سلام و حق پرستی کو کسی سے خطرہ نہیں*
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
اسلامی علم و دانش، جو وحی اور عقل کی آمیزش سے تشکیل پاتی ہے، اپنی فطرت میں ابدی، آفاقی اور فطری بنیادوں پر استوار ہے۔ یہ علم، نہ صرف انسان کی انفرادی و اجتماعی رہنمائی کرتا ہے بلکہ اسے مادّی، نفسی اور روحانی ارتقاء کے مراحل بھی طے کراتا ہے۔ تاہم اس نظامِ علم کو تاریخ کے ہر دور میں مختلف داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ایک طرف وہ بیرونی افکار و نظریات ہیں جن کا سرچشمہ مغربی مادّی فلسفہ ہے، جیسے کیپٹل ازم، سوشلزم، سیکولرزم اور لبرلزم، جنہوں نے انسان کو خالص دنیاوی ترقی، آزادیِ مطلق، دین سے لاتعلقی، اور خواہشات کی پیروی کی طرف مائل کیا۔ ان نظریات نے انسانی زندگی کو محض حیوانی ضروریات کے تابع کر دیا اور روحانیت و اخلاقیات کو ثانوی یا غیر اہم بنا کر پیش کیا۔ دوسری جانب، اسلامی علم کو داخلی طور پر بھی مختلف خطرات نے جکڑنے کی کوشش کی۔ غلو (غالیت) کی صورت میں بعض افراد نے ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو الوہیت کے درجہ تک پہنچا دیا اور عقل و نقل کی حدود پار کیں۔ صوفیت میں ایسے رجحانات پروان چڑھے جن میں شریعت کو ترک کر کے معرفت اور وجد کی راہوں کو مقصدِ حیات سمجھا گیا۔ نصیریت نے تشیع کے اندر ہی انحرافات پیدا کیے اور بعض شخصیات کو ماورائے عقل مقامات دے دیے۔ وہابیت نے ایک اور انتہاپسند رویہ اختیار کیا جس میں اسلامی روایت، روحانیت، اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت کو بدعت قرار دے کر اسلام کے جمالیاتی اور باطنی پہلو کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی نہیں، بلکہ کچھ خارجی ادیان و افکار جیسے ہندومت، بدھ مت، شنٹو ازم، زرتشت ازم وغیرہ، جو روحانی ریاضتوں، تزکیہ نفس اور عرفانی مشقوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہوں نے بھی اسلام کے باطنی و روحانی نظام کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کیا۔ اگرچہ یہ ادیان بعض پہلوؤں میں صوفیانہ تجربات سے مشابہ نظر آتے ہیں، تاہم ان کی بنیادیں وحی الٰہی پر نہیں بلکہ فطری کشش یا ذاتی مشاہدات پر مبنی ہیں۔ البتہ اگر ان تمام خطرات کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی علم و معرفت اپنی اصل فطرت کی بنیاد پر کسی وسیع معنوں میں خطرے سے دوچار نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ علم عقل، منطق، فطری احساسات اور الہامی ہدایت کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے۔ انسان کی فطرت، جو حق کی تلاش، عدل کی محبت، اور مظاہر فطرت کے حسن و جمال کی کشش رکھتی ہے، خود اسلام کی تعلیمات کی طرف مائل ہوتی ہے۔ یہ وہ اندرونی کشش ہے جو ہر انسان کے ضمیر سے ہم آہنگ ہوتی ہے، چاہے وہ کسی بھی زمانے، قوم یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے فطری اصول اور اعمال، وقتی طور پر دب سکتے ہیں، پردے میں جا سکتے ہیں، لیکن کبھی معدوم نہیں ہو سکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں کچھ حق شناس، بیدار ضمیر اور باعمل افراد سامنے آتے ہیں جو اس فطری دین کی روشنی کو دوبارہ ظاہر کر دیتے ہیں۔ وہ گمراہی کے پردوں کو چاک کرتے ہیں اور دنیا ایک بار پھر وحی کی روشنی میں زندہ ہو جاتی ہے۔ تاہم اس عمل میں اعتدال لازم ہے۔ نہ تو ہمیں اس قدر بےحسی اختیار کرنی چاہیے کہ باطل کی یلغار کو نظرانداز کر بیٹھیں، اور نہ ہی اتنی شدت پسندی کہ غیر ضروری جذباتیت اور افراط و تفریط کا شکار ہو جائیں۔ کیونکہ حق ایک منظم نظام کے تحت کارفرما ہے۔ اس کی رفتار مقرر ہے۔ کوئی اس سے پیچھے رہے یا آگے نکلے، وہ اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھیں اور اپنی حیثیت کے مطابق ادا کرتے رہیں۔ نہ جبراً کسی پر حق کو تھوپیں، نہ خود آرام طلبی، سستی اور لاپرواہی کا شکار ہوں۔ کیونکہ نہ جبر میں بقاء ہے اور نہ غفلت میں نجات۔ یہی قرآن کا پیغام ہے، جس کے بارے میں رب العالمین نے خود اعلان فرمایا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ۔ جس طرح قرآن محفوظ ہے، اسی طرح کائنات کا نظام، الہٰی قوانین اور تہذیب و تمدن کا تسلسل بھی رب کی حفاظت میں ہے۔ ہر دور میں خدا کے نمائندے، امامانِ حق اور ان کے تربیت یافتہ افراد، دین و شریعت، قانون و عدل، تہذیب و اخلاق کو زندہ رکھتے ہیں اور انسانیت کو الہٰی ہدایت کی روشنی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے کہ اپنی استعداد، وقت اور وسائل کے مطابق اس الہٰی کارواں کا حصہ بنیں۔ یہی راہ نجات ہے، یہی اصل بندگی، اور یہی فلاح کا راستہ ہے۔
اسلام و حق پرستی کو کسی سے خطرہ نہیں
اسلامی علم و دانش، جو وحی اور عقل کی آمیزش سے تشکیل پاتی ہے، اپنی فطرت میں ابدی، آفاقی اور فطری بنیادوں پر استوار ہے۔ یہ علم، نہ صرف انسان کی انفرادی و اجتماعی رہنمائی کرتا ہے بلکہ اسے مادّی، نفسی اور روحانی ارتقاء کے مراحل بھی طے کراتا ہے۔ تاہم اس نظامِ علم کو تاریخ کے ہر دور میں مختلف داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ایک طرف وہ بیرونی افکار و نظریات ہیں
مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1693
- نویسنده : سید جہانزیب عابدی
- پوسٹ کردہ بذریعہ: Tasawur Hussain
- کوئی نظارہ نہیں۔
