردہ ترجیحات ہیں، جنہیں انتہائی ضروری اور ناگزیر قرار دے دیا گیا ہے، حالانکہ یہ عام انسانوں کے بنیادی مسائل حل کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرتے۔ اس کے برعکس دینِ فطرت انسانیت کی حقیقی فلاح کی طرف توجہ دلاتا ہے، جو بھوک مٹانے، صحت عامہ کو بہتر بنانے، سادگی اور فطری طرزِ زندگی اپنانے، اور سماجی انصاف کے قیام میں مضمر ہے۔ سرمایہ دارانہ سائنس نے انسان کو اس کے اصل مسائل سے غافل کر کے اسے ان غیر ضروری ترجیحات میں الجھا دیا ہے، جہاں وہ اپنی زندگی کی بنیادی حقیقتوں کو بھول کر ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو گیا ہے جس کا انجام مزید انتشار، ظلم اور اخلاقی زوال کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تمام شعبے ظاہر کرتے ہیں کہ جدید سائنسی ترقی کی سمت درحقیقت انسانی فلاح و بہبود کے بجائے مخصوص طاقتوں کے مفادات کے تابع ہو چکی ہے۔ ان نام نہاد ترقیوں کے نتیجے میں عام انسان کی زندگی آسان ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ اور غلامی کے شکنجے میں جکڑی جا رہی ہے۔ دینِ فطرت کی تعلیمات کے مطابق، اصل ترقی وہ ہے جو انسان کی اخلاقی، روحانی اور سماجی بہتری کے لیے ہو، نہ کہ وہ جو چند مخصوص افراد کو طاقتور اور باقی دنیا کو کمزور بنانے کے لیے کی جائے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1112

ٹیگز

تبصرے