30

برصغیر میں سب سے پہلے شیعت کو بطور “فقہ خامس” متعارف اور فروغ دینے والی شخصیت قاضی نور اللہ شوستری رح کی ہے

  • نیوز کوڈ : 883
  • 26 February 2025 - 1:21
برصغیر میں سب سے پہلے شیعت کو بطور “فقہ خامس” متعارف اور فروغ دینے والی شخصیت قاضی نور اللہ شوستری رح کی ہے

تحریر : سید علی حیدر شیرازی آج کتنے مومنین قاضی نور اللہ شوستری کے نام اور ان کی خدمات سے واقف ہیں ؟کتنے مومنین قاضی نور اللہ شوستری کے ایام مناتے ہیں ؟ چونکہ ہمیں علم و عمل نہیں بلکہ وہ شخصیات پسند ہیں جن کے نام پر ہم ہر فحاشی انجام دے سکیں۔۔۔۔ ائمہ […]

تحریر : سید علی حیدر شیرازی

آج کتنے مومنین قاضی نور اللہ شوستری کے نام اور ان کی خدمات سے واقف ہیں ؟
کتنے مومنین قاضی نور اللہ شوستری کے ایام مناتے ہیں ؟

چونکہ ہمیں علم و عمل نہیں بلکہ وہ شخصیات پسند ہیں جن کے نام پر ہم ہر فحاشی انجام دے سکیں۔۔۔۔

ائمہ طاہرین علیہم السلام نے جس قدر تصوف کی مذمت فرمائی اتنا ہی آج کے بعض بدعقیدہ افراد نے تصوف کو شیعت میں گھسانے کی کوشش کی ہے۔
حضرت قاضی نور اللہ شوستری مرعشی عابدی المعروف شہید ثالث قاضی نور اللہ شوستری خوزستان کے شہر شوستر میں 956 ھجری کو پیدا ہوٸے۔ ان کے والد شریف الدین اکابر علما ٕ میں سے تھے وہ شوستر میں فوت ھوٸے ان کی قبر ان کے جد سید نجم الدین محمد مرعشی کے مقبرہ میں ہے۔

قاضی نوراللہ شوستری نے ابتداٸی تعلیم اپنے والد اور دوسرے فاضل علما سے شوستر میں حاصل کی انہوں نے کتب اربعہ کے علاوہ فقہ اصول اور کلام کی کتابیں پڑھیں۔ 979 ھجری میں آپ مشہد گٸے اور وہاں علامہ محقق عبدالواحد تستری کے دروس میں شرکت کی قاضی نور اللہ 993 ھجری میں مذھب فقہ جعفریہ کی اشاعت کے لیے ہندوستان تشریف لاٸے۔ وہ محدث ، فقیہ ، کلام اور مناظرہ کے ماہر ، ادیب ، شاعر اور زاہد تھے۔ ان کی جلالت اور شرافت کے باعث عظیم مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے قاضی نوراللہ شوستری کو قضاوت کے عہدہ کی پیشکش کی۔ قاضی نور اللہ نے یہ عہدہ قبول کرنے کے لیے یہ شرط عاٸد کی کہ وہ اپنے فیصلے کرنے میں کسی ایک فقہ کے پابند نہیں ہونگے البتہ ان کا ہر فیصلہ اہل سنت کے چاروں فقہوں میں سے کسی بھی ایک فقہ کے مطابق ہوگا۔ اکبر بادشاہ نے اس شرط کو منظور کرلیا اور انہیں چیف جسٹس مقرر کردیا۔

قاضی نوراللہ شوستری ہر فیصلہ فقہ جعفریہ کے مطابق کرتے تھے اور علم فقہ میں اپنی مہارت کے باعث اسے اہل سنت کے چار فقہوں میں سے کسی فقہ سے ثابت کرتے تھے۔ دربار میں ان کی عزت و عظمت کے نتیجہ میں مخالف فرقوں کے کچھ مولوی ان سے حسد کرنے لگے۔ مخالفین نے اکبر بادشاہ سے شکایت کی مگر کوٸی بات ثابت نہ کرسکے۔ ایک مرتبہ قاضی نوراللہ نے حضرت علی کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا تو مخالف اور حاسد مولویوں نے سخت اعتراض کیا کہ درود و سلام صرف نبیوں کے لیٸے مختص ہے۔ مخالفین نے بادشاہ سے یہ شکایت کی تو قاضی نوراللہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں وہ حدیث پیش کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

“لمحک لحمی”
(تمہارا گوشت میرا گوشت ہے)

قاضی نور اللہ نے کہا اس حدیث کے پیش نظر حضرت علی کو علیہ السلام کہا جاسکتا ہے۔ بادشاہ کو آپ کی یہ دلیل پسند آٸی۔اور اس کے دل میں قاضی نور اللہ کی قدر مزید بڑھ گٸی۔
اکبر بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا جہانگیر تخت پر بیٹھا تو قاضی نوراللہ کے مخالفین پھر متحرک ھوگٸے ۔ جہانگیر ضیف الراٸے تھا۔ مخالف مولویوں نے ایک جاسوس بھیجا جو قاضی نور اللہ کا شاگرد بن کر رہنے لگا۔

کچھ عرصہ بعد وہ ان کی کتاب احقاق الحق چرا کر لے گیا۔ مخالفین نے یہ کتاب جہانگیر کو پیش کی جس کے نتیجے میں قاضی نوراللہ کو سزاٸے موت سناٸی گٸی۔ ایک خار دار چھڑی سے انہیں مارا گیا۔ یہاں تک کہ ان کا گوشت ان کی ہڈیوں سے علیحدہ ہوگیا۔ پھر ایک تانبے کے برتن کو آگ سے بھر کر ان کے سر پر رکھ دیا گیا ۔اس طرح قاضی نوراللہ شوستری شہید ہوگٸے اور اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جاملے یہ سانحہ 1019 ہجری میں پیش آیا ۔ آپ کا مزار اکبر آباد آگرہ میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

📚 شرح احقاق الحق، از قاضی نوراللہ شوستری شرح شہاب الدین مرعشی صفحہ۔ 82 .84.158.160

آپ کا سلسلہ نسب 👇

ضیا الدین قاضی نوراللہ شوستری بن شریف الدین بن نوراللہ اول بن محمد شاہ بن مبارزالدین ماندہ بن جمال الدین حسن بن نجم الدین محمد بن تاج الدین حسین بن ابی مفاخر محمد بن ابی حسن علی بن ابی علی احمد بن ابو طالب بن ابواسماعیل ابراہیم بن ابو الحسین یحییٰ بن حسین ابو عبداللہ بن ابو علی محمد صوفی بن حمزہ بن علی بن ابوالقاسم حمزہ بن علی المرعش بن عبداللہ بن محمد بن حسن بن حسین اصغر بن امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام۔

تحریر بحوالہ۔
📚 روضتہ الطالب فی اخبار آل ابیی طالب ع

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=883

ٹیگز

تبصرے