دین سے بغاوت کے اسباب اور راہ حل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزیب عابدی
شیعہ اثنا عشری مکتب ایک ایسا الٰہی، فکری اور روحانی سرمایہ ہے جو نہ صرف فردِ مؤمن کو اپنے رب، اپنے نفس اور اپنے معاشرے کے ساتھ مربوط کرتا ہے، بلکہ عالمگیر سطح پر عدل، آزادی، مساوات اور معرفت جیسے اصولوں کو انسانی زندگی کا محور بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ مکتب قرآنِ حکیم کی روشنی اور اہل بیت علیہم السلام کی حکمتوں سے ایسا جامع نظامِ فکر فراہم کرتا ہے جو ہر دور، ہر مسئلہ، اور ہر انسانی سوال کا الہی و عقلی جواب دے سکتا ہے۔ تاہم ایک دردناک حقیقت یہ ہے کہ اس قدر مکمل، آفاقی اور انسان ساز مکتب کے پیروکار بعض اوقات اپنے ہی مکتب سے بدظن ہو کر، مغرب کے بنائے ہوئے نظریات جیسے مارکس ازم، سوشلزم، کمیونزم، لبرل ازم اور سیکیولر ازم کی طرف جھکاؤ اختیار کر لیتے ہیں، اور وہ ان باطل نظریات میں وہی حل تلاش کرنے لگتے ہیں جو ان کے مکتب نے اصل اور فطری صورت میں پہلے سے فراہم کر رکھا ہوتا ہے۔
یہ انحراف صرف شیعہ حلقوں میں نہیں بلکہ اہل سنت میں بھی کم و بیش انہی وجوہات کی بنیاد پر پایا جاتا ہے، کیونکہ بنیادی مسئلہ فقہی اختلافات یا مسلکی امتیاز کا نہیں، بلکہ دین کے زندہ، فکری، روحانی اور انقلابی تصور سے عمومی دوری کا ہے۔ جب دین کو رسمی، محدود، اور غیر مربوط انداز میں پیش کیا جائے، تو وہ افراد، خصوصاً نوجوان نسل، جن کے دل میں انسانی عظمت، معاشرتی عدل، اور فکری آزادی کی طلب ہو، وہ دین کو اپنے سوالات کے جوابات کے لیے ناکافی سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ صرف ان کی محدود علمیت یا ناقص تبلیغ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ جب دین کو مولویانہ، سطحی اور رسوماتی انداز میں سکھایا جاتا ہے، جہاں فقط عبادات، مکروہات، اور جزئی فقہی احکام پر زور ہو، اور دین کے سماجی، سیاسی، معاشی، اور انقلابی پہلوؤں کو یا تو سرے سے نظرانداز کر دیا جائے، یا انہیں بدعت، خطرہ، یا اختلاف کا باعث قرار دے دیا جائے، تو نتیجتاً دین کا وہ چہرہ سامنے آتا ہے جو فکری تحریکوں کی قیادت کرنے کے بجائے صرف ماضی کے نوحوں، تعزیوں، اور مجازی تقدس کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ جب کسی نسل کو دین کے اس محدود تصور سے روشناس کرایا جاتا ہے، اور ساتھ ہی دنیا کے ظلم، طبقاتی ناانصافی، سرمایہ داری کی درندگی، اور سماجی جبر سے بھی سابقہ پڑتا ہے، تو وہ فطری طور پر ایسے نظریات کی طرف دیکھتی ہے جو عدل اور انقلابی اقدام کی بات کرتے ہیں، چاہے وہ نظریات اصل میں انسان کو روحانی اور اخلاقی زوال کی طرف ہی کیوں نہ لے جا رہے ہوں۔
مارکس ازم، سوشلسٹ اور لبرل فکر اپنی بنیاد میں الہامی یا روحانی نہیں بلکہ خالص مادی، انسان پرست اور بعض اوقات خدا دشمن بنیادوں پر قائم ہیں۔ یہ نظریات اگرچہ ظاہراً انسانی حقوق، مساوات، یا مظلوم کی حمایت کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر وہ روحانی توازن، اخلاقی تطہیر اور فطری وحدت موجود نہیں جو ایک انسان کو ظاہری نجات سے باطنی کمال کی طرف بھی لے جائے۔ جب ایک شیعہ نوجوان، جس کے پاس نہج البلاغہ کا امام، دعاوں کا زین العابدین، قربانی کا حسین، اور عدل کا مہدی ہو، وہی نوجوان جب مغربی فلسفوں سے روشنی لینے کی کوشش کرے، تو دراصل یہ اس مکتب کی عظمت سے لاعلمی، یا اس کی غلط نمائندگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اکثر لوگ مکتب اہل بیت سے اس لیے بدظن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے اس مکتب کو صرف فقہ کے چند مسائل، روزہ نماز کے احکام، یا علماء کے اندرونی اختلافات کی صورت میں دیکھا ہے۔ ان تک امام علیؑ کی حکومت کا وژن، امام حسینؑ کی انقلابی روح، امام سجادؑ کی دعاؤں میں چھپے نظریاتی نکات، یا امام باقر و امام صادق علیہما السلام کی علمی تحریکات کی گہرائی نہیں پہنچی۔ جب علماء خود ان بلند افکار کو عوام تک لے جانے میں کوتاہی برتیں، جب منبر پر صرف روایتی خطابت ہو، اور جب تعلیمی ادارے جدید انسان کے سوالات کو دین کے تناظر میں حل کرنے کی کوشش نہ کریں، تو لوگ اپنے ذہن کے خلا کو مغربی اصطلاحات سے بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مغرب نے اپنے فکری نظریات کو سائنسی اصطلاحات، جدلیاتی بحثوں، اور انسان دوستی کی زبان میں ایسا لپیٹ کر پیش کیا ہے کہ وہ بظاہر دین سے زیادہ عقلی، زیادہ عادلانہ اور زیادہ سائنسی نظر آتے ہیں، حالانکہ وہ صرف ایک خالی اور مصنوعی ساخت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر دین کی زبان وہی پرانی، جامد، اور جذباتی رکھی جائے، جس میں جدید انسان کی فہم اور سوالات کے لیے کوئی جگہ نہ ہو، تو دین کی تاثیر محض رسوم و روایات تک محدود ہو جاتی ہے۔
اس افسوسناک صورتِ حال کا حل نہ صرف ممکن ہے بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں مکتب اہل بیت کو محض فقہی دائرے سے نکال کر، اسے انسانی زندگی کے ہر پہلو میں زندہ، مربوط، اور فعال نظامِ ہدایت کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ ہمیں امام خمینی، شہید مطہری، شہید صدر، علامہ طباطبائی اور علامہ اقبال جیسے مفکرین کی طرح دین کو فلسفہ، سیاست، اقتصاد، تعلیم اور تربیت کے میدان میں فعال کرنا ہوگا۔ دین کو دلائل، حکمت، اور جدید استدلال کے ساتھ پیش کرنا ہوگا، نہ کہ محض حرام و حلال کے فتووں یا بدعت و ثواب کے جذباتی بیانات میں محدود کر دینا چاہیے۔
دین کے انقلابی پہلو کو زندہ کرنے کے لیے منبر، مدرسہ، یونیورسٹی، میڈیا، اور والدین سب کو مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے دین کے اس اصل اور روشن چہرے کو وقت کی زبان میں پیش نہ کیا، تو مغرب اپنی باطل روشنیوں سے ہماری نسلوں کو اندھیروں میں گم کرتا رہے گا، اور ہم خاموشی سے ان کے فریب کو اپنی نجات سمجھتے رہیں گے۔
پس آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مکتب اہل بیت کی عقلانی، روحانی، اور انقلابی بصیرت کو مٹی سے جھاڑ کر، اسے امت کی آنکھوں کے سامنے حقیقی عظمت کے ساتھ رکھا جائے تاکہ وہ نہ صرف اس پر فخر کریں بلکہ اپنی زندگی کی سمت اور شعور کا مرکز بھی اسی کو بنائیں۔ کیونکہ یہ مکتب ہی ہے جو دنیا کو حقیقی آزادی، عدل، نجات اور خدا سے جوڑنے والی سب سے روشن راہ فراہم کرتا ہے۔
