سازشی مطالعات, نفسیاتی مسائل اور مکتب تشیع
تحریر: سید جہانزیب عابدی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سازشوں یا سازشی نظریات پر تحقیق و مطالعہ اس وقت تک تعمیری ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے ساتھ کسی متبادل، مثبت نظام یا حل پر غور نہ کیا جائے۔ جب انسان یا معاشرہ صرف سازشوں کے گرد سوچنا شروع کر دیتا ہے اور کسی تعمیری راستے کا تصور ذہن میں نہیں رکھتا تو وہ مایوسی اور بے عملی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کو عمل سے روک دیتی ہے اور اسے بے بسی، ناامیدی اور مسلسل شکوہ شکایت کی طرف لے جاتی ہے۔
ایسے حالات میں فرد یا قوم اپنی کوتاہیوں اور اندرونی کمزوریوں پر توجہ دینے کی بجائے ہر مسئلے کی جڑ بیرونی دشمن یا کسی خفیہ سازش کو قرار دینے لگتی ہے۔ اس طرز فکر سے حقیقت پسندی ختم ہو جاتی ہے اور خود احتسابی کا عمل رک جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فکری جمود پیدا ہوتا ہے کیونکہ کوئی تعمیری سوچ، نظریہ یا راستہ موجود نہیں ہوتا جو انسان کو عمل کی طرف لے جائے۔
مزید یہ کہ صرف سازشوں پر توجہ دینے سے باہمی اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ افراد اور ادارے ایک دوسرے سے بدظن ہونے لگتے ہیں، اور معاشرے میں شکوک و شبہات اور تفرقے کی فضا جنم لیتی ہے۔ یہ سب نہ صرف فکری اور معاشرتی انتشار کا باعث بنتا ہے بلکہ انسان کی نفسیاتی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ مسلسل خوف، وسوسے اور مایوسی انسان کو ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ برائیوں کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ بھلائی کی طرف دعوت اور اصلاحی اقدام بھی کیے جائیں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: “تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے”۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف برائیوں کی نشاندہی کافی نہیں بلکہ ہمیں ایک مثبت نظام، ایک اصلاحی ویژن اور تعمیرِ ملت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
لہٰذا اگر سازشی نظریات کو محض سنسنی خیزی، خوف یا الزام تراشی کی نیت سے زیرِ بحث لایا جائے اور اس کے ساتھ کوئی تعمیری مقصد یا متبادل نظام نہ ہو تو یہ طرز فکر معاشرے میں ذہنی، فکری اور اخلاقی زوال کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر تنقیدی مطالعے کے ساتھ اصلاحی تصور بھی پیش نظر رکھا جائے تاکہ فکر، عمل اور نتیجہ، سب مثبت ہوں۔
اگر سازشوں یا سازشی نظریات پر تحقیق اس حالت میں کی جائے کہ انسان کے ذہن میں ایک واضح، مثبت اور متبادل نظام موجود ہو، اور وہ اس کے قیام کے لیے سنجیدہ جدوجہد بھی کر رہا ہو، تو پھر ایسے مطالعات نہ صرف مفید بلکہ انتہائی ضروری اور تعمیری ثابت ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ان تحقیقات کا مقصد صرف برائیوں کی نشاندہی نہیں ہوتا بلکہ ان کے پسِ پردہ محرکات، طریقہ کار، ذہنی و ثقافتی حملوں اور اثرات کو سمجھنا ہوتا ہے تاکہ متبادل نظام کی تشکیل و تحفظ زیادہ مؤثر، بصیرت افروز اور حکمت آمیز انداز میں ہو سکے۔
ایسے مطالعے انسان کو دشمن کے طریقہ کار، منصوبہ بندی اور نفسیاتی حربوں سے واقف کرتے ہیں، تاکہ وہ صرف مدافع نہ رہے بلکہ ایک مضبوط، فکری اور عملی مزاحمت بھی کھڑی کر سکے۔ یہ بصیرت انسان کو سادہ لوحی سے نکال کر ایک باشعور اور تدبر رکھنے والا فرد بناتی ہے جو نہ صرف خود کو بچا سکتا ہے بلکہ دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ جب متبادل نظام ذہن میں ہوتا ہے تو سازشوں پر تحقیق ایک رہنما کے ہتھیار کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو اسے چالاکی، گہرائی اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔
اسلامی تناظر میں بھی قرآن نے نہ صرف باطل کی پہچان کرائی بلکہ مومنین کو اس کے خلاف کھڑے ہونے، دلائل سے مقابلہ کرنے اور حق کا نظام قائم کرنے کی دعوت دی۔ پیغمبرانِ الٰہی نے جب باطل نظاموں کی سازشوں کو بے نقاب کیا تو ان کے پیش نظر محض مخالفت نہیں بلکہ ایک الٰہی نظام کا قیام اور اصلاحی جدوجہد تھی۔ اس لیے جب سازشی نظریات کی تحقیق، شعور اور مقصدیت کے ساتھ کی جائے تو وہ فکری پختگی، عملی حکمت، اور نظریاتی قوت پیدا کرتی ہے، جو معاشرے کی تشکیل نو میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ طرزِ مطالعہ انسان کو صرف حالات کا تجزیہ کرنے والا نہیں بلکہ تبدیلی کا محرک بناتا ہے۔
آج کے دور میں جب صہیونی سامراج اپنی فکری، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی سازشوں کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنے کی منظم کوشش کر رہا ہے، تو ان سازشوں پر تحقیق کرنا یقیناً ایک بیداری کا عمل ہے۔ لیکن اگر اس تحقیق کے ساتھ کوئی متبادل نظریہ یا نجات دہندہ راستہ موجود نہ ہو تو یہ انسان کو صرف نفرت، مایوسی اور انتقامی جذبات کی طرف لے جا سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انقلابی تشیع، انسانیت کے لیے ایک روشن، باوقار اور امیدافزا متبادل کے طور پر سامنے آتی ہے۔
انقلابی تشیع صرف صہیونی یا سامراجی نظام کی نفی نہیں کرتا، بلکہ وہ اثباتِ حق کا علمبردار ہے۔ یہ مکتب ہمیں صرف دشمن کو پہچاننا نہیں سکھاتا، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف قیام کیسے کیا جائے، باطل کے مقابلے میں کیسا نظام قائم کیا جائے، اور انسان کو اپنی فطری عظمت سے کیسے روشناس کرایا جائے۔ انقلابی تشیع کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ دنیا ظلم سے بھر جائے گی مگر امامِ عدل کا ظہور اُسے عدل و انصاف سے بھر دے گا، اور اس عظیم تبدیلی کے مقدمات میں ہمارا شعور، عمل، قربانی اور استقامت شامل ہے۔
یہی فکر، اسلامی انقلابِ ایران کی صورت میں معاصر دنیا میں ایک زندہ مثال بن کر ابھری، جس نے صہیونی اور استعماری نظام کے مقابل ایک خدا پرست، مظلوم دوست اور علم و عدل پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا۔ اس انقلابی تشیعی پلیٹ فارم نے دنیا بھر کے محروموں کو حوصلہ دیا کہ سازشوں سے ڈر کر نہیں، انہیں سمجھ کر، ایمان اور حکمت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔ یہ فکر ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی نجات، فقط دشمن کو گالی دینے میں نہیں، بلکہ خود کو بدلنے، معاشرے کو بیدار کرنے اور عالمی سطح پر ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے میں ہے۔
انقلابی تشیع انسان کو خوف اور مایوسی سے نکال کر، ایک ایسا زاویہ نظر عطا کرتی ہے جو اسے اپنی زندگی کو ایک مقصد، ایک مشن، اور ایک عالمی دائرہ عمل میں دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ وہ اسے سکھاتی ہے کہ سازشوں کو بے نقاب کرنے کے بعد ہمیں کس رخ پر قدم اٹھانا ہے، اور کس طرح ہم اپنی فکری، اخلاقی اور اجتماعی خودمختاری کو بحال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک بیدار فکر ہے جو نفی سے اثبات کی طرف لے جاتی ہے، اور فرد کو شکوے سے اٹھا کر شہادت، قیادت اور خدمت کے میدان میں لا کھڑا کرتی ہے۔
صہیونی سامراج آج دنیا کے تمام اہم شعبہ ہائے زندگی میں اپنی گہری سازشوں اور منظم منصوبہ بندی کے ذریعے ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو انسان کو اس کی فطری، روحانی اور اخلاقی شناخت سے جدا کر دے۔ اس کا مقصد صرف مادی استعمار نہیں بلکہ فکری، ثقافتی اور روحانی تسلط ہے، تاکہ انسانیت کی باگ ڈور چند خفیہ اور طاقتور ہاتھوں میں رہے، اور تمام اقوام اسی کے بنائے ہوئے پیمانوں پر سوچیں، جئیں اور فیصلے کریں۔ ایسے میں اگر کوئی نظام اس فتنہ انگیز استعمار کا حقیقی اور پائیدار متبادل پیش کرتا ہے تو وہ انقلابی تشیع کی تعلیمات اور عملی نظام ہے، جو فقط نفیِ باطل پر نہیں بلکہ اثباتِ حق پر استوار ہے۔
سیاسی شعبے میں صہیونی سامراج کا انداز یہ ہے کہ وہ جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی امن جیسے دلکش نعروں کی آڑ میں اپنے نمائندے اقتدار میں لاتا ہے، پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا ہے، اور قوموں کے فیصلوں کو اپنے مالی، فوجی اور میڈیا کے ذرائع سے کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے برعکس انقلابی تشیع ایک ایسا سیاسی نظریہ پیش کرتی ہے جو اسلام کی حاکمیت، عدل پر مبنی قیادت، اور ولایتِ فقیہ جیسے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ نظریہ فقط حکمران کے بدلنے کا نہیں بلکہ حاکمیت کے معیار کے بدلنے کا نام ہے، جہاں قیادت کسی مفاد، خاندانی وراثت یا اکثریتی دھوکے پر نہیں بلکہ تقویٰ، علم اور عدل پر منحصر ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس نظام کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں نہ صرف صہیونی سامراج کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی جاتی ہے بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کو نظریاتی اور عملی سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
اقتصادی میدان میں صہیونی سامراج نے سودی نظام، بینکاری اجارہ داری، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے دنیا کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ اس نے معیشت کو چند افراد کے مفاد کا ذریعہ بنا دیا ہے، جہاں سرمایہ عام انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کے بجائے اسے غلام رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انقلابی تشیع اس کے مقابل وہ معاشی تصور رکھتی ہے جو بیت المال، خمس، زکات، وقف، اور حلال رزق کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف دولت کے ارتکاز کو روکتا ہے بلکہ محروم طبقات کو معاشی طاقت دیتا ہے اور امت کو خود کفالت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس میں دولت ایک امانت ہے، نہ کہ طاقت کا ذریعہ، اور محنت کش طبقہ عزت اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں صہیونی نظام نے ایسی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں وضع کی ہیں جو نئی نسل کو اپنی تاریخ، عقائد، اخلاق اور ہدف سے کاٹ دیتی ہیں۔ مغربی تعلیمی نظام نے سائنسی ترقی کی آڑ میں روحانیت اور الٰہی وابستگی کو غیر اہم بنا کر پیش کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا انسان تیار ہوتا ہے جو بظاہر تعلیم یافتہ ہے مگر فکری غلام ہے، جو صرف نوکری، شہرت، دولت یا جسمانی لذت کو زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔ انقلابی تشیع کا نظریہ تعلیم، انسان کو عبدِ صالح، مجاہد، بصیر اور خادمِ خلق بنانے کے لیے ہے۔ اس میں قرآن، سیرتِ معصومین علیہم السلام، عقل، اور فطرت، علم کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ یہاں تعلیم فقط روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ تربیتِ نفس، خدمتِ خلق، اور آمادگیِ قیامِ عدل کا وسیلہ ہے۔
میڈیا اور ثقافت میں صہیونی سازش سب سے زیادہ گہری ہے۔ فلم، موسیقی، سوشل میڈیا، خبروں اور ڈراموں کے ذریعے وہ ایسی ثقافت پھیلا رہا ہے جو فحاشی، تشدد، مادہ پرستی، انفرادیت اور لذت پرستی کو فروغ دیتی ہے۔ اس کا ہدف یہ ہے کہ انسان اپنی فطری شرم، حیا، وفا، قربانی، اور روحانی اقدار کو فراموش کر دے، اور وہ صرف ایک صارف، ایک تماشائی یا ایک ذہنی غلام بن کر رہ جائے۔ انقلابی تشیع اس کے جواب میں ایسی ثقافت کو فروغ دیتی ہے جو عزت، غیرت، دین، شہادت، علم، خدمت، اور بیداری پر مبنی ہو۔ اسلامی انقلاب نے میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اسے انسان سازی کا ذریعہ بنایا، جس کا مقصد معاشرتی تربیت، حق گوئی، باطل کا انکار، اور مظلوموں کی آواز کو دنیا تک پہنچانا ہے۔
عورت کے مقام کے حوالے سے صہیونی سامراج نے یا تو اسے ایک جنسی شے کے طور پر پیش کیا، یا ایک بے ہدف فرد کے طور پر جو آزادی کے نام پر خاندان، نسل اور تربیت جیسے فطری فرائض سے دور ہو جائے۔ جبکہ انقلابی تشیع عورت کو ایک باوقار، باحیا، باضمیر، باعلم اور فعال شخصیت کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت ایک کامل ماں، بیوی، بیٹی، داعیہ اور مظلوموں کی وکیل کے طور پر عورت کے مقام کو واضح کرتی ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی کربلائی و کوفی و شامی قیادت انقلابی تشیع میں عورت کے فعال کردار کی دلیل ہے، جہاں وہ نہ صرف صبر و حیا کی علامت ہے بلکہ ظلم کے خلاف قیام کی علمبردار بھی ہے۔
عدالتی نظام میں صہیونی دنیا کا انداز یہ ہے کہ قوانین طاقتوروں کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں اور کمزوروں پر لاگو کیے جاتے ہیں۔ عدالتیں انصاف نہیں بلکہ مفاد کی محافظ بن گئی ہیں، اور جج صاحبان، سیاسی اور سرمایہ دارانہ دباؤ کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ انقلابی تشیع اس کے برعکس ایک ایسا عدالتی نظام پیش کرتی ہے جہاں قاضی کو تقویٰ، علم، بصیرت، اور خوفِ خدا سے آراستہ ہونا لازمی ہے، جہاں عدل کا مطلب ہر فرد کو اس کا حق دینا اور ظلم کے تمام راستے بند کرنا ہے۔ امام علی علیہ السلام کا عدالتی سسٹم اس کا عملی نمونہ ہے جہاں خلیفہ وقت کو بھی عام شہری کی طرح قاضی کے سامنے پیش ہونا پڑا۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ انقلابی تشیع، محض ردِ سامراج یا احتجاجی فکر نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کو اس کی اصل، مقصد، عظمت اور ذمہ داریوں سے روشناس کراتا ہے۔ یہ نظام محض نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی لائحہ عمل ہے، جو دنیا میں اللہ کی حاکمیت، انسانی کرامت، اور اجتماعی عدل کی بحالی کے لیے ایک عالمی تحریک کی صورت میں اُبھر رہا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر چل کر ہم نہ صرف سامراجی سازشوں کا شعور حاصل کرتے ہیں بلکہ ایک روشن، فطری اور خدائی متبادل کے قیام کی طرف بھی قدم بڑھاتے ہیں
