ڈیپ اسٹیٹ, کثیر الجہتی تفرقہ اور استعمار
لاحول ولاقوۃ الاباللہ
تحریر : سید جہانزیب عابدی
صراط ٹائمز: پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ڈیپ اسٹیٹ کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہے، وہاں وڈیرے، جاگیردار، چودھری اور سردار ایک خاص سماجی اور سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ طبقات برطانوی دور سے ہی طاقت کے ڈھانچے کا حصہ رہے ہیں، اور آزادی کے بعد بھی ان کا اثر و رسوخ برقرار رہا۔
یہ افراد مقامی سیاست، زمینوں کی ملکیت، اور برادری کے نظام پر گرفت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں عوام پر ایک غیر رسمی کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ ڈیپ اسٹیٹ میں اصل طاقت عسکری اور بیوروکریٹک اداروں کے پاس ہوتی ہے، لیکن یہ جاگیردار اور سردار سیاسی جماعتوں کے ذریعے ان اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کی حیثیت اکثر پاور بروکرز کی ہوتی ہے، جو انتخابات میں اپنی برادریوں کے ووٹ بینک کو استعمال کرکے قومی اور صوبائی سیاست میں اپنا اثر ڈالتے ہیں۔
جاگیردارانہ نظام کے باعث ان کا اختیار دیہی علاقوں میں زیادہ مضبوط ہے، جہاں وہ قانون، انصاف اور وسائل کی تقسیم پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ان کا کردار ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے لیے مفید ہوتا ہے کیونکہ وہ مقامی سطح پر استحکام قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، جب ان کے مفادات ریاستی پالیسیوں سے متصادم ہوتے ہیں تو بعض جاگیرداروں اور وڈیروں کو کمزور کرنے یا ان کی طاقت محدود کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ جاگیردار اور وڈیرے خود ڈیپ اسٹیٹ کا حصہ بن گئے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے اپنی روایتی حیثیت کھو رہے ہیں، خاص طور پر شہری سیاست اور جدید سیاسی حرکیات کے سبب۔ اس کے باوجود، مجموعی طور پر ان طبقات کی حیثیت آج بھی پاکستانی سیاست اور سماجی ڈھانچے میں اہم اور اثر انگیز ہے۔
استعماری طاقتیں ہمیشہ ان خطوں میں خصوصی دلچسپی لیتی ہیں جہاں قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہوں اور مقامی سطح پر طاقت چند جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں یا بااثر خاندانوں کے ہاتھ میں ہو۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں بعض علاقوں میں ایسے بااثر طبقات کی مضبوط رٹ ہوتی ہے، وہاں استعماری قوتیں اپنے اقتصادی مفادات کے لیے ان طبقات اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک توازن قائم رکھتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
یہ قوتیں سب سے پہلے مقامی وڈیروں اور سرداروں کے ساتھ ایسے معاہدے کرتی ہیں جن سے ان کی طاقت مستحکم رہے، جیسے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر انہیں مالی فوائد، مراعات یا دیگر سیاسی فائدے دیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، یہ بااثر طبقات اپنی برادری یا علاقے میں استعماری طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیتے اور اکثر مزاحمت کو دبانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب، استعماری طاقتیں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے اندر ایسے افراد کو سپورٹ کرتی ہیں جو ان کے منصوبوں کو آسانی سے عملی جامہ پہنا سکیں۔ بیوروکریسی میں ان کے مفاد کے حامل افراد پالیسی سازی میں مدد دیتے ہیں، قانونی رکاوٹیں ہٹانے میں سہولت فراہم کرتے ہیں، اور ان اقتصادی معاہدوں کو یقینی بناتے ہیں جو استعماری قوتوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اگر کسی موقع پر مقامی سردار یا وڈیرے ان پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کریں تو استعماری طاقتیں اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ان پر دباؤ ڈالتی ہیں، اور اگر ضرورت پڑے تو انہیں کمزور کرنے کے لیے متبادل قیادت کو فروغ دیتی ہیں۔
اس پورے کھیل میں عام عوام سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کو ان وسائل سے براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ ان کے علاقے استحصالی پالیسیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قدرتی وسائل کے نام پر ان کی زمینیں ہتھیا لی جاتی ہیں، ماحولیات کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، اور اگر وہ آواز اٹھائیں تو یا تو مقامی بااثر طبقات انہیں دبا دیتے ہیں یا پھر ریاستی مشینری کے ذریعے ان پر سختی کی جاتی ہے۔ اس طرح، استعماری قوتیں نہ صرف اقتصادی مفاد حاصل کرتی ہیں بلکہ مقامی طاقتوں کو استعمال کرکے اپنی گرفت مزید مضبوط کر لیتی ہیں، جبکہ عوام بے بسی کا شکار رہتے ہیں۔
استعماری طاقتیں ہمیشہ “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کو اپنے اقتصادی مفادات کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں وڈیرے، جاگیردار، سردار، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی مقامی سطح پر طاقتور حیثیت رکھتے ہیں، وہاں یہ قوتیں بڑی چالاکی سے ان ہی عناصر کو اپنی حکمت عملی کے تحت استعمال کرتی ہیں تاکہ بغیر کسی نمایاں مزاحمت کے اپنے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
مذہب کے میدان میں، فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دی جاتی ہے تاکہ عوام ایک دوسرے کے خلاف مصروف رہیں اور اصل مسائل کی طرف توجہ نہ جا سکے۔ مخصوص گروہوں کو مالی و سیاسی مدد دے کر انہیں مضبوط کیا جاتا ہے، جبکہ بعض دیگر کو پس پشت ڈال کر ایک مستقل کشمکش کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس دوران، وڈیرے اور سردار مقامی سطح پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے اس تقسیم کو مزید تقویت دیتے ہیں، اور اسٹیبلشمنٹ ان گروہوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے نام پر ایسی پالیسیاں اپناتی ہے جو درحقیقت استعماری مفادات کے لیے راہ ہموار کرتی ہیں۔
سیاسی میدان میں، استعماری طاقتیں ہمیشہ ایسے رہنماؤں اور گروہوں کو پروان چڑھاتی ہیں جو وقتی طور پر ان کے مفادات کے لیے موزوں ہوں۔ سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر کے انہیں کمزور کیا جاتا ہے تاکہ کوئی ایک جماعت یا شخصیت اتنی طاقتور نہ ہو کہ وہ قومی سطح پر آزادانہ فیصلے کر سکے۔ وڈیروں اور جاگیرداروں کے ذریعے مقامی سیاست کو قابو میں رکھا جاتا ہے، جبکہ بیوروکریسی کو اس بات پر مامور کیا جاتا ہے کہ وہ ہر ایسی پالیسی کو نافذ کرے جو استعماری مفادات کو تحفظ فراہم کرے۔
ثقافت اور تہذیب کے حوالے سے، روایتی اقدار کو کمزور کیا جاتا ہے اور مغربی نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے تاکہ مقامی شناخت کمزور پڑ جائے۔ وڈیروں اور جاگیرداروں کو اس معاملے میں سہولت دی جاتی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی مقامی ثقافت پر اپنی گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہوتے ہیں، اور استعماری طاقتوں کے ساتھ جُڑ کر انہیں مزید مواقع ملتے ہیں کہ وہ اپنی برتری قائم رکھ سکیں۔ دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ ایسی تعلیمی اور میڈیا پالیسیوں کی سرپرستی کرتی ہے جو عوام کی فکری سمت کو غیر محسوس انداز میں استعماری ایجنڈے کی طرف موڑ دیں۔
زبان کے معاملے میں بھی استعماری حکمت عملی واضح نظر آتی ہے۔ قومی سطح پر ایسے لسانی تنازعات پیدا کیے جاتے ہیں جو مختلف قومیتوں اور گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیں۔ ایک مخصوص زبان کو فروغ دے کر باقی زبانوں کو کمزور کیا جاتا ہے تاکہ مختلف قومیتوں میں احساسِ محرومی بڑھے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ اس عمل میں بیوروکریسی اور تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے غیر محسوس انداز میں ایسی تبدیلیاں کی جاتی ہیں جو اس تقسیم کو مزید گہرا کرتی ہیں۔
قومیتوں کے حوالے سے، استعماری طاقتیں ہمیشہ ان عناصر کی پشت پناہی کرتی ہیں جو علیحدگی پسندی کو ہوا دیتے ہیں، تاکہ ریاست مستقل داخلی مسائل میں الجھی رہے اور اسٹیبلشمنٹ کو بار بار ایسے فیصلے لینے پڑیں جو استعماری مفادات کے لیے سازگار ہوں۔ بعض قوم پرست رہنماؤں کو پس پردہ مدد دے کر ان کے مطالبات کو شدت دی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف انہی گروہوں کو وڈیروں، جاگیرداروں یا ریاستی اداروں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ داخلی کشیدگی برقرار رہے اور اصل مسائل کی طرف توجہ نہ دی جا سکے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اندرونی طور پر تقسیم کا شکار رہتا ہے، مقامی طاقتیں استعماری پالیسیوں کے تحت ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتی ہیں، اور استعماری قوتیں آسانی سے اپنے اقتصادی مفادات حاصل کر لیتی ہیں۔ یوں نہ کوئی بڑی بغاوت اٹھتی ہے، نہ کوئی عوامی تحریک مضبوط ہو پاتی ہے، اور استعماری مفادات کا کھیل بغیر کسی نمایاں رکاوٹ کے جاری رہتا ہے۔ اس پوری حکمت عملی میں وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروں، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، بلکہ استعماری طاقتوں کو بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے رنگ چوکھا نظر آتا رہے۔
