تحریر : سید جہانزیب عابدی
استعماری نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریاں
لا حو لا ولا قوہ الا باللہ
استعماری سرمایہ داری نظام نے کئی ایسی بیماریاں پیدا کیں یا ان کے پھیلاؤ کو تیز کیا جو براہ راست اس نظام کے استحصالی، غیر مساوی اور منافع پر مبنی ڈھانچے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان میں جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کی بیماریاں شامل ہیں، جو یا تو سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کی پیداوار ہیں یا پھر منافع بخش انڈسٹریز کے تسلط کے باعث مصنوعی طور پر عام کی گئیں۔
ذیابیطس اور دل کی بیماریاں سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کا لازمی نتیجہ ہیں۔ فاسٹ فوڈ انڈسٹری، پراسیس شدہ خوراک، چینی اور چکنائی سے بھرپور مصنوعات کی تشہیر اور فروخت کے ذریعے عوام کو ایسے کھانوں کا عادی بنا دیا گیا ہے جو غذائیت سے خالی اور بیماریوں کو دعوت دینے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام نے ایسی جسمانی مشقت سے خالی زندگی کو فروغ دیا جس میں افراد زیادہ تر بیٹھے رہنے پر مجبور ہیں، نتیجتاً موٹاپا، بلڈ پریشر اور دل کے امراض عام ہو چکے ہیں۔
ذہنی امراض کی بڑھتی ہوئی شرح بھی اسی نظام کی پیدا کردہ ہے۔ ڈپریشن، اینزائٹی، شیزوفرینیا اور دیگر ذہنی عوارض اسی مادی اور مسابقتی زندگی کی پیداوار ہیں جہاں فرد کو مسلسل مقابلے، عدم تحفظ، اور معاشی دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ پروپیگنڈہ لوگوں کو باور کراتا ہے کہ ان کی حیثیت، کامیابی اور خوشی صرف مادی اشیاء کے حصول سے جڑی ہوئی ہے، مگر جب یہ چیزیں حاصل نہیں ہوتیں یا ان کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی، تو انسان شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
کینسر جیسی بیماریاں بھی سرمایہ دارانہ صنعتوں کے ہاتھوں پھیلائی گئیں۔ تمباکو انڈسٹری، آلودگی، کیمیکل سے بھرپور خوراک، اور کارپوریٹ کمپنیوں کی زہریلی مصنوعات کینسر کے واقعات میں بے پناہ اضافے کا سبب بنی ہیں۔ بڑے فارماسیوٹیکل کارپوریشنز کے لیے کینسر ایک کاروبار بن چکا ہے، جہاں مہنگے علاج، ادویات اور تھراپیز کے ذریعے مریضوں کو ایک مستقل منڈی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
آٹزم اور دیگر نیورولوجیکل عوارض بھی جدید صنعتی زندگی اور سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ مسائل میں شامل ہیں۔ کیمیکل، زہریلی ادویات، غذائی ترمیمات اور والدین کے غیر فطری طرزِ زندگی نے بچوں میں ایسی بیماریاں عام کر دی ہیں جنہیں پہلے شاذ و نادر ہی دیکھا جاتا تھا۔ ان بیماریوں کا حل بھی مہنگی تھراپی، مخصوص تعلیمی پروگراموں، اور مخصوص ادویات میں ڈھونڈا جاتا ہے، جو کارپوریٹ سیکٹر کے لیے مزید منافع کا ذریعہ بنتا ہے۔
متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ بھی اس نظام کا شاخسانہ ہے۔ سرمایہ داری نے حیوانات کی صنعتی فارمنگ کو اس قدر غیر فطری بنا دیا کہ کئی نئی بیماریاں جنم لینے لگیں، جیسے برڈ فلو، سوائن فلو اور کووڈ جیسے وائرس۔ جنگلات کی تباہی، ماحول کی بربادی اور حیوانی زندگی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں نے وبائی امراض کو زیادہ عام کر دیا، اور جب بیماریاں پھیلتی ہیں تو ان کا حل بھی دوا ساز کمپنیاں مہنگے ویکسینیشن اور مصنوعی ادویات کے ذریعے فراہم کرتی ہیں۔
یہ بیماریاں سرمایہ داری کے ان پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہیں جو عوامی صحت کے بجائے منافع کو ترجیح دیتے ہیں۔ صحت کو ایک بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک مہنگی سہولت بنا دیا گیا ہے، جہاں بیماریاں ختم کرنے کے بجائے انہیں کنٹرول میں رکھا جاتا ہے تاکہ ایک مستقل صارفین کی کلاس قائم رہے۔ اگر نظامِ معیشت اور سماجی ڈھانچے کو فطری اصولوں پر استوار کیا جائے، جہاں صحت کو کاروبار کے بجائے انسانیت کی خدمت کے طور پر دیکھا جائے، تو ان بیماریوں کے حقیقی حل ممکن ہو سکتے ہیں۔
نیز استعماری سرمایہ داری نظام نے انسان کی وہ تمام نفسانی صفات، کردار اور خصوصیات جو اس کے استحصالی مفادات کے خلاف جاتی ہیں، ایک بیماری یا عارضہ قرار دے کر سماجی، سائنسی اور نفسیاتی سطح پر ان کی نفی کی ہے۔ اس نے انسان کو ایک مشین، صارف اور محض ایک معاشی اکائی میں بدلنے کے لیے قدرتی انسانی رجحانات کو دبایا اور انہیں قابلِ علاج مسئلہ بنا دیا۔
سوالات کرنے، چیزوں پر شک کرنے اور گہرائی میں جا کر سوچنے کی صلاحیت کو اکثر “اوور تھنکنگ”، “اینزائٹی ڈس آرڈر” یا “سکیپٹزم” کے نام سے بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ یہی رویہ حقیقت کی تلاش اور علمی ترقی کا اصلل سبب ہے۔ اسی طرح، شدید حساسیت اور گہری فکری وابستگی رکھنے والے افراد کو “ہائی سنسیٹیو پرسنالٹی”، “ڈپریشن”، یا “سوشل انزائٹی” کا شکار قرار دے کر دوا اور تھراپی کے ذریعے عام فہم اور بے حس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مزاحمت نہ کریں۔
سادگی، قناعت، دنیا سے بے رغبتی اور روحانی گہرائی کو “ڈپریسِو پرسنالٹی”، “لو موٹیویشن”، یا “لازینیس” کہہ کر کام کرنے اور مسلسل دوڑتے رہنے کے کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی فطری آزادی، بے نیازی اور غیر روایتی طرزِ زندگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، انہیں “اے ڈی ایچ ڈی”، “بائی پولر”، یا “اوپوزیشنل ڈیفائنٹ ڈس آرڈر” جیسے لیبل دے کر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سرمایہ داری کے اصولوں کو چیلنج کرنے، دوسروں کے درد کو شدت سے محسوس کرنے اور ناانصافی پر ردعمل دینے والے افراد کو “ایموشنل ڈس ریگولیشن”، “امیچور تھنکنگ”، یا “پیرانویا” کا شکار قرار دے کر ان کی فطری مزاحمت کو غیر مؤثر کرنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔
سرمایہ دارانہ مفادات کے خلاف جانے والی تمام خالص انسانی خصوصیات، جیسے کم بولنا، اکیلے رہنے کا رجحان، سوچ و فکر میں گہرائی، سرمایہ داری کے استحصالی اصولوں کو رد کرنا، مصنوعی خوشیوں کے جال سے بچنا، اپنی اقدار پر سمجھوتہ نہ کرنا، روایتی ملازمتوں اور زندگی کے عام دھارے کو مسترد کرنا، دنیاوی کامیابی کو سب کچھ نہ سمجھنا، اور غیر ضروری سماجی تعلقات سے کنارہ کشی کو مختلف بیماریوں یا نفسیاتی عارضوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ انہیں جبر، دوا، اور تھراپی کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکے۔
یہ استعماری سرمایہ داری کا سب سے بڑا حربہ ہے کہ وہ ان تمام انسانی اوصاف کو بیماری بنا کر پیش کرے جو اس کی چکی میں پسنے سے روکتی ہیں، تاکہ ہر شخص اس کے استحصالی نظام کا ایک فرمانبردار پرزہ بن جائے اور کوئی بھی اس کے خلاف سنجیدہ مزاحمت کرنے کے قابل نہ رہے۔
استعماری سرمایہ داری نظام نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کئی بیماریوں کو پیدا کیا یا ان کے پھیلاؤ کو تیز تر کیا۔ یہ بیماریاں جسمانی، ذہنی اور سماجی سطح پر انسانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ان کی شدت سرمایہ دارانہ مفادات کے تحت مزید بڑھائی جاتی ہے تاکہ دوا ساز کمپنیاں، کارپوریٹ سیکٹر اور استحصالی معاشی ڈھانچے ان سے منافع کما سکیں۔
ذہنی امراض:۔
ڈپریشن، اینزائٹی، بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا، او سی ڈی، پی ٹی ایس ڈی، برن آؤٹ سنڈروم اور دیگر ذہنی عوارض سرمایہ دارانہ زندگی کے دباؤ، مسابقت، مادی خواہشات اور سوشل میڈیا پر مسلط کردہ غیر حقیقی معیارات کی وجہ سے بڑھ چکے ہیں۔
نیوروڈیولپمنٹل ڈس آرڈرز:۔
آٹزم، اے ڈی ایچ ڈی، ڈسلیکسیا اور دیگر اعصابی بیماریاں صنعتی آلودگی، خوراک میں مصنوعی کیمیکلز، ویکسینیشن کے غیر متوازن طریقوں اور والدین کی غیر فطری طرزِ زندگی کے نتیجے میں عام ہو چکی ہیں۔
موٹاپا اور اس سے جڑی بیماریاں:
ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، فالج، جگر کی چربی، اور دیگر میٹابولک سنڈروم فاسٹ فوڈ، پراسیسڈ خوراک، شکر اور چکنائی کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے پھیل چکے ہیں، جسے کارپوریٹ سیکٹر نے جان بوجھ کر عوام کی خوراک میں شامل کیا ہے۔
کینسر اور رسولیاں:۔
بڑی کارپوریشنز کی زہریلی مصنوعات، کیمیکل زدہ خوراک، پلاسٹک کا حد سے زیادہ استعمال، تابکاری آلودگی، سگریٹ اور شراب کی صنعتیں اس بیماری کو پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ دوا ساز کمپنیاں کینسر کے مہنگے علاج سے اربوں ڈالر کماتی ہیں، جبکہ حقیقی وجوہات پر قابو پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔
متعدی بیماریاں:۔
ایچ آئی وی/ایڈز، کووڈ-19، برڈ فلو، سوائن فلو، زیکا وائرس، ایبولا اور دیگر نئی بیماریاں استعماری طاقتوں کی بائیولوجیکل تجربہ گاہوں، فیکٹری فارمنگ، حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری، اور ماحولیاتی تباہی کے نتیجے میں جنم لے رہی ہیں۔
سماجی بیماریاں:۔
منشیات کی لت، جوا، سوشل میڈیا کی لت، ورہولزم (workaholism)، جنسی بے راہ روی، اور اخلاقی انحطاط کو جان بوجھ کر فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو نفسیاتی اور سماجی غلامی میں رکھا جا سکے۔
خواتین سے جڑے صحت کے مسائل:۔
پی سی او ایس، اینڈومیٹریوسس، ہارمونی عدم توازن، ڈپریشن، پوسٹ پارٹم ڈپریشن، اور زچگی کے مسائل سرمایہ دارانہ نظام کے دباؤ، مصنوعی ہارمونی ادویات، غیر فطری مانع حمل تدابیر، اور خواتین کے خلاف معاشی استحصال کے نتیجے میں زیادہ عام ہو گئے ہیں۔
الرجیز اور خودایمنی بیماریاں:۔
دمہ، ایکزیما، سیلیک ڈس آرڈر، لیوپس، رمیٹائیڈ آرتھرائٹس، اور دیگر خودایمنی امراض غیر فطری خوراک، اینٹی بائیوٹکس کے حد سے زیادہ استعمال، اور کیمیکل زدہ طرزِ زندگی کے نتیجے میں پیدا ہو رہی ہیں۔
دماغی بیماریاں:۔
الزائمر، ڈیمنشیا، پارکنسنز، اور نیوروجیکل ڈس آرڈرز صنعتی کیمیکلز، تابکاری، موبائل فون ٹیکنالوجی، اور دماغی دباؤ کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔
غذائی قلت سے جڑی بیماریاں:۔
وٹامن ڈی کی کمی، آئرن ڈیفیشنسی انیمیا، کیلشیم کی کمی، اور غذائیت سے خالی خوراک استعماری سرمایہ داری کے اس نظام کی پیداوار ہیں جو مہنگی لیکن غیر غذائیت بخش خوراک کو فروغ دیتا ہے اور لوگوں کو صحت مند، قدرتی غذا سے دور کرتا ہے۔
یہ تمام بیماریاں سرمایہ دارانہ استحصال، صنعتی پیداوار کے غیر انسانی طریقوں، دوا ساز کمپنیوں کے منافع پر مبنی ماڈل، اور جدید زندگی کے غیر فطری ماحول کے نتیجے میں پھیلی ہیں۔ استعماری سرمایہ داری بیماریوں کو کم کرنے کے بجائے ان سے کاروبار چلاتی ہے اور انسانوں کو ایک مستقل مریض بنا کر رکھتی ہے تاکہ ان کی ضروریات سے منافع کمایا جا سکے۔ اس کے برعکس، اسلامی، فطری اور متوازن نظامِ زندگی میں صحت کو سرمایہ کاری کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت سمجھا جاتا ہے۔
کم آمدنی والے افراد اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے مہنگی دوائیوں اور ہسپتالوں پر انحصار کیے بغیر کئی سستے اور عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔ خوراک میں تبدیلی لانا ایک اہم قدم ہے۔ فاسٹ فوڈ اور پراسیس شدہ خوراک کو ترک کر کے گھریلو، سادہ اور متوازن غذا اپنانا ضروری ہے۔ چینی، سفید آٹا اور بازار کے تیل کے بجائے دیسی گھی، سرسوں کا تیل اور دیسی گندم کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی مشروبات کی جگہ نیم، ادرک، دارچینی، شہد اور لیمن سے تیار کردہ قدرتی مشروبات اپنانا فائدہ مند ہوگا۔ زیادہ پانی پینا اور کم از کم ایک وقت بغیر چائے اور چینی کے ناشتہ کرنا بھی صحت کے لیے مفید ہے۔
گھریلو اور فطری علاج کو اپنانا بیماریوں سے بچاؤ کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ ہلدی، کلونجی، ادرک، لہسن اور شہد کا استعمال عام بیماریوں کے خلاف قدرتی دوا کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ معدے کی بیماریوں سے نجات کے لیے سونف، اجوائن اور دہی کا استعمال مفید ہوگا، جبکہ جلد کی بیماریوں کے لیے نیم، ملتانی مٹی اور ایلوویرا کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جوڑوں اور پٹھوں کے درد کے لیے سرسوں کے تیل میں نمک ملا کر مالش کرنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
جسمانی سرگرمی اور ورزش کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ روزانہ کم از کم تیس منٹ پیدل چلنا، سیڑھیاں چڑھنا اور ہلکی ورزش کرنا جسم کو صحت مند رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ فجر کے وقت سیر کرنے سے سورج کی روشنی بھی حاصل ہوتی ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز کرنے اور گھر کے کاموں میں خود کو مصروف رکھنے سے جسمانی اور ذہنی توانائی برقرار رہتی ہے۔
دماغی سکون اور ذہنی صحت کے لیے نیند کی بہتری پر توجہ دینا ضروری ہے۔ موبائل اور سکرین کا استعمال مغرب کے بعد کم کر دینا، رات کو جلدی سونا اور شور والی جگہوں سے بچنا ذہنی سکون کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ قرآن کی تلاوت، ذکر، دعا اور تفکر کی عادت ڈالنے سے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔ دوسروں سے حسد کرنے اور غیر ضروری مقابلہ کرنے کی بجائے قناعت اور سادگی اپنانا دماغی اطمینان کے لیے مفید ہے۔
علاج کے لیے دوائیوں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے نیچرل اور سستے طریقے اپنانے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جڑی بوٹیوں کا استعمال دوا کے متبادل کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ دیسی اور روایتی طریقہ علاج جیسے یونانی، ہومیوپیتھی اور طب نبوی کے اصولوں کو اپنانے سے مہنگے علاج کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ خوراک میں حکمت کے اصولوں کے مطابق جڑی بوٹیوں کا استعمال کئی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
خواتین کو صحت کے مسائل کا سامنا زیادہ ہوتا ہے، لیکن سادہ گھریلو تدابیر سے انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔ ہارمونی عدم توازن اور پیریڈز کی بے قاعدگی کو ٹھیک کرنے کے لیے دیسی گھی، السی کے بیج اور سونف کا استعمال فائدہ مند ہے۔ مصنوعی دوائیوں کے بجائے نیم، تلسی اور اجوائن کے قہوے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ حمل اور زچگی کے دوران قدرتی طریقوں کا اپنانا اور غیر ضروری دوائیوں سے پرہیز کرنا خواتین کی صحت کے لیے زیادہ محفوظ اور فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی بہتری اور صحت کے تحفظ کے لیے چند بنیادی اصول اپنانا ضروری ہے۔ کیمیکل زدہ صابن اور شیمپو کے بجائے دیسی صابن، بیسن اور ملتانی مٹی کا استعمال جلد کے لیے محفوظ ہے۔ پلاسٹک کے برتنوں کے بجائے مٹی، تانبا اور اسٹیل کے برتن استعمال کیے جائیں تو صحت بہتر رہ سکتی ہے۔ گھروں میں مصنوعی خوشبو اور ایئر فریشنر کے بجائے قدرتی اجزاء جیسے لیموں، عرق گلاب اور لوبان کا استعمال صحت مند ماحول فراہم کرتا ہے۔
زندگی کو سادہ بنانا بھی صحت اور ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے۔ غیر ضروری قرض لینا، قسطوں پر خریداری کرنا اور مہنگے شوق پالنے کے بجائے قناعت اور کفایت شعاری اپنائی جائے تو زندگی میں برکت آ سکتی ہے۔ فضول سوشل میڈیا، ٹی وی اور غیر ضروری تفریح میں وقت ضائع کرنے کی بجائے مطالعہ کرنے، محنت کرنے اور بچوں کو اچھی عادتیں سکھانے پر توجہ دی جائے تو مستقبل بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ نیچرل طرز زندگی اختیار کرنے سے بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے اور مہنگی دوائیوں اور ہسپتال کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔

بہت عمدہ مضمون ہے۔ سادگی اپنانا بہت اچھا راہ حل ضرور ہے۔ لیکن بیسن یا ملتانی مٹی وغیرہ جو مصنف نے تجویز دی ہے، کیا اس کی کوئی ایسی پروڈکٹ ہے، جو مثلاً بطور صابن استعمال ہو سکے؟؟ بہر صورت بہت عمدہ مضمون ہے۔
جزاک اللہ