تحریر : سید جہانزیب عابدی
صراط ٹائمز/ کے مطابق قبلہ سید جہانزیب عابدی صاحب نے حقیقی انقلاب کے بارے میں کہا، تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر وہ انقلاب یا مزاحمت جو حقیقی عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی نہ ہو، دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ جب کوئی تحریک یا فرد کسی مظلوم کے حق میں آواز اٹھاتا ہے لیکن اس کے نظریاتی خدوخال حق کی جڑوں سے منسلک نہیں ہوتے، تو وہ ایک محدود مدت کے بعد تحلیل ہو جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ حقیقی انقلاب صرف نعرے یا وقتی جوش سے نہیں بلکہ ایک گہرے فکری و روحانی نظریے سے پروان چڑھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، اگر کوئی شخص یا جماعت امام علی علیہ السلام, امام حسین علیہ السلام اور دیگر معصومین علیہم السلام کے اصولوں سے خالی ہو، تو اس کے اندر وہ بنیادی فکری بنیاد ہی نہیں ہوگی جو ظلم کے خلاف استقامت کو پائیدار بنا سکے۔ ان ہستیوں نے ہمیں دکھایا کہ ہر انقلاب کی بنیاد قربانی، اخلاص، عدل، اور حق پرستی ہونی چاہیے، نہ کہ وقتی سیاسی مصلحت یا ذاتی مفاد۔ اگر کسی تحریک کے پیچھے صرف ظاہری مظلومیت کا بیانیہ ہو، لیکن اس کے اصول امام علی علیہ السلام کے عدل اور امام حسین علیہ السلام کی سچائی سے منسلک نہ ہوں، تو وہ جلد یا بدیر کمزور پڑ جاتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
موصوف نے کہا کہ ، حقیقی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ مظلوم کی حمایت ایک ایسے عقیدے سے جڑی ہو جو خود بھی ہر قسم کے ظلم، استبداد، اور استعماری قوتوں سے پاک ہو۔ اگر کسی کے فکری نظام میں خود باطل کے عناصر شامل ہوں، تو وہ چاہے کتنی ہی طاقت کیوں نہ رکھتا ہو، آخرکار شکست کھا جاتا ہے۔ تاریخ میں بہت سے ایسے انقلاب دیکھے گئے جو وقتی طور پر طاقتور لگے، مگر چونکہ ان کے اصول اسلامی روحانیت، قربانی، اور حقیقی عدل سے خالی تھے، اس لیے وہ اپنی طاقت برقرار نہ رکھ سکے۔ انقلابی قوت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تحریک میں وہی جذبہ اور ایثار پیدا کرے جو امام حسین علیہ السلام نے عاشورا میں ہمیں سکھایا، ورنہ وہ رفتہ رفتہ داخلی تضادات کا شکار ہو جاتی ہے۔
بعض تحریکیں مظلوم کا نعرہ تو بلند کرتی ہیں، لیکن ان کے نظریات میں وہ روحانی و اخلاقی بلندی نہیں ہوتی جو انہیں ظلم کے مکمل خاتمے تک استقامت میں رکھ سکے۔ وہ طاقت کے ایک مخصوص درجے تک پہنچ کر یا تو خود استبدادی بن جاتی ہیں یا اندرونی اختلافات کا شکار ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔ امام علی علیہ السلام, امام حسین علیہ السلام اور دیگر معصومین علیہم السلام کی تحریکیں اس لیے ابدی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد کسی ذاتی یا وقتی مقصد پر نہیں تھی، بلکہ حق کی سر بلندی اور عدل کے قیام پر تھی۔ جو تحریکیں یا گروہ ان اصولوں سے عاری ہوتے ہیں، وہ ایک وقت کے بعد اپنی راہ کھو دیتے ہیں اور ان کی طاقت بکھر جاتی ہے۔
حقیقی کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو ظلم کے خلاف اٹھنے کے ساتھ ساتھ اپنی روحانی اصلاح پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اگر کسی تحریک میں صرف طاقت کا استعمال ہو اور وہ فکری طور پر کمزور ہو، تو وہ جلد یا بدیر کسی بڑے استبدادی قوت کے آگے سر جھکا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گروہ جو امام حسین علیہ السلام کی قربانی کے فلسفے سے ناواقف ہیں یا اس کے مخالف نظریات رکھتے ہیں، وہ مظلوموں کی مدد کے دعوے کے باوجود حقیقی فتح حاصل نہیں کر پاتے۔ ان کے اندر وہ یقین اور نظریاتی استحکام نہیں ہوتا جو صہیونی استعمار یا استبدادی قوتوں کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے۔
لہٰذا، جو تحریکیں یا افراد امام علی علیہ السلام, امام حسین علیہ السلام اور دیگر معصومین علیہم السلام کے اصولوں سے محروم ہیں، وہ نہ تو مظلوموں کی صحیح مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی دیرپا انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کا راستہ، چاہے بظاہر کتنا ہی مضبوط کیوں نہ لگے، آخرکار ان کمزوریوں میں الجھ کر ختم ہو جاتا ہے جو عدل، قربانی، اور سچائی سے محروم نظریات کے اندر موجود ہوتی ہیں۔
اگر جدید دور میں دیکھا جائے تو انقلابِ اسلامی ایران اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے کہ جب کوئی انقلاب ائمہ معصومین علیہم السلام کی تعلیمات پر استوار ہو، تو وہ نہ صرف کامیابی حاصل کرتا ہے بلکہ مظلومین کی حقیقی مدافعت کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں برپا ہونے والا یہ انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ ایک نظریاتی اور روحانی انقلاب تھا جو امام حسین علیہ السلام کے قیامِ عاشورا اور دیگر ائمہ معصومین علیہم السلام کی قربانیوں کا تسلسل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلاب نے نہ صرف داخلی استبدادی قوتوں کو شکست دی بلکہ عالمی سطح پر صہیونی استعماری طاقتوں کے خلاف مزاحمت کا مرکز بھی بن گیا۔ اگر انقلابِ ایران بھی ان حقیقی اصولوں سے خالی ہوتا اور صرف ایک وقتی سیاسی تحریک ہوتی، تو وہ بھی دیگر محدود المدت بغاوتوں کی طرح کمزور پڑ جاتا، مگر چونکہ اس کی جڑیں امام حسین علیہ السلام کے فلسفۂ قربانی اور امام علی علیہ السلام کے عدل میں پیوست تھیں، اس لیے آج تک یہ انقلاب مظلوموں کے حق میں ایک طاقتور آواز بنا ہوا ہے۔
حقیقی کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو ظلم کے خلاف اٹھنے کے ساتھ ساتھ اپنی روحانی اصلاح پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اگر کسی تحریک میں صرف طاقت کا استعمال ہو اور وہ فکری طور پر کمزور ہو، تو وہ جلد یا بدیر کسی بڑے استبدادی قوت کے آگے سر جھکا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گروہ جو امام حسین علیہ السلام کی قربانی کے فلسفے سے ناواقف ہیں یا اس کے مخالف نظریات رکھتے ہیں، وہ مظلوموں کی مدد کے دعوے کے باوجود حقیقی فتح حاصل نہیں کر پاتے۔ ان کے اندر وہ یقین اور نظریاتی استحکام نہیں ہوتا جو صہیونی استعمار یا استبدادی قوتوں کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے۔
لہٰذا، جو تحریکیں یا افراد امام علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ معصومین علیہم السلام کے اصولوں سے محروم ہیں، وہ نہ تو مظلوموں کی صحیح مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی دیرپا انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کا راستہ، چاہے بظاہر کتنا ہی مضبوط کیوں نہ لگے، آخرکار ان کمزوریوں میں الجھ کر ختم ہو جاتا ہے جو عدل، قربانی، اور سچائی سے محروم نظریات کے اندر موجود ہوتی ہیں۔
