حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا: معرفت و عشق کی تابندہ قندیل
تاریخ کے دامن میں بعض ہستیاں ایسی ہیں، جن کے وجود کی خوشبو صدیوں تک قلوبِ عاشقان کو معطر کرتی رہتی ہے۔ ان کی حیاتِ طیبہ ایک ایسی روشن قندیل ہے، جو ہر دور میں اہلِ عشق کو راہ دکھاتی ہے۔ انہی میں سے ایک درخشندہ ستارہ، ایک مقدس ہستی، ایک ایسی مظلومہ جو مدینۂ جد سے کوچ کر کے دیارِ فراق میں محوِ آرام ہیں، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔ آپ کی زندگی علم و تقویٰ، عشقِ ولایت اور معرفت کا ایک درخشاں آئینہ ہے۔
نسب اور خانوادۂ عصمت
آپ اس خانوادۂ طہارت کی فرد تھیں جس کی گود میں قرآن کی آیات اترتی رہیں، جہاں عصمت و طہارت کے گلاب کھلتے اور جہاں سے صدائے وحی بلند ہوتی۔ آپ کے والد گرامی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون تھیں۔ آپ کا شجرہ نسب جنتی پھولوں کی مہک رکھتا ہے، کیونکہ آپ کی رگوں میں علی و فاطمہؑ کا خون دوڑتا تھا، آپ کی تربیت میں امامِ معصوم کا فیضان تھا اور آپ کے قلبِ منور پر ولایتِ علی ابن موسیٰ الرضاؑ کا سایہ تھا۔
امام زادوں میں درخشاں ستارہ
اگرچہ امام موسیٰ کاظمؑ کے بہت سے فرزند تھے، مگر امام رضا علیہ السلام کے بعد جو چہرہ سب سے زیادہ تابناک تھا، وہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکا تھا۔ آپ علم میں بے مثال، عبادت میں بے نظیر اور طہارت میں اپنی جدہ حضرت زہراؑ کا پرتو تھیں۔
شیخ عباس قمی نے نقل کیا ہے کہ امام موسیٰ کاظمؑ کی بیٹیاں انتہائی متقی اور عابدہ تھیں، لیکن حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہاکو جو فضیلت حاصل تھی، وہ کسی اور کو نہ ملی۔
ماثورہ زیارت نامہ کا حامل ہونا
حضرت فاطمہ معصومہ تمام فرزندان آئمہ طاہرین میں سے ان خاص فرزندوں میں سے ہیں کہ جن کا زیارت نامہ ،ماثورہ ہے ۔
ایک روایت کہ جو سعد قمی سے نقل ہوئی ہے مذکور ہے کہ ایک روز میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا ،آنحضرت نے مجھ سے معلوم کیا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے شہر میں ایک ہماری قبر بھی ہے ۔ میں نے عرض کی : میں آپ پر قربان ہوجاؤں کیا آپ کی مراد حضرت فاطمہ معصومہ بنت موسی کاظم علیہ السلام کی قبر ہے ؟آپ نے فرمایا : جی ہاں؛پھر فرمایا :من زارھا عارفا بحقھا فلہ الجنۃ۔ جو شخص بھی ان کی زیارت کرے اس صورت میں کہ وہ ان کے حق ومقام سے واقف ہوتو اس کی جزا جنت ہے ۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اس نورانی حدیث شریف میں نہ یہ کہ صرف اپنی خواہر گرامی کی زیارت کے ثواب کو بیان فرمایا ہے بلکہ آداب زیارت اور اس کی کیفیت کو بھی بیان فرمادیا ہے ۔آپ نے فرمایا :فاذا اتیت القبر عند راسھا مستقبل القبلۃ و کبر اربعا و ثلاثین تکبیرۃ، و سبح ثلاثا و ثلاثین تسبیحۃ، و احمد اللہ ثلاثا و ثلاثین تحمیدۃ، ثم قل: السلام علی ۔ ۔ ۔ الی آخر الزیارۃ۔ آپ جب بھی آنخصرت کی قبرمبارک کے قریب جائیں تو آپ کے سرہانے قبلہ رخ کھڑے ہوکر 34 مرتبہ اللہ اکبر ، 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد للہ پڑھیں اور پھر زیارت کی تلاوت فرمائیں۔
زیارت نامہ
اَلسَّلامُ عَلی آدَمَ صَفْوَۃِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلی نوُح نَبِیِّ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلی ا ِبْرہیمَ خَلیل ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلی موُسی کَلیم ِاللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلی عیسی روُح ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا خَیْرَ خَلْقَ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا صَفِیَّ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا مُحَمّدَ بْنَ عَبْد ِاللّہ ِ، خاتَمَ النَّبِیّینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَمیرَالْمُؤْمِنینَ عَلیَّ بْنَ اَبی طالِب ، وَصِیَّ رَسوُل ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا فاطِمَۃُ سَیِّدَۃَ نِساءِ الْعالَمینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکُما یا سِبْطَیْ نَبِیِّ الرَّحْمَۃ ِ، وَ سَیِّدَیْ شَباب ِ ہل ِ الْجَنَّۃ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْن ِ، سَیِّدَ الْعابِدینَ وَ قُرَّۃَ عَیْن ِ النّاظِرینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ، باقِرَ الْعِلْم ِ بَعْدَ النَّبِیِّ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّد الصّاد ِقَ الْبارَّ الْامینَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا موُسَی بْنَ جَعْفَر الطّاہرَ الطُّہرَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا عَلِیِّ بْنَ موُ سَی الرِّضَا الْمُرْتَضی، اَالسَّلامُ عَلَیْکَ یا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی التَّقِیَّ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا عَلِیِّ بْنَ مُحَمَّد النَّقِیَّ النّاصِحَ الْأَمینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ، اَلسَّلامُ عَلَی الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِہ ِ . اَللّہمَّ صَلِّ عَلی نُورِکَ وَ سِراجِکَ، وَ وَلِیِّ وَلِیِّکَ، وَ وَصِیِّکَ، وَ حُجَّتِکَ عَلی خَلْقِکَ . اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یابِنْتَ رَسوُل ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یابِنْتَ فاطِمَۃَ وَ خَدیجَۃَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یابِنْتَ اَمیر ِ الْمُؤْمِنینَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یابِنْتَ الْحَسَن ِ وَ الْحُسَیْن ِ اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یابِنْتَ وَلِیِّ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا اُخْتَ وَلِیِّ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا عَمَّۃَ وَلِیِّ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یابِنْتَ موُسَی بْن ِ جَعْفَر ، وَ رَحْمَۃُ اللّہ ِ وَ بَرَکاتُہُ. اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ، عَرَّفَ اللّہُ بَیْنَنا وَ بَیْنَکُمْ فِی الْجَنَّۃ ِ، وَ حَشَرَنا فی زُمْرَتِکُمْ، وَ أَوَرَدْنا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ، وَ سَقانا بِکَأْس ِ جَدِّ کُمْ مِنْ یَد ِ عَلِی ِّ بْن ِ اَبی طالِب ، صَلَواتُ اللّہ عَلَیْکُمْ ، أَسْئَلُ اللّہ أَنْ یُر ِیَنا فیکُمُ السُّروُرَ وَ الْفَرَجَ ، وَ أَنْ یَجْمَعَنا وَ إِیّاکُمْ فی زُمْرَۃ ِ جَدِّکُمْ مُحَمَّد، صَلَّی اللّہُ عَلَیْہ ِ وَ آلِہ ِ، وَ أَنْ لا یَسْلُبَنا مَعْر ِ فَتَکُمْ، إِنَّہُ وَلِیِّ قَدیرٌ. أَتَقَرَّبُ إِلَی اللّہ ِ بِحُبِّکُمْ وَ الْبَراۃ ِ مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَ التَّسْلیم ِ إِلَی اللّہ ِ ، راضِیاً بِہ ِ غَیْرَ مُنْکِر وَ لا مُسْتَکْبِر وَ عَلی یَقین ِ ما أَتی بِہ ِ مَحَمَّدٌ وَ بِہَ راض، نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْہکَ یا سَیِّدی ، اَللّہمَّ وَ رِضاکَ وَ الدّارَ الْآخِرَۃِ . یا فاطِمَۃُ ا ِشْفَعی لی فِی الْجَنَّۃ ِ ، فَا ِنَّ لَکَ عِنْدَاللّْہ ِ شَأْناً مِنَ الشَّأْن ِ. اَللّْہمّ ا ِنی اَسْئَلُکَ أَنْ تَخْتِمَ لی بِالسَّعادَۃ ِ ، فَلاتَسْلُبْ مِنّی ِ ما أَنَا فیہ ِ،وَ لاحُولَ وَ لا قُوَۃَ إِلا بالّلہ الْعَلِیِّ الْعَظیم ِ . اَللّہمَ اسْتَجِبْ لَنا، وَ تَقَبَّلْہُ بِکَرَمِکَ وَ عِزَّتِکَ ، وَ بِرَحْمَتِکَ وَ عافِیَتَکَ، وَ صَلَّی الّلہُ عَلی مُحَمَّد وَ آلِہ ِ أَجْمَعینَ، وَ سَلَّمَ تَسْلیما یا أَرْحَمَ الرّاحِمین .
ترجمہ
سلام ہو خداکے انتخاب کردہ آدم پر، سلام ہو خدا کے نبی نوح پر ، سلام ہو خدا کے دوست ابراہیم پر ،سلام ہو خدا سے بات کرنے والے موسی پر ، سلام ہو خدا کی روح عیسی پر،سلام ہو آپ پر اے خداوندعالم کی بہترین مخلوق، سلام ہو آپ پراے خدا کے انتخاب شدہ پیغمبر، سلام ہو آپ پر اے محمد ابن عبداللہ سب سے آخری نبی،سلام ہوآپ پر اے امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب،رسول خدا کے جانشین، سلام ہو آپ پر اے فاطمہ ، ساری کائنات کی عورتوں کی سردار،سلام ہو آپ پر اے نبی رحمت کے دونوں بیٹوں اور جنت کے جوانوں کے سرداروں،سلام ہو آپ پر اے علی ابن الحسین،عبادت کرنے والوں کے سردار اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک،سلام ہو آپ پر اے محمد ابن علی،نبی کے بعد علم کو پھیلانے والے، سلام ہو آپ پر اے جعفر ابن محمد،صادق ، نیک اور امانتدار، سلام ہو آپ پر اے موسی ابن جعفر،پاک و پاکیزہ، سلام ہو آپ پر اے علی ابن موسی،جس کی مرضی خدا کی مرضی ہے ، سلام ہو آپ پر اے محمدتقی ابن علی ، ،سلام ہو آپ پر اے علی نقی ابن محمد، امانتدار اور نصیحت کرنے والے، سلام ہو آپ پر اے حسن عسکری ابن علی،سلام ہو حسن عسکری کے بعد ان کے جانشین پر
پروردگار! درود و سلام بھیج اپنے نور اور اپنے چراغ اور اپنے دوست کے دوست اور جانشین پر اور اپنی مخلوقات پر حجت پر
سلام ہو آپ پر اے رسول خدا کی بیٹی،سلام ہو آپ پر اے فاطمہ اور خدیجہ کی بیٹی،سلام ہو آپ پر اے امیرالمؤمنین کی بیٹی،سلام ہو آپ پر اے حسن و حسین کی بیٹی،سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست کی بیٹی،سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست کی بہن، سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست کی پھوپی،سلام ہو آپ پر موسی ابن جعفر کی دختر اورآپ پر خدا کی رحمت اور اس کی برکت ہو۔
سلام ہو آپ پر کہ خدا وندعالم ہم کو جنت میں آپ کی زیارت سے نوازے اور ہمیں آپ کے زمرے میں شمار فرمائے،اور ہم کوآپ کے جد نبی اکرم کی حوض پر پہنچائے اور آپ کے دادا امیرالمؤمنین کے دست مبارک سے سیراب کرائے،آپ سب پر خدا کا درود و سلام ہو ، میں خداوندعالم کی بارگاہ میں ملتجی ہوں کہ ہم کو آپ کے ذریعہ کشائش دکھائے اور ہم کو و تم کو آپ کے جد حضرت محمد کے زمرے میں شامل فرمائے ،خدا کا درود و سلام ہو محمد اور ان کی آل پاک پر ، خداوندعالم ہم سے آپ کی معرفت و محبت کو سلب نہ کرلےکہ وہی سب کا سرپرست اور قدرت رکھنے والا ہے
میں آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے سبب خداوند عالم سے قربت حاصل کرنا چاہتاہوں ، میں خداوندعالم کے حضورتسلیم ہوں اور اس سے راضی و خوشنود ہوں نہ اس کی مخالفت کرتاہوں اور نہ اس کے سامنے غرور وتکبر کرتاہوں اور میں جو حضرت محمد لے کرآئے ان سب پر یقین رکھتا ہوں اور ان سے راضی ہوں۔
قم: اہلِ بیتؑ کا علمی مرکز
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی ہجرت کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ قم وہ مقام بن گیا جہاں علم کی نہریں بہنے لگیں۔ آپ کا مزار قم میں اہلِ بیتؑ کی محبت کی علامت بنا اور یہی وجہ ہے کہ آج قم حوزہ علمیہ کا قلب ہے۔
حوزہ علمیہ قم
یہ وہی سرزمین ہے جہاں آج دنیا کے گوشہ و کنار سے طلبہ علمِ اہلِ بیت حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی، فقہائے شیعہ نے قم میں اپنے علمی مراکز قائم کیے اور آج بھی یہ شہر تشیع کا علمی قلعہ ہے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی برکت سے یہ شہر محدثین، مفسرین، فقہاء اور عرفاء کی آماجگاہ بنا، اور آج بھی علومِ محمد و آلِ محمدؑ کے متلاشی اسی در پر سجدۂ علم ادا کرتے ہیں۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی کرامات
وہ جو پاکیزگی میں فاطمہ زہراؑ کی جھلک تھیں، وہ جو معرفت میں علیؑ کی وارث تھیں، وہ جو سخاوت میں حسن و حسینؑ کی وارث تھیں، ان کا فیض ان کے وصال کے بعد بھی جاری رہا۔
قای شیخ عبداللہ موسیانی کی مشہد میں مشکلات حل
آقای شیخ عبد اللہ موسیانی فرماتے ہیں
کہ میں مشہد کے لئے عازم تھا جب کہ وہاں زائرین کی کثرت کے سبب مسافر خانہ یا ہوٹل کا دستیاب ہونا مشکل تھا جوں ہی مجھے مشہد میں اژدہام اور گھر نہ ملنے کی خبر ملی تو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکے حرم میں مشرف ہوا اور بہت ہی اپنائیت سے آنحضرت سلام اللہ علیہاکی خدمت میں عرض پرداز ہوا بی بی جان میں آپ کے بھائی کی زیارت کا قصد رکھتا ہوں لہٰذا آپ خود مجھے وہاں پر دچار مشکلات ہونے سے بچائیں اس کے بعد میں مشہد کے لئے روانہ ہوگیا وہاںپہنچنے کے بعد دیکھا کہ ایسے ہنگام میں گھر کا ملنا بہت مشکل ہے حرم سے قریب ٹیکسی رکی اور میں اتر گیا ناگہاں دیکھا کہ ایک جوان ایک گلی سے نکل کر میری طرف آرہا ہے اس نے آتے ہی سوال کیا کہ گھر چاہیے ۔ میں نے کہا کہ ہاں پھر اس نے مجھے اپنے پیچھے پیچھے آنے کے لئے کہا میں اس کے ساتھ ہولیا وہ اپنے گھر لے گیا ایک بہت ہی وسیع و عریض اور عمدہ کمرہ میرے حوالہ کیا اور میں سامان سجل کرنے لگ گیا اتنے میں اس کی بیوی نے مجھے کھانے پر مدعو کر لیا حرم مطہر کی زیارت اور فریضہ کی ادائیگی کے بعد ان کے ساتھ ہم دستر خوان ہو گیا دوسرے دن اس خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ آپ یہاں کب تک رہنے کا قصد رکھتے ہیں
میں نے جواب دیا دس دن
خاتون نے کہا ہم تہران جارہے ہیں یہ کنجی ہے آپ جب بھی جانا چاہیں یہ کنجی ہمارے پڑوسی آقای رضوی (رضوانی ) کو دے دیجئے گا میں سمجھا کہ جس کو کنجی دینے کے لئے کھا ہے اس سے مراد کرایہ کی بھی بات کر لی ہے چند دن کے بعد کوئی گھر پر آیا اور کہنے لگا میں رضوی یا رضوانی ہوں آپ جب بھی قم کے لئے روانہ ہوں کنجی کمرے کے اندر آئینہ کے پیچھے رکھ دیجئے گا ۔ اور گھر کا دروازہ بند کرکے چلے جائے گا ۔ پھر میں نے اس سے بھی کہا کہ کرایہ کا کیا ہو گا اس نے کہا کہ کرایہ سے متعلق مجھ سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے دس دن قیام کے بعد جب میں نے قم آنے کا ارادہ کیا تو یاد آیا کہ ٹکٹ پہلے لینا چاہئے اب تو ٹکٹ لینا بہت مشکل ہے ۔ میں نے اس گاڑی والے سے ( جو ہمارے قیام گاہ کے پاس گاڑی پارک کرتا تھا اور تہران سے مشہد اس کی مسیر تھی ) گزارش کی کہ ہمیں بھی اپنے ہمراہ تہران تک لیتے چلو اس نے جواب دیا کل میں تو تہران جاوٴں گا لیکن آپ کو بہر صورت قم بھیج دوں گا دوسرے دن وہ ہمیں گیرج لے گیا اور دفتر کے نگراں سے سفارش کی کہ یہ ہمارے لوگ ہیں اور قم جانا چاہتے ہیں کوئی صورت نکالئے اس نے خنداں پیشانی سے استقبال کیا اور بس میں بہترسے بہتر ہماری ضرورتوں کے مطابق جگہ دیدی اسی طرح حضرت معصومہ سلام اللہ علیہانے ہماری واپسی کا بھی انتظام کردیا جس طرح مشہد میں ہمارے قیام کا بند و بست کیا تھا۔
قرض کی ادائیگی اور رزق میں برکت
آستانہ مقدسہ کے خادم جناب آقائے کمالی فرماتے ہیں : ۱۳۰۲ ھء شمسی کی بات ہے میں حضرت معظمہ کی بارگاہ میں پناہ گزیں تھا اور وہیں صحن نو میں ایک حجرے میں مقیم تھا ۔ زندگی بہت سختی سے گذر رہی تھی اور بے حد فقیر و نادار ہو گیا تھا زندگی حرم کے اطراف کے تاجروں سے قرض پر گذر رہی تھی ۔ ۔ یہاں تک کہ ایک دن نماز صبح کی ادائیگی کے بعد بی بی کی بارگاہ میں مشرف ہوا ۔ اور اپنی ساری حالت بی بی کو سنادیا ۔ اسی حالت میں پیسوں کی تھیلی میرے دامن میں گری ۔ کچھ دیر تک تو میں نے انتظار کیا کہ شاید یہ کسی زائر کا پیسہ ہو تو یہ اسے دیدوں ، لیکن وہاں کوئی نہ تھا ۔ میں سمجھ گیا کہ بی بی کا خاص لطف ہے ۔ تھیلی لے کر اپنے حجرے کی طرف پلٹ گیا ۔ جب اسے کھولا تو اس میں چار ہزار تومان تھے پہلے تو میں نے سارے کے سارے قرض ادا کئے پھر چودہ مہینوں تک اس کو خرچ کرتا رہا لیکن اس میں کافی برکت تھی ، ختم ہی نہیں ہوتا تھا ۔ یہاں تک کہ ایک دن حجۃ الاسلام حسین حرم پناہی تشریف لائے اور ہماری زندگی کے بارے میں سوال کیا ۔ میں نے موضوع کو یوں بیان کردیا ۔ انہی دنوں وہ عطیہ ختم ہوگیا
ضعف چشم
حاج آقائے مہدی صاحب مقتبرۃ اعلم السلطنۃ ( بین صحن جدید و عتیق ) نے نقل کیا ہے کہ میں کچھ دنوں قبل ضعف چشم میں مبتلا ہو گیا تھا ۔ ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بعد معلوم ہوا کہ آنکھ میں موتیا بندہوگیا ہے لہٰذا اس کا آپریشن کرنا پڑے گا ۔ وہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں جب بھی حرم مشرف ہوتا تھا تو ضریح کی تھوڑی سی گرد و غبار آنکھوں سے مل لیا کر تا تھا ۔ میرا یہ عمل باعث ہوا کہ میری آنکھوں کی کمزوری برطرف ہوگئی ۔ یہ عمل ایسا با برکت ثابت ہوا کہ آج تک چشمے کے بغیر قرآن و مفاتیح پڑھتا ہوں۔
پاکستانی یا ہندوستانی زائرین اور بی بی کی کرم نوازی
جناب آقای عبد اللہ موسیانی حضرت آیت اللہ مرعشی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سردی کے موسم میں ایک شب بے خوابی کے مرض میں مبتلا ہوگیا سوچا کہ حرم چلا جاوٴں لیکن نا وقت اور بے موقع سمجھ کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگا اور سر کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ لیا تا کہ اگر نیند بھی آنے لگے تو سو نہ سکوں ۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ ایک بی بی کمرے میں داخل ہوئیں ہیں ( جن کا قیافہ میں نے بخوبی دیکھا لیکن اسے بیان نہیں کروں گا ) اور فرماتی ہیں کہ سید شہاب اٹھو اور حرم جاوٴمیرے بعض زائرین کڑاکے کی سردی سے جان بحق ہونے والے ہیں ۔ انھیں بچاوٴ آپ فرماتے ہیں کہ میں بلا تامل حرم روانہ ہوگیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ حرم کے شمالی دروازے ( میدان آستانہ کی طرف ) پر بعض پاکستانی یا ہندوستانی ( اپنی مخصوص وضع و قطع کے ساتھ ) ٹھنڈک کی شدت کی وجہ سے دروازے سے پشت لگائے ہوئے تھر تھرارہے ہیں ( کانپ ) میں نے دق الباب کیا حاج آقای حبیب نامی خادم نے میرے اصرار پر دروازہ کھول دیا ہمارے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی حرم کے اندر داخل ہوگئے اور ضریح کے کنارے زیارت اور عرض ادب میں مصروف ہوگئے میں نے بھی انہیں خادموں سے پانی مانگا اور نماز شب کے لئے وضو کرنے لگا
بی بی کی زندگی کا پیغام
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ
عشقِ ولایت ہر حال میں مقدم ہے، جیسا کہ بی بی نے اپنے بھائی کے دیدار کے لیے تمام تکالیف کو برداشت کیا۔
علم کی روشنی کبھی مدھم نہ ہونے پائے، کیونکہ آپ نے اپنی مختصر حیات میں بھی علمِ اہلِ بیتؑ کو پھیلایا۔
شفاعتِ معصومہ سلام اللہ علیہا آپ کے در پر جو بھی آتا ہے، خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، بس شرط یہ ہے کہ نیت پاک ہو۔
نتیجہ
یہ کیسے ممکن ہے کہ فاطمہ زہراؑ کی ہم نام، موسیٰ بن جعفرؑ کی بیٹی، علی ابن موسیٰ الرضاؑ کی بہن، زمین پر بے یار و مددگار رہ جائے؟ نہیں!
وہ جو مدینے سے نکلی تھیں، تنہا نہ تھیں، وہ جو قم پہنچیں، بے سہارا نہ تھیں، وہ جو وصال کر گئیں، بے نشان نہ تھیں۔
بلکہ آج بھی، ہر روز، ہزاروں زائرین ان کے آستانے پر حاضر ہو کر عشق و معرفت کے جام نوش کرتے ہیں۔ ان کے روضے کا ہر زائر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے دل میں ایک روشنی جاگ اٹھی ہے، ایک روحانی کشش نے اس کی روح کو چھو لیا ہے، اور یہ روشنی اور کشش صرف انہیں نصیب ہوتی ہے جو بی بی کی بارگاہ میں دل کی سچائی کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔
اللهم ارزقنا زیارتها في الدنیا و شفاعتها في الآخرة
