تحریر : سید جہانزیب عابدی
صراط ٹائمز /جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی چیز کی فطرت کے اثرات اور مقاصد پر غور کرنا ضروری ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز ایک خاص نظام اور قانون کے تحت وجود میں آتی ہے اور اس کا ایک معین مقصد ہوتا ہے۔ فطرت اصل میں وہ خاصیت یا صفت ہے جو کسی وجود کے ساتھ اس کے خالق یا موجد کی جانب سے منسلک ہوتی ہے، اور اسی خاصیت کے ذریعے وہ اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، سورج کی فطرت یہ ہے کہ وہ روشنی اور گرمی فراہم کرے۔ اس کے اثرات یہ ہیں کہ روشنی سے دن کا اجالا ممکن ہوتا ہے اور گرمی زندگی کی بقا کے لیے ضروری عوامل کو متحرک کرتی ہے۔ اسی طرح پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ گیلا کرے، اور اس کے اثرات یہ ہیں کہ وہ پیاس بجھانے، صفائی کرنے اور زراعت کے لیے لازمی ہے۔ گاڑی کی فطرت یہ ہے کہ وہ تیزی سے سفر ممکن بنائے، اور اس کے اثرات یہ ہیں کہ وہ وقت کی بچت کرتے ہوئے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہے۔
ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر وجود کا ایک معین نظام ہوتا ہے، جسے ہم اس کی فطرت کہتے ہیں۔ جب اس وجود کو اس کے اصل مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو وہ اپنے مطلوبہ اثرات پیدا کرتا ہے۔ لیکن اگر اس وجود کو اس کے بنیادی مقصد سے ہٹا کر کسی اور طریقے سے استعمال کیا جائے، تو اس کے اثرات یا تو کم ہو جاتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم اسے “غیر فطری” کہہ سکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے خالق کی جانب سے دی گئی فطری ترتیب یا نظام سے ہٹ چکا ہوتا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ فطرت اصل میں ایک نظام یا قانون ہے، جس کے تحت ہر وجود خلق کیا گیا ہے۔ یہ قانون اس وجود کے مقصد اور اس کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔ جب کسی چیز کو اس کے معین اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کے نتائج بھی ویسے ہی سامنے آتے ہیں جیسا کہ اس کے خالق نے متعین کیے تھے۔ لیکن جب اس اصول یا مقصد سے انحراف کیا جائے، تو نہ صرف اس کے اثرات کمزور ہو جاتے ہیں بلکہ وہ وجود خود بھی اپنی اصل سے دور ہو جاتا ہے۔
لہٰذا، فطرت کا مفہوم صرف کسی چیز کی طبیعی یا قدرتی حالت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جامع نظام ہے جو کسی وجود کے مقصد اور اس کے اثرات کو بھی واضح کرتا ہے۔ فطرت دراصل کسی بھی وجود کی تخلیق کا وہ قانون ہے جو اس کے وجود کی غایت اور اس کے اثرات کو متعین کرتا ہے۔
آیئے ان مطالب کو تھوڑی وضاحت سے دیکھتے ہیں۔ فطرت دراصل کسی وجود کے اندر وہ خاصیت یا نظام ہے جسے اس کے خالق نے اسے تفویض کیا ہے تاکہ وہ اپنے مقصد کو پورا کر سکے اور اس کے اثرات ظاہر ہوں۔ یہ قانون یا نظام وجود کی ہر شکل میں نمایاں ہوتا ہے، چاہے وہ طبیعی ہو، انسانی و سماجی ہو، یا انسان ساختہ ہو۔ ہر وجود اپنے اندر ایک مقصد رکھتا ہے اور اس کے اثرات اسی مقصد سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر اس مقصد سے ہٹ کر اسے استعمال کیا جائے یا اس کے اصولوں سے انحراف کیا جائے، تو وہ غیر فطری ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، سورج کو دیکھیں۔ سورج کی فطرت یہ ہے کہ وہ روشنی اور گرمی فراہم کرے۔ اس کا مقصد زمین پر زندگی کے لیے ضروری توانائی مہیا کرنا اور ماحول کو متوازن رکھنا ہے۔ اس کے اثرات یہ ہیں کہ دن کی روشنی سے ہمیں دیکھنے کی صلاحیت ملتی ہے، زمین گرم ہوتی ہے، اور زراعت ممکن ہوتی ہے۔ اگر کسی طرح سورج کی روشنی یا گرمی کا یہ نظام ختم ہو جائے یا اس میں خلل پڑ جائے، تو زمین پر زندگی برقرار نہیں رہ سکتی۔ یہی اس کی فطرت کا بنیادی پہلو ہے۔
پانی کی مثال لیں۔ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ گیلے پن کا حامل ہو اور اشیاء کو تر کرے۔ اس کا مقصد زندگی کو برقرار رکھنا، پیاس بجھانا، زمین کو زرخیز بنانا، اور صفائی کو ممکن بنانا ہے۔ اگر پانی اپنی فطرت کھو دے، یعنی گیلا نہ کرے یا جم کر پتھر بن جائے، تو اس کے اثرات زندگی پر مہلک ہو سکتے ہیں۔ یہی پانی کی فطرت کا نظام ہے، جو اس کے مقصد اور اثرات کو واضح کرتا ہے۔
انسانی وجود کی طرف آئیں تو انسان کی فطرت میں سوچنا، سمجھنا، اور عمل کرنا شامل ہے۔ اس کا مقصد اپنی زندگی کو بہتر بنانا، معاشرتی تعلقات قائم کرنا، اور اللہ کی بندگی کرنا ہے۔ ان فطری خصوصیات کے اثرات انسانی ترقی، اخلاقی اقدار، اور سماجی ہم آہنگی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنی فطرت سے ہٹ کر چلنے لگے، یعنی سوچنے کے بجائے جذبات کے بہاؤ میں بہہ جائے یا دوسروں کے حقوق پامال کرے، تو اس کی فطرت سے انحراف نہ صرف اسے نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرے کو بھی بگاڑ دیتا ہے۔
سماجی نظام کی مثال لیں، تو شادی کو دیکھ سکتے ہیں۔ شادی کی فطرت مرد اور عورت کے درمیان ایک پاکیزہ تعلق قائم کرنا اور نسل انسانی کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے اثرات خاندان کی تشکیل، محبت، اور ذمہ داری کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن اگر شادی کو صرف ذاتی خواہشات کی تسکین کے لیے استعمال کیا جائے یا اس میں فطری اصولوں کی خلاف ورزی ہو، تو اس کے اثرات بگاڑ اور سماجی عدم استحکام کی صورت میں نظر آتے ہیں۔
انسان ساختہ چیزوں میں گاڑی ایک بہترین مثال ہے۔ گاڑی کی فطرت یہ ہے کہ وہ لوگوں اور اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جلدی اور آسانی سے منتقل کرے۔ اس کا مقصد وقت کی بچت اور زندگی کو آسان بنانا ہے۔ اس کے اثرات تیز سفر، سہولت، اور معاشی ترقی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر گاڑی کو غلط استعمال کیا جائے، جیسے کہ بہت زیادہ رفتار سے چلایا جائے یا اسے نقصان پہنچایا جائے، تو نہ صرف یہ اپنے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہو گی بلکہ یہ نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
یہی اصول انسان کی دیگر تخلیقات پر بھی لاگو ہوتا ہے، جیسے کمپیوٹر یا موبائل فون۔ ان کی فطرت معلومات کو آسانی سے محفوظ اور منتقل کرنا ہے، اور ان کے اثرات تیز تر مواصلات، سیکھنے کے نئے ذرائع، اور کاروباری ترقی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ان کا استعمال صرف وقت ضائع کرنے یا اخلاقی بگاڑ کے لیے کیا جائے، تو یہ اپنے مقصد سے ہٹ جاتے ہیں اور غیر فطری استعمال کی مثال بن جاتے ہیں۔
فطرت دراصل ہر وجود کے لیے وہ نظام ہے جو اس کے مقصد اور اثرات کو متعین کرتا ہے۔ چاہے وہ سورج ہو، پانی ہو، انسان ہو، سماجی ادارے ہوں، یا انسان ساختہ اشیاء، ہر ایک کی فطرت میں ایک خاص مقصد اور اثرات موجود ہیں۔ جب ان کے اصولوں کے مطابق عمل کیا جائے تو یہ خیر کے حامل ہوتے ہیں، لیکن جب ان اصولوں سے انحراف کیا جائے تو نقصان اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہی فطرت کا وہ قانون ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے۔
