صراط ٹائمز / ہم یہاں شرعی مسائل میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے شرعی احکام کو ذکر کرتے ہیں۔
سوال:۔
کیا غیر مسلم کو نجس سمجھنا ضروری ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم پاکیزگی کا خیال رکھے تو کیا اس کے ساتھ ہاتھ ملانا یا اس کے برتن استعمال کرنا جائز ہے؟
جواب (آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای – رہبر معظم):
س: کیا اہلِ کتاب (یہودی، عیسائی) نجس ہیں؟
ج: اہلِ کتاب (یہودی، عیسائی) کو شرعی طور پر نجس نہیں سمجھا جاتا، لہٰذا ان کے ساتھ ہاتھ ملانا یا ان کے برتن استعمال کرنا جائز ہے، جب تک کہ نجاست کا یقین نہ ہو۔
(ماخذ: اجوبة الاستفتاءات، آیت اللہ خامنہ ای، باب طہارت)
جواب (آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی):۔
س: کیا غیر مسلم نجس ہیں؟
ج: غیر مسلم (کافر) نجس ہیں، مگر اہلِ کتاب کے بارے میں احتیاط واجب ہے کہ انہیں نجس سمجھا جائے، لہٰذا اگر کوئی ان کے ہاتھ یا برتن کو استعمال کرے تو اسے پاک کرنا چاہیے۔
(ماخذ: منهاج الصالحین، آیت اللہ سیستانی، باب طہارت)
نتیجہ:۔
رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اہلِ کتاب نجس نہیں ہیں، جب تک نجاست کا یقین نہ ہو، جبکہ آیت اللہ سیستانی کے نزدیک اہلِ کتاب کے بارے میں احتیاط واجب ہے کہ انہیں نجس سمجھا جائے اور ان کے ساتھ تعامل میں احتیاط برتی جائے۔
