بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
استعماری ممالک کے شہری جس طرح صہیونی مفادات شعوری یا لا شعوری حصہ بنتے ہیں تو اس پہلو کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست، معیشت اور فرد کے تعلق کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ الگ الگ خانوں میں۔ جدید قومی ریاست، خصوصاً United States، Canada، Australia اور European Union جیسے سیاسی و معاشی نظام، اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ شہری نہ صرف سیاسی فیصلوں میں حصہ لیتے ہیں بلکہ ان فیصلوں کے مالیاتی بوجھ اور عملی نفاذ کا بھی حصہ بنتے ہیں۔ جب ایک شہری ووٹ دیتا ہے تو وہ دراصل ایک ایسے نمائندے کو اختیار دے رہا ہوتا ہے جو خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی، اور بین الاقوامی تعلقات جیسے اہم معاملات پر فیصلے کرے گا۔ ان فیصلوں میں وہ پالیسیاں بھی شامل ہوتی ہیں جو مشرق وسطیٰ، اسرائیل یا دیگر خطوں کے ساتھ تعلقات کو متعین کرتی ہیں۔ اس طرح شہری کا ووٹ ایک وسیع تر پالیسی فریم ورک کا حصہ بن جاتا ہے، چاہے اس کی نیت یا ذاتی رائے کچھ بھی ہو۔
اسی طرح ٹیکس کا نظام ایک اور اہم کڑی ہے۔ جب شہری ٹیکس ادا کرتا ہے تو وہ ریاست کے مجموعی بجٹ میں حصہ ڈال رہا ہوتا ہے، اور یہی بجٹ مختلف شعبوں میں تقسیم ہوتا ہے، جن میں دفاع، خارجہ امداد، اور اسٹریٹجک اتحادیوں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔ مثال کے طور پر United States کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کو دی جانے والی فوجی و مالی مدد ایک مستقل عنصر رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک عام شہری کا ٹیکس، خواہ وہ تعلیم، صحت یا دیگر شعبوں کے لیے دیا گیا ہو، بالآخر ایک مشترکہ خزانے میں شامل ہو جاتا ہے جس سے ریاست اپنی تمام پالیسیوں کو نافذ کرتی ہے۔ اس طرح شہری ایک ایسے نظام کا حصہ بن جاتا ہے جو عالمی سطح پر اثرانداز ہوتا ہے، چاہے وہ اس کے ہر پہلو سے متفق نہ ہو۔
معاشی سطح پر یہ تعلق اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ جدید عالمی سرمایہ دارانہ نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورکس پر مشتمل ہے، جہاں سرمایہ، اشیاء، اور خدمات سرحدوں سے ماورا ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ European Union، Canada اور Australia جیسے خطے نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ بلکہ عالمی منڈیوں کے ساتھ بھی گہرے طور پر منسلک ہیں۔ ان معیشتوں میں کام کرنے والا ہر فرد، چاہے وہ ایک عام ملازم ہو یا ایک سرمایہ کار، اس وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہوتا ہے۔ اس کا روزگار، اس کی تنخواہ، اور اس کی خریداری سب اس عالمی نظام کے اندر گردش کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر ایک شخص کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا ہے جو اپنی مصنوعات یا خدمات مختلف ممالک میں فراہم کرتی ہے۔ وہ کمپنی اپنی سرمایہ کاری، سپلائی چین، یا شراکت داری کے ذریعے ایسے خطوں سے بھی جڑی ہو سکتی ہے جہاں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ تجارتی تعلقات موجود ہوں۔ اسی طرح مالیاتی ادارے، جیسے بینک اور سرمایہ کاری فنڈز، عالمی سطح پر سرمایہ لگاتے ہیں اور مختلف ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ ایک عام شہری جب اپنی تنخواہ بینک میں رکھتا ہے، یا پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کرتا ہے، تو وہ سرمایہ بھی ایک وسیع مالیاتی نظام میں شامل ہو جاتا ہے جہاں اس کا استعمال مختلف کاروباری اور حکومتی منصوبوں میں کیا جا سکتا ہے۔
ایک شہری اپنی روزمرہ زندگی میں محض روزگار، بچت اور اخراجات کے فیصلے کرتا ہے، لیکن وہ فیصلے ایک ایسے نظام کے اندر ہوتے ہیں جو پہلے سے طے شدہ ڈھانچوں اور عالمی روابط پر قائم ہے۔ اس لیے اس کا کردار زیادہ تر “ساختی” یا “سسٹمک” ہوتا ہے، یعنی وہ ایک بڑے نظام کا حصہ بن کر اس کے اثرات میں شامل ہو جاتا ہے۔
اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر شہری لازماً کسی خاص سیاسی یا نظریاتی مفاد کو تقویت دے رہا ہے، کیونکہ اسی نظام کے اندر اختلاف، مزاحمت اور متبادل بیانیے بھی موجود ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ انہی ممالک میں رہتے ہوئے پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں، متبادل معاشی ماڈلز کی حمایت کرتے ہیں، یا اپنی سرمایہ کاری اور خریداری کے ذریعے مختلف اخلاقی انتخاب کرتے ہیں۔ اس طرح فرد کا کردار ایک طرف اس نظام سے جڑا ہوا ہے، تو دوسری طرف وہ اس کے اندر تبدیلی کا امکان بھی رکھتا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ان معاشروں کے شہری کوئی بھی عقیدہ رکھتے ہیں ہوں شعوری لاشعوری طور پر عالمی صہیونیت کے مظالم کی تقویت کا باعث بنتے ہیں۔
شیعہ فقہ میں ظلم میں شرکت—چاہے وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ، اور چاہے شعوری ہو یا غیر شعوری—کو ایک سنجیدہ اخلاقی و شرعی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے احکام میں باریک تفریق کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے اصولی بات یہ ہے کہ کسی بھی قسم کے ظلم، اعانتِ ظلم یا ظالم کے ساتھ تعاون کو قرآن و سنت میں مذموم قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ قاعدۂ “حرمتِ اعانتِ ظالم” فقہ میں معروف ہے۔ تاہم سزا اور تدارک کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ انسان کا کردار کس درجے کا تھا، اس کی نیت کیا تھی، اور اس کے عمل کے اثرات کیا تھے۔
اگر کوئی شخص شعوری طور پر ظلم میں شریک ہوتا ہے، مثلاً کسی کا حق چھیننے، مالی استحصال کرنے، یا ظالم نظام کو مضبوط کرنے میں براہِ راست کردار ادا کرتا ہے، تو شیعہ فقہ کے مطابق اس پر سب سے پہلے “توبہ” واجب ہوتی ہے۔ توبہ صرف زبانی معافی مانگنے کا نام نہیں بلکہ اس میں ندامت، آئندہ نہ کرنے کا عزم، اور اگر ممکن ہو تو ظلم کے اثرات کو ختم کرنا شامل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر اس کے عمل سے کسی فرد کا حق ضائع ہوا ہے تو اس پر “ردّ مظالم” لازم آتا ہے، یعنی وہ مال یا حق اس کے اصل مالک کو واپس کیا جائے۔ اگر مالک معلوم نہ ہو تو اس مال کو فقہاء کی ہدایت کے مطابق صدقہ کیا جاتا ہے، عموماً مجتہد کی اجازت سے۔
اگر ظلم میں شرکت بالواسطہ ہو، جیسے کسی ایسے نظام میں حصہ لینا جو مجموعی طور پر ظلم پر قائم ہو، تو اس کا حکم کچھ مختلف ہوتا ہے۔ یہاں فقہ نیت، اختیار اور مجبوری کو دیکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص مجبوراً ایسے نظام کا حصہ ہے اور اس کے پاس نکلنے یا مخالفت کرنے کی حقیقی قدرت نہیں ہے، تو اس پر براہِ راست گناہ عائد نہیں کیا جاتا، لیکن پھر بھی اس پر لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ظلم کی حمایت سے بچے اور دل میں اس سے براءت رکھے۔ لیکن اگر وہی شخص اسی نظام کو تقویت دینے میں فعال کردار ادا کرے، فائدہ اٹھائے، اور اصلاح یا اجتناب کی کوشش نہ کرے، تو اس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور اس پر توبہ اور ممکنہ حد تک تدارک لازم ہو جاتا ہے۔
شیعہ فقہ میں ایک اور اہم تصور “حق الناس” کا ہے، جو اس معاملے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ کے حقوق (حق اللہ) معافی کے ذریعے ساقط ہو سکتے ہیں، لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے یا اس کا حق واپس نہ کیا جائے۔ اس لیے اگر ظلم مالی نوعیت کا ہو، جیسے کسی کے مال میں ناجائز شرکت، تو اس کا ازالہ کیے بغیر محض توبہ کافی نہیں سمجھی جاتی۔
اسی طرح بعض فقہی متون میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے مال سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے جو مشتبہ یا ظلم سے آلودہ ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا جائزہ لے اور جس حد تک یقین ہو کہ اس میں حرام یا مشکوک حصہ شامل ہے، اسے نکال کر مستحقین تک پہنچائے۔ اسے بعض اوقات “تطہیرِ مال” کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے، جو دراصل ردّ مظالم ہی کی ایک صورت ہے۔
البتہ یہ بات بھی اہم ہے کہ شیعہ فقہ میں ہر معاملے کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا جاتا۔ غیر شعوری شرکت، جیسے کہ ایک عام شہری کا کسی ایسے ریاستی نظام میں رہنا جس کی بعض پالیسیاں ظالمانہ ہوں، اس کو براہِ راست ظلم کے مرتکب کے برابر نہیں قرار دیا جاتا۔ یہاں ذمہ داری زیادہ تر اخلاقی اور تدریجی اصلاح کی ہوتی ہے، نہ کہ فوری شرعی سزا کی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شیعہ فقہ کا زاویہ یہ ہے کہ ظلم میں شرکت اگر ثابت ہو جائے تو اس کا بنیادی علاج تین چیزوں میں ہے: سچی توبہ، حقوق کی واپسی یعنی ردّ مظالم، اور آئندہ کے لیے ظلم سے عملی اجتناب۔ سزا کا تصور یہاں زیادہ تر اخروی جواب دہی اور بعض صورتوں میں دنیوی تدارک (جیسے مال کی واپسی) کی صورت میں سامنے آتا ہے، نہ کہ ہر حالت میں کوئی مقررہ تعزیری سزا۔ اس طرح فقہ انسان کو صرف مجرم قرار دینے کے بجائے اسے اصلاح، تطہیر اور عدل کی طرف واپس لانے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔
