تحریر : سید جہانزیب عابدی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
صراط ٹائمز / انسانی فکر محدود ہے اور حقیقت کے ہر پہلو کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا” (الاسراء: 85) یعنی “تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔” یہی محدودیت انسان کو اختلافِ رائے کی طرف لے جاتی ہے، کیونکہ ہر شخص اپنی فہم اور تجربے کے مطابق حقیقت کو دیکھتا ہے اور اکثر یہی سمجھتا ہے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے، وہی مکمل سچائی ہے۔اختلافِ فکر کی یہ حقیقت ایک تمثیلی کہانی کے ذریعے مزید واضح ہوتی ہے۔ چار مسافر ایک ساتھ سفر کر رہے تھے، جو مختلف علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ راستے میں انہیں ایک عجیب و غریب پرندہ نظر آیا۔ ہر ایک نے اپنی فہم کے مطابق اسے پہچاننے کی کوشش کی۔ پہلا مسافر اسے عقاب قرار دیتا رہا، کیونکہ اس کی چونچ اور پنجے عقاب جیسے تھے۔ دوسرا مسافر بضد تھا کہ یہ طوطا ہے، کیونکہ اس کے پروں کی چمک طوطوں جیسی تھی۔ تیسرا اسے الو سمجھ رہا تھا، کیونکہ اس کی بڑی آنکھیں رات کے شکاری پرندوں جیسی تھیں، جبکہ چوتھے کے نزدیک یہ فاختہ کے مشابہ تھا، کیونکہ اس کی جسمانی ساخت نرم اور ملائم تھی۔یہ اختلافِ رائے اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں لگ گئے، اور کوئی بھی دوسرے کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ اسی دوران، ایک بزرگ عالم ان کے قریب آئے اور مسکرا کر فرمایا: “تم سب نے پرندے کا صرف ایک پہلو دیکھا ہے اور اسی کو سچائی سمجھ لیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نایاب پرندہ ہے جس میں عقاب، طوطے، الو اور فاختہ کے مختلف اوصاف موجود ہیں۔ اگر تم سب اپنی معلومات کو یکجا کر لو تو حقیقت تمہارے سامنے کھل جائے گی، لیکن اگر تم اپنی ہی رائے پر اڑے رہو گے تو ہمیشہ اختلاف میں ہی الجھے رہو گے۔”حکمت کی کتابوں میں ایک اور ملتا جلتا واقعی ملتا ہے۔ جو کچھ یوں ہے کہ کسی دور دراز کے علاقے میں چند نابینا افراد رہتے تھے، جو کبھی کسی ہاتھی کو نہیں دیکھ سکے تھے۔ ایک دن ایک بادشاہ نے ان کے گاؤں میں ایک ہاتھی لایا اور کہا کہ یہ ایک حیرت انگیز جانور ہے۔ نابینا افراد، جو مختلف پس منظر اور سوچ رکھنے والے تھے، ہاتھی کو جانچنے کے لیے آگے بڑھے۔ایک شخص نے ہاتھی کی سونڈ کو چھوا اور بولا، “یہ تو ایک موٹی اور لمبی رسی کی طرح ہے!” دوسرے نے اس کے کان کو چھوا اور کہا، “نہیں، یہ تو ایک بڑے پنکھے کی طرح ہے!” تیسرے نے اس کے پیر کو چھوا اور بولا، “تم دونوں غلط ہو، ہاتھی تو ایک مضبوط ستون کی طرح ہے!” چوتھے نے اس کی دم کو پکڑ کر کہا، “یہ تو ایک پتلی رسی کی مانند ہے!” پانچویں نے ہاتھی کے جسم کو ہاتھ لگایا اور کہا، “یہ تو ایک دیوار کی طرح بڑا اور چوڑا ہے!”سب اپنی اپنی رائے پر بضد ہو گئے اور آپس میں بحث کرنے لگے کہ ہاتھی حقیقت میں کیسا ہے۔ ہر کوئی اپنی چھوئی ہوئی چیز کو ہی پورا سچ سمجھ رہا تھا اور دوسروں کی رائے کو غلط گردان رہا تھا۔اسی دوران، ایک دانا شخص وہاں آیا اور ان سب کی باتیں سننے کے بعد بولا: “تم سب اپنی جگہ ٹھیک ہو، مگر تمہارا علم نامکمل ہے۔ ہاتھی وہی ہے جو تم سب نے بیان کیا، لیکن ہر ایک نے اس کے صرف ایک حصے کو محسوس کیا ہے۔ اگر تم سب اپنی معلومات کو جوڑ دو تو تمہیں حقیقت کا مکمل علم ہو جائے گا۔”یہی حال انسانی فکری اختلافات کا ہے۔ قرآن مجید ہمیں یہ حقیقت بھی بتاتا ہے کہ “إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ” (السجدہ: 25) یعنی “بے شک تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔” یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا میں بہت سے فکری اور نظریاتی اختلافات ایسے ہوتے ہیں، جن کا حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرے گا، چاہے وہ قیامت کے دن ہو یا کسی ایسی ہدایت یافتہ ہستی کے ذریعے، جو اللہ کے علم و حکمت سے مکمل طور پر آراستہ ہو۔اسلام میں اختلافات کے باوجود رواداری رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ ہر شخص کی فکری، علمی اور تجرباتی حدود مختلف ہوتی ہیں۔ روایات میں ملتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے پاس مختلف مکاتب فکر کے افراد آتے تھے، اور ان کے سوالات کو تحمل اور بردباری سے سنا جاتا تھا۔ یہی اصول مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے کہ اختلاف رائے کو برداشت کریں اور اپنے مؤقف کو دلیل اور حکمت کے ساتھ پیش کریں، نہ کہ زبردستی اور تعصب کے ساتھ۔یہ اسلامی اصول مغربی “پلورل ازم” سے بالکل مختلف ہے۔ مغربی نظریہ کہتا ہے کہ ہر سوچ، ہر نظریہ، اور ہر عقیدہ، بغیر کسی جانچ کے، صحیح تسلیم کر لیا جائے۔ یہ موقف غیر منطقی ہے، کیونکہ سچائی اور باطل برابر نہیں ہو سکتے۔ اسلامی تعلیمات میں تنوعِ فکر کی اجازت ضرور دی گئی ہے، لیکن ہر نظریہ کو بلا تحقیق اور بغیر کسی عقلی و نقلی بنیاد کے قبول کرنے کا تصور موجود نہیں ہے۔ قرآن بار بار غور و فکر، تدبر، اور علم حاصل کرنے پر زور دیتا ہے تاکہ انسان حق و باطل میں تمیز کر سکے، اور یہی اصول اسلامی رواداری کو مغربی پلورل ازم سے ممتاز کرتا ہے۔پس، اگر ہم اختلاف کو حقیقت کے ایک پہلو کے طور پر دیکھیں اور دوسروں کی رائے کو سُننے اور پرکھنے کی صلاحیت پیدا کریں، تو سچائی کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنی محدود فہم کو ہی حتمی سچائی سمجھیں اور دوسروں کی بات کو رد کر دیں، تو یہی علمی تنگ نظری ہمیں حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی فکر کو وسیع کریں، دلیل اور حکمت کے ساتھ بات کریں، اور اس بات کو تسلیم کریں کہ ہمیں دیے گئے علم کی ایک حد ہے، جسے مکمل کرنے کے لیے وحی، الہی ہدایت، اور قیامت یا ظہور امام زمانہ عج تک کا انتظار کرنا ہوگا۔
