39

دجالی نظام پر تجزیہ

  • نیوز کوڈ : 862
  • 25 February 2025 - 14:26
دجالی نظام پر تجزیہ

مولانا سید عمار حیدر زیدی قم صراط ٹائمز/ کے مطابق مولانا سید عمار حیدر زیدی نے دجالی نظام کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دجال کا ذکر اسلامی روایات میں ایک بڑے فتنہ کے طور پر کیا گیا ہے، جو قیامت کے قریب انسانیت کو گمراہ کرے گا۔ یہ فتنہ صرف […]

مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

صراط ٹائمز/ کے مطابق مولانا سید عمار حیدر زیدی نے دجالی نظام کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دجال کا ذکر اسلامی روایات میں ایک بڑے فتنہ کے طور پر کیا گیا ہے، جو قیامت کے قریب انسانیت کو گمراہ کرے گا۔ یہ فتنہ صرف ایک شخص کی صورت میں نہیں ہوگا بلکہ ایک نظریاتی، سائنسی اور سماجی نظام کی شکل میں بھی ابھر سکتا ہے۔

آپ نے مزید کہا کہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، میڈیا کے ذریعے جھوٹے بیانیے، اور انسان کا بڑھتا ہوا تکبر دجالی فریب کی ممکنہ نشانی ہو سکتا ہے۔ اس تجزیے میں ہم دجال کے فتنے کو قرآن، احادیث، اور عقلی تجزیے کی روشنی میں جدید حالات کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔دجال کی خصوصیات اور جدید دنیا میں اس کی جھلک نظر آتی ہے جیسا کہ روایات میں دجال کو ایک دھوکہ باز اور گمراہ کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔

پھر مولانا نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت بیان کی کہ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار دھوکہ ہوگا، اور مولانا نے کہا کہ امام علی (ع) کے مطابق وہ باطل کو حق کے لباس میں پیش کرے گا۔ اگر ہم آج کے حالات پر نظر ڈالیں، تو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں جھوٹے بیانیے اور فریب عام ہو چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے deepfake ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں، فیک نیوز کی مدد سے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، اور سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔روایات کے مطابق، دجال خود کو خدا ظاہر کرے گا اور انسانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرے گا کہ وہی ان کا رب ہے۔ آج کی دنیا میں ٹرانس ہیومینزم اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسان کو “خدائی” صلاحیتیں دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کچھ سائنسدان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مستقبل میں انسان موت پر قابو پا سکے گا، اپنے ذہن کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ کر سکے گا، اور بایو ٹیکنالوجی کے ذریعے خود کو “اپ گریڈ” کر سکے گا۔ یہ سب اس نظریے کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسان خود کو خدا سمجھنے کی طرف بڑھ رہا ہے، جو دجالی فتنے کی ایک اہم نشانی ہو سکتی ہے۔روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ دجال زمین پر بہت تیزی سے حرکت کرے گا، جیسے بادل یا ہوا۔ اگر ہم جدید دنیا کو دیکھیں، تو آج انسان لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتا ہے۔ ہائپرلوپ، سپرسونک جیٹ، اور خلائی سفر جیسی ٹیکنالوجیز دجالی پیش گوئیوں کے عین مطابق معلوم ہوتی ہیں۔ایک اور روایت میں دجال کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے کا دعویٰ کرے گا۔ آج کے جدید سائنسی تجربات جیسے کلوننگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل اوتار، اور کرائیوجینکس (Cryogenics) اس نظریے کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اب آئیں ہم قرآن اور جدید دنیا میں دجالی فتنے کی نشانیاں ملاحظہ کرتے ہیں اگرچہ قرآن میں دجال کا براہ راست ذکر نہیں، لیکن کئی آیات دجالی فتنے کی نشانیاں واضح کرتی ہیں۔ جیسے سورہ کہف میں اللہ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ خسارے میں وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کر رہے ہیں، حالانکہ وہ گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ آیت جدید دنیا کے ان لوگوں پر صادق آتی ہے جو سائنسی ترقی کے نام پر اخلاقی زوال کو فروغ دے رہے ہیں، نئی ٹیکنالوجیز کو انسانیت کے مفاد کی بجائے کنٹرول اور تسلط کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔اسی طرح سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اللہ کو پکارتا ہے، لیکن جب ہم اسے نعمت دیتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو میری عقل اور محنت کی کمائی ہے۔ یہ آیت جدید سائنسی ترقی کے نام پر بڑھتے ہوئے الحاد اور انسان کے بڑھتے ہوئے تکبر کی نشاندہی کرتی ہے۔پھر سورہ یونس میں دنیاوی زندگی کی مثال دی گئی ہے کہ جیسے آسمان سے پانی برسا، زمین نے پیداوار نکالی، لیکن ایک دن سب کچھ ختم ہو گیا۔ یہ دنیا کی فانی حقیقت کو بیان کرتا ہے، لیکن جدید دنیا میں انسان خود کو لافانی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جیسے ڈیجیٹل ذہانت کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہنے کا نظریہ یا جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے اپنی زندگی کو طویل کرنے کی خواہش۔اب ہم سائنسی ترقی اور دجالی فتنہ کو عقلی اعتبار سے دیکھتے ہیں ، اگر دجال کا سب سے بڑا ہتھیار فریب ہے، تو آج کی دنیا میں میڈیا اور ٹیکنالوجی اس ہتھیار کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ AI اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی رائے کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، لوگوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے، اور حقیقت کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت ایک ایسا آلہ بن چکا ہے جو کسی بھی معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کر سکتا ہے، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا سکتا ہے۔ اگر دجال کا مقصد یہی ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے، تو جدید AI-based misinformation اور deepfake ٹیکنالوجیز اس کے لیے بہترین ذرائع بن چکی ہیں۔اسی طرح، بایو ٹیکنالوجی اور جینیٹک انجینئرنگ میں ایسے تجربات کیے جا رہے ہیں جو فطرت کے اصولوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ انسان جینیاتی سطح پر خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ زیادہ طاقتور ہو، بیماریاں اس پر اثر نہ کریں، اور وہ ہمیشہ جوان رہے۔ یہ سب دجال کے اس نظریے کو تقویت دیتا ہے کہ وہ انسان کو “نیا خدا” بنانے کی کوشش کرے گا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ دجالی فتنے سے خود کو محفوظ رکھیں تو قرآن اور حدیث کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، دجال کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لیے اسلام نے کئی ہدایات دی ہیں۔ سب سے اہم ہدایت سورہ کہف کی تلاوت ہے، کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرے گا، وہ دجالی فتنے سے محفوظ رہے گا۔اس کے علاوہ، امام علی (ع) فرماتے ہیں کہ “علم سب سے بڑی طاقت ہے، اور جہالت دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔” یعنی، اگر ہم دجالی فتنے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ جدید میڈیا اور ٹیکنالوجی کے جھوٹے بیانیوں کو سمجھنے کے لیے تحقیق کرنا ہوگی۔قرآن کریم میں خداوند کا ارشاد ہے کہ دنیاوی زندگی کی چمک دمک صرف ایک دھوکہ ہے۔ آج کا سرمایہ دارانہ نظام، جو لوگوں کو مادہ پرستی میں الجھانے کی کوشش کرتا ہے، دجالی سازش کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، سادگی اور زہد اختیار کرنا، اور دنیا کی چمک دمک سے متاثر نہ ہونا دجالی فتنے سے بچنے کا ایک طریقہ ہے۔یہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ دجال کا فتنہ محض کسی فرد کا ظہور نہیں بلکہ ایک پورا نظریاتی، سائنسی اور سماجی نظام ہو سکتا ہے، جو لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جائے گا۔ جدید دنیا میں سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی زوال دجالی فتنے کی نشانیاں ہیں۔

مولانا نے اپنے آخری کلام میں کہا کہ ہمیں قرآن، احادیث، اور عقل کی روشنی میں دجالی فتنے کو سمجھنا ہوگا اور اپنی زندگی کو ایسے اصولوں پر استوار کرنا ہوگا جو ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھ سکیں۔ یہی وقت ہے کہ ہم اللہ سے مدد طلب کریں، حقیقت اور فریب میں فرق کرنا سیکھیں، اور دجالی چالوں سے ہوشیار رہیں۔خداوند ہم سب کو اس فتنے سے محفوظ رکھے اور اپنی آخری حجت امام مہدی موعود عج کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔۔

آمین یا رب العالمین

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=862

ٹیگز

تبصرے