35

استعماری فریب اور آج کا جدید مسلمان

  • نیوز کوڈ : 909
  • 27 February 2025 - 13:24
استعماری فریب اور آج کا جدید مسلمان

تحریر : سید جہانزیب عابدی صراط ٹائمز / آج کے جدید دور میں جہاں استعماری قوتیں اپنی ثقافتی اور فکری یلغار کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی اصل شناخت سے دور لے جا رہی ہیں، وہیں ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ سطحی مسلمان اور ظاہری دین دار طبقہ خود دین کو […]

تحریر : سید جہانزیب عابدی

صراط ٹائمز / آج کے جدید دور میں جہاں استعماری قوتیں اپنی ثقافتی اور فکری یلغار کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی اصل شناخت سے دور لے جا رہی ہیں، وہیں ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ سطحی مسلمان اور ظاہری دین دار طبقہ خود دین کو ترقی میں رکاوٹ سمجھنے لگا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مغرب کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہو کر اپنی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو فرسودہ اور غیر عملی سمجھنے لگے ہیں۔ استعماری طاقتیں ہمیشہ کسی بھی قوم پر غلبہ پانے کے لیے پہلے اس کے فکری ڈھانچے کو کمزور کرتی ہیں اور یہی حربہ آج مسلمانوں پر آزمایا جا رہا ہے۔ ان افراد کو معلوم ہی نہیں کہ دین فطرت کے عین مطابق ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو میں رشد و ترقی کا ضامن ہے۔ عبادات کے سائنسی فوائد پر تحقیق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر اسلامی احکامات صرف روحانی فوائد ہی نہیں بلکہ جسمانی، ذہنی اور سماجی بہتری کا بھی ذریعہ ہیں، مگر یہ طبقہ ان فوائد کو نظر انداز کر کے مغرب کی سطحی ترقی کو ہی اصل کامیابی سمجھنے لگا ہے۔
استعماری قوتوں نے ہمیشہ اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی اقوام کے فکری و نظریاتی نظام کو مسخ کیا ہے۔ مسلمانوں کے اندر بھی یہی حربہ آزمایا جا رہا ہے کہ انہیں ان کے اپنے دین سے بدظن کیا جائے، تاکہ وہ اپنے استعمار شکن نظام سے غافل ہو جائیں۔ اسلام نے صرف عبادات ہی نہیں بلکہ معاملات میں بھی ایک ایسا نظام دیا ہے جو کسی بھی قسم کی استعماری غلامی کو ختم کر کے خود مختار معیشت، منصفانہ سماجی ڈھانچے اور عادلانہ سیاسی نظام کو فروغ دیتا ہے۔ اسلامی بینکاری، عدالتی نظام، اخلاقی معیشت، اور معاشرتی اصول سب کے سب ایسے ہیں جو کسی بھی قوم کو مغربی استحصالی نظام سے آزاد کر سکتے ہیں، لیکن جدید تعلیم یافتہ طبقہ یا تو ان سے ناواقف ہے یا پھر مغرب کی اندھی تقلید میں مبتلا ہو کر ان کے سچ ہونے پر سوالات اٹھاتا ہے۔
مسئلہ صرف مغربی ثقافت کی تقلید تک محدود نہیں بلکہ یہ طبقہ مغرب کی جدید ترقی کے نقصانات سے بھی آگاہ نہیں ہے۔ مغربی طرزِ زندگی نے خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہے، فرد کو معاشرتی طور پر تنہا کر دیا ہے، ذہنی دباؤ اور اضطراب کو عام کر دیا ہے، اور ایک ایسی صارفیت (consumerism) کو فروغ دیا ہے جس میں انسان محض ایک مشین کی طرح کام کر کے سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ معاشرتی بے راہ روی، ذہنی امراض، خاندانی شکست و ریخت، اور روحانی خلا جیسے مسائل مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں شدید ہو چکے ہیں، مگر ان سطحی مسلمانوں کو صرف وہی چیز نظر آتی ہے جو میڈیا اور استعماری پروپیگنڈے کے ذریعے دکھائی جاتی ہے۔
یہ سب کچھ اس وجہ سے بھی ہو رہا ہے کہ لوگ حق کو حق کے دعوے داروں سے پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسے افراد ہوتے ہیں جو دین کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان کے اعمال ان کے دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ جب ایسے افراد دین کے نمائندہ بن کر سامنے آتے ہیں اور وہی استحصالی، کرپٹ اور مفاد پرست رویے اپناتے ہیں جو کسی سیکولر یا لبرل معاشرے میں پائے جاتے ہیں، تو اس سے دین بدنام ہوتا ہے اور لوگ دین سے بدظن ہو جاتے ہیں۔ دین کو اس کے دعوے داروں سے نہیں بلکہ حق کی نشانیوں سے پہچانا جانا چاہیے۔ اگر لوگ اسلام کے حقیقی اصولوں کو دیکھیں، اس کی عدل و انصاف پر مبنی تعلیمات کو سمجھیں اور خود قرآن و سنت کو براہ راست پڑھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ یہ دین ہر دور کے انسان کی ضرورت ہے، چاہے وہ علمی و سائنسی ترقی میں کتنا ہی آگے کیوں نہ چلا جائے۔
ان حالات میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم ایسے اقدامات کریں جن سے لوگ دین کی اصل روح کو پہچان سکیں اور ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھنے کے بجائے اس کی حقیقت کو پرکھنے کی عادت اپنائیں۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ دینی تعلیم کو جدید اسلوب میں پیش کیا جائے، تاکہ آج کے نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ اس سے متاثر ہو اور اسے اپنی عملی زندگی کے مسائل کا حل سمجھ سکے۔ اس کے لیے جدید تعلیمی اداروں میں دینی فکر کو شامل کرنا، اسلامی فلسفے کو سائنسی انداز میں بیان کرنا اور مغربی فکری یلغار کا مدلل جواب دینا ضروری ہے۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ وہ علماء، دانشور اور رہنما جو واقعی دین کی حقیقی تعلیمات پر کاربند ہیں، انہیں نمایاں کیا جائے اور ایسے افراد جو صرف دین کے نام پر اقتدار اور مفادات کی سیاست کرتے ہیں، ان کی حقیقت لوگوں پر واضح کی جائے۔ لوگ جب دیکھیں گے کہ دین دار افراد خود بھی دین پر عمل کر رہے ہیں اور اس کے عملی فوائد حاصل کر رہے ہیں تو وہ خود بخود اس طرف متوجہ ہوں گے۔
تیسری چیز یہ ہے کہ دین کے عملی پہلوؤں کو عام کیا جائے۔ صرف عبادات کی تلقین سے بات نہیں بنے گی بلکہ اسلام کے سماجی، سیاسی اور معاشی نظام کو عملی شکل میں پیش کرنا ہوگا۔ اسلامی معیشت، عدالتی نظام، اخلاقی اصول اور عادلانہ سماجی ڈھانچے کو نافذ کر کے ہی یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو حقیقی آزادی دیتا ہے اور استعماری تسلط سے نجات دلاتا ہے۔
چوتھا اہم قدم یہ ہے کہ نوجوانوں کی فکری تربیت کی جائے اور انہیں سکھایا جائے کہ وہ کسی بھی نظریے کو اندھی تقلید کے بجائے تحقیق کی بنیاد پر اپنائیں۔ اگر آج کا نوجوان تحقیق کرے گا اور چیزوں کی اصل حقیقت کو سمجھے گا تو وہ مغرب کی ظاہری چمک دمک سے دھوکہ نہیں کھائے گا اور استعماری چالوں کو بھی سمجھ سکے گا۔
پانچواں نکتہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرتی اقدار کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ خاندانی نظام، باہمی اخوت، والدین اور اولاد کے درمیان مضبوط تعلقات، اجتماعی فلاح و بہبود کے اصولوں کو مضبوط کر کے ہم استعماری ثقافتی حملے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جب مسلمان اپنی شناخت کو مضبوط کر لیں گے اور اپنی اقدار کو اپنانا شروع کر دیں گے تو مغرب کی ثقافتی یلغار خود بخود بے اثر ہو جائے گی۔
یہ ایک فکری جنگ ہے جسے جیتنے کے لیے ہمیں شعور، علم، تحقیق اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ صرف زبانی دعوے کرنے اور تقریریں سننے سے کچھ نہیں بدلے گا، بلکہ ہمیں دین کی حقیقی روح کو سمجھ کر اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا اور دوسروں تک اس کا پیغام اس انداز میں پہنچانا ہوگا کہ وہ مغربی استعماری فریب کو پہچان سکیں اور اسلام کی حقیقی روشنی کو دیکھ سکیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=909

ٹیگز

تبصرے