صراط ٹائمز / ہم کوشش کریں گے کہ برصغیر کے وہ علماء کرام جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ خدمت دین میں صرف کیا انکا زندگی نامہ آپ احباب کی خدمت میں پیش کریں۔۔
علامہ طالب جوہری – ایک عظیم مفکر، مفسر اور خطیب
نام اور تعارف
علامہ طالب جوہری پاکستان کے جید علما میں شمار ہوتے ہیں، جو اپنی خطابت، تفسیر، فلسفہ، شعر و ادب اور علمی گہرائی کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتے تھے۔ ان کا اصل نام سید طالب حسین زیدی تھا، لیکن علمی و دینی حلقوں میں وہ علامہ طالب جوہری کے نام سے معروف ہوئے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
تاریخ پیدائش: 27 اگست 1939ء
مقام: پٹنہ، برطانوی ہندوستان
علامہ طالب جوہری ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، علامہ مصطفیٰ جوہر، اپنے وقت کے معروف عالم، شاعر اور ادیب تھے۔ ان کے علمی گھرانے نے بچپن ہی سے انہیں دینی علوم کی طرف راغب کیا۔
تعلیم و تربیت
ابتدائی دینی تعلیم انہوں نے اپنے والد سے حاصل کی، جس کے بعد وہ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے نجف، عراق تشریف لے گئے۔ وہاں انہوں نے کئی ممتاز مراجع تقلید سے اکتسابِ علم کیا، خاص طور پر آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی کے شاگرد رہے۔ وہاں رہ کر انہوں نے اصول فقہ، فلسفہ، حدیث، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم میں مہارت حاصل کی۔
علمی اور دینی خدمات
خطابت و مجالس
علامہ طالب جوہری کا اندازِ خطابت انتہائی منفرد تھا، جس میں عقلی استدلال، فلسفیانہ گہرائی اور فصاحت و بلاغت نمایاں تھی۔ وہ پاکستان کے صفِ اول کے ذاکرین میں شمار ہوتے تھے اور ان کی محرم الحرام کی مجالس کراچی میں نشتر پارک اور ٹی وی پر نشر ہونے والی مجالس سے شہرت حاصل کر چکی تھیں۔
تفسیرِ قرآن
ان کی مشہور تفسیر “احسن الحدیث” قرآن فہمی کے جدید اور منفرد اسلوب پر مشتمل ہے۔ یہ تفسیر ان کے گہرے علمی مطالعے، تاریخی تجزیے اور فکری وسعت کی عکاسی کرتی ہے۔
فلسفہ اور منطق
علامہ طالب جوہری فلسفہ اور منطق میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ان کی تقاریر میں فلسفیانہ نکات، عقلی استدلال اور جدید فکری مباحث کو جگہ دی جاتی تھی، جو انہیں دوسرے خطبا سے ممتاز کرتی تھی۔
تصنیف و تالیف
انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں، جو آج بھی علمی و فکری حلقوں میں نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔
مشہور کتابیں
احسن الحدیث (تفسیر قرآن) – یہ ان کی سب سے مشہور اور تحقیقی تفسیر ہے، جس میں انہوں نے جدید دور کے علمی و فکری تقاضوں کو مدنظر رکھا ہے۔
خطباتِ طالب – ان کے مشہور خطبات کا مجموعہ، جس میں ان کی علمی گہرائی جھلکتی ہے۔
حیاتِ انبیاء – انبیاء کرام کی سیرت پر تحقیقی کتاب۔
اسلام اور عصرِ حاضر – جدید دور میں اسلام کے کردار پر ایک فکری تجزیہ۔
فلسفۂ شہادت – واقعہ کربلا کے فلسفیانہ اور منطقی پہلوؤں پر گہری تحقیق۔
ملکی و بین الاقوامی اثرات
علامہ طالب جوہری پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک معروف خطیب تھے۔ ان کی مجالس اور تقاریر نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک جیسے کہ امریکہ، برطانیہ، ایران، عراق، بھارت اور خلیجی ممالک میں بھی سنی جاتی تھیں۔ ان کی تقریریں علمی دلائل، قرآنی تفاسیر اور فکری نکات سے بھرپور ہوتی تھیں، جنہیں جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی بہت پسند کرتا تھا۔
وفات اور علمی ورثہ
تاریخ وفات: 22 جون 2020ء
مقام: کراچی، پاکستان
علامہ طالب جوہری کا انتقال دینی و علمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔ان کی وفات کے بعد بھی ان کی تقاریر، کتابیں اور علمی خدمات لوگوں کے لیے روشنی کا مینار بنی ہوئی ہیں۔
نتیجہ
علامہ طالب جوہری پاکستان کے ان عظیم علما میں شامل ہیں جنہوں نے دینی، علمی اور فکری میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی علمی وراثت آج بھی لاکھوں لوگوں کو فکری روشنی مہیا کر رہی ہے، اور آنے والی نسلیں بھی ان سے استفادہ کرتی رہیں گی۔
