ڈرپوک منافق دانشوروں/صحافیوں سے ہوشیار رہیں!!
لاحول ولاقوۃ الاباللہ
تحریر: سید جہانزیب عابدی
صراط ٹائمز: مغرب پرست دانشوروں اور صحافیوں کی نفسیاتی ساخت کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ ان کی تحریریں، تقریریں اور بیانیے جدید غلامی کے نظام کو جواز بخشنے اور نیو کالونیل ازم کے اثرات کو چھپانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ افراد خود کو ترقی پسند اور حقیقت پسند کہلواتے ہیں، لیکن درحقیقت ان کی فکر ایک مخصوص فریم ورک کے تحت پروان چڑھی ہوتی ہے جو انہیں استعماری بیانیے کے دفاع پر مجبور کرتی ہے۔
ایسے دانشور عام طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو لاشعوری طور پر استعماری قوتوں کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہ لوگ مغربی تعلیمی اداروں، میڈیا، اور عالمی نظریاتی نظام سے متاثر ہو کر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دنیا طاقتوروں کے اصولوں پر چلتی ہے اور کمزور اقوام کا مقدر صرف بے بسی اور شکست خوردگی ہے۔ وہ تاریخ کے ان ابواب کو نظرانداز کرتے ہیں جہاں کمزور اقوام نے استعماری طاقتوں کو شکست دی اور اپنی آزادی حاصل کی۔ ان کی سوچ میں ایک داخلی احساسِ کمتری ہوتا ہے جو انہیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ مغرب کا نظام ناگزیر ہے، اس لیے اس کے خلاف مزاحمت کی بجائے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہیے۔
دوسری قسم میں وہ دانشور شامل ہیں جو دانستہ طور پر استعماری قوتوں کے مفادات کا دفاع کرتے ہیں۔ یہ افراد مختلف عالمی میڈیا اداروں، این جی اوز، اور مغربی تھنک ٹینکس سے وابستہ ہوتے ہیں اور ان کے خیالات اور تحریریں اس مخصوص بیانیے کو فروغ دیتی ہیں جس کے ذریعے مظلوم اقوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کے مسائل کی اصل وجہ ان کی اپنی نااہلی اور اندرونی خرابیاں ہیں، نہ کہ بیرونی استعماری قوتیں۔ وہ نیو کالونیل ورلڈ آرڈر کو حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے ایک ایسا فطری نظام بنا کر دکھاتے ہیں جس میں طاقتور کی برتری کو ایک ناگزیر اصول سمجھا جانا چاہیے۔
یہ دانشور اور صحافی عام طور پر اپنی گفتگو میں “عملیت پسندی” اور “حقیقت پسندی” کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ مزاحمت کے جذبات کو کمزور کر سکیں۔ وہ ہمیشہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ دنیا میں صرف معاشی اور فوجی طاقت ہی اہم ہے اور جو قومیں کمزور ہیں، ان کے پاس سوائے اطاعت کے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ وہ مظلوموں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ استعماری طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرنا بے سود ہے، کیونکہ “طاقتور ہمیشہ طاقتور رہے گا اور کمزور ہمیشہ کچلا جائے گا۔” یہ سوچ درحقیقت ایک نفسیاتی ہتھیار ہے جس کے ذریعے غلامی کے خلاف بغاوت کے امکانات کو کمزور کیا جاتا ہے۔
یہ دانشور اپنے خیالات کو دانشورانہ لبادے میں چھپانے کے لیے مخصوص زبان اور اصطلاحات کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ کبھی “نیوٹرل صحافت” کا نعرہ لگاتے ہیں، کبھی “معروضیت” کی بات کرتے ہیں، اور کبھی “عالمی اصولوں” کا حوالہ دے کر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بس ایک “بین الاقوامی حقیقت” ہے جسے قبول کر لینا چاہیے۔ لیکن جب دنیا میں کہیں طاقتور مغربی ریاستیں کوئی ناانصافی کرتی ہیں تو یہی دانشور خاموش ہو جاتے ہیں یا پھر ایسی تشریحات پیش کرتے ہیں جو اصل مجرموں کو بری الذمہ ثابت کر دیں۔
ان کی نفسیاتی تشکیل میں ایک اور اہم عنصر “شخصی بقا” اور “مفادات کا تحفظ” ہے۔ جو صحافی یا دانشور مغربی میڈیا اداروں یا مغربی تھنک ٹینکس سے منسلک ہوتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کے کیریئر اور مالی فوائد اسی وقت محفوظ رہ سکتے ہیں جب وہ استعماری بیانیے کی مخالفت سے گریز کریں اور اس کے بجائے ایسے مباحث چھیڑیں جو عوام کو ان کے اصل دشمنوں سے غافل رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر مسلمانوں کے داخلی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں لیکن مغربی سامراجیت کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی نفسیات میں ایک اور پہلو احساسِ برتری اور داخلی اجنبیت کا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہی سماج کو پسماندہ، رجعت پسند اور غیر منطقی سمجھتے ہیں، جبکہ مغرب کو عقلیت، ترقی اور آزادی کا واحد مرکز قرار دیتے ہیں۔ ان کے اندر یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ وہ مغرب کے منظورِ نظر بنیں، چاہے اس کے لیے انہیں اپنے ہی معاشرے کو کمتر ثابت کرنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ استعماری سازشوں کو بے نقاب کرنے کے بجائے مظلوموں کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
یہ رویہ کسی بھی معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ ذہنی غلامی کو فروغ دیتا ہے۔ جب مظلوم اقوام کے دانشور ہی ان کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور انہی طاقتوں کی وکالت کریں جو ان کے حقوق سلب کر رہی ہیں، تو عوام میں شعوری بیداری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری قوتیں ہمیشہ ایسے دانشوروں کو پروان چڑھاتی ہیں جو ان کے مفادات کا دفاع کریں اور عوام کو بے بسی کی نفسیات میں مبتلا رکھیں۔
تاہم، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی اور جب شعور بیدار ہوتا ہے تو سب سے پہلے ایسے دانشوروں کا نقاب اترتا ہے جو استعماری نظام کے محافظ بنے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں اور دیگر کمزور اقوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے دانشوروں کی حقیقت کو پہچانیں، ان کے بیانیے کا تجزیہ کریں، اور اپنے مسائل کے حقیقی اسباب کو سمجھیں۔ اگر آج بھی مظلوم اقوام متحد ہو کر استعماری طاقتوں کے خلاف کھڑی ہو جائیں اور اپنے نظریاتی محاذ کو مضبوط کریں، تو جدید غلامی کے اس جال کو توڑا جا سکتا ہے اور حقیقی آزادی کی طرف سفر کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے۔
نیو کالونیل ورلڈ آرڈر اور جدید غلامی کے اصولوں کو ناگزیر حقیقت کے طور پر پیش کرنے کا رجحان دراصل ایک نفسیاتی ہتھیار ہے جو مظلوم اقوام کو بے بسی کے احساس میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس تصور کو چیلنج کرنا ضروری ہے کیونکہ تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ طاقت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، اور اگر کمزور اقوام شعوری طور پر مزاحمت کریں تو وہ اپنی تقدیر بدل سکتی ہیں۔
اگر دنیا میں ہمیشہ طاقتور ہی غالب رہتے اور کمزور ہمیشہ کچلے جاتے، تو حضرت موسیٰ (ع) کا فرعون کے جبر کے خلاف کھڑا ہونا اور بنی اسرائیل کا نجات پانا کبھی ممکن نہ ہوتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب ظلم کے خلاف قیادت میسر ہو، تو غلامی کی زنجیریں ٹوٹ سکتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انتہائی محدود وسائل کے ساتھ قیصر و کسریٰ جیسی سپر پاورز کو چیلنج کیا اور ایسی عظیم اسلامی ریاست قائم کی جس کی بنیاد عدل و انصاف پر تھی، نہ کہ طاقت کے زور پر جبر کرنے پر۔
یہ بیانیہ کہ زمین طاقتوروں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور کمزور اقوام ہمیشہ بے بس رہیں گی، تاریخ میں بارہا غلط ثابت ہو چکا ہے۔ اگر طاقت کو ہی برتری کا واحد معیار مان لیا جائے تو صلاح الدین ایوبی کا بیت المقدس کو صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کرانا ممکن نہ ہوتا۔ اسی طرح، اگر دنیا صرف سرمایہ داروں اور استعماری طاقتوں کے زیرِ اثر چلتی، تو 1979ء میں ایران میں امام خمینیؒ کی قیادت میں انقلاب نہ آتا، جو دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت کے خلاف ایک تاریخی فتح تھی۔
یہ تصور کہ غزہ کے مظلوم عوام کا صفایا کر کے وہاں کوئی لگژری سوسائٹی یا کاروباری مرکز قائم کر دینا ترقی کی علامت ہوگی، درحقیقت جدید دور کی سب سے بڑی سفاکیت ہے۔ اگر فلسطینی عوام بھی اسی استعماری بیانیے کو قبول کر لیتے کہ “طاقت کا قانون ہی حتمی سچائی ہے”، تو آج وہ 75 سال کی مسلسل مزاحمت نہ کر رہے ہوتے، اور شاید فلسطین کا نام ہی مٹ چکا ہوتا۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مزاحمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ الجزائر نے 130 سالہ فرانسیسی استعمار کے بعد آزادی حاصل کی، ویتنام نے امریکہ کو شکست دی، اور برصغیر نے 200 سالہ برطانوی غلامی سے نجات حاصل کی۔
س لیے یہ کہنا کہ کمزور ہمیشہ کمزور رہے گا اور دنیا صرف طاقتور کے اصولوں پر چلے گی، تاریخی حقائق سے انحراف ہے۔ اگر مسلمان باہم متحد ہو جائیں، جیسے ایران اور حزب اللہ نے استعماری طاقتوں کے خلاف کیا، تو نہ صرف اپنی مظلومیت سے نجات ممکن ہے بلکہ اس جابرانہ عالمی نظام کو بھی زمین بوس کیا جا سکتا ہے جو طاقتوروں کو کمزوروں کے استحصال کا اختیار دیتا ہے۔ دنیا میں عدل و انصاف اسی وقت قائم ہوگا جب مزاحمت کو اپنی طاقت بنایا جائے اور ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہوا جائے، جیسا کہ تاریخ کی عظیم تحریکوں نے ثابت کیا ہے۔
مزید مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں، جیسے کہ انبیاء اور معصومینؑ کی زندگیوں میں مزاحمت اور استقامت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جہاں الٰہی قیادت نے طاغوتی طاقتوں اور جبر کے نظام کو شکست دی۔ یہ مثالیں اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اگر حق پر مبنی مزاحمت کی جائے تو باطل کا زوال یقینی ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
حضرت نوحؑ کی مزاحمت اس وقت کے ظالم اور مشرک سماج کے خلاف تھی، جہاں بادشاہوں اور سرداروں نے حق کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل تبلیغ کی اور آخرکار اللہ کے عذاب کے ذریعے طاغوت کا خاتمہ ہوا، اور اہلِ ایمان کو نجات ملی۔
حضرت ابراہیمؑ نے نمرود جیسے جابر بادشاہ کے خلاف توحید کی صدا بلند کی، جس نے اپنی سلطنت کو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا۔ ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالنے کی سازش کی گئی، لیکن اللہ نے انہیں محفوظ رکھا اور بالآخر نمرود کا نظام تباہ ہو گیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی جدوجہد نے ملتِ توحید کی بنیاد رکھی، اور ان کی مزاحمت آج بھی حج اور دیگر اسلامی شعائر کی شکل میں زندہ ہے۔
حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی کشمکش تاریخ کی سب سے بڑی مزاحمتی تحریکوں میں سے ایک ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور وہ خود کو معبود کہلواتا تھا، لیکن حضرت موسیٰؑ نے اللہ کے حکم سے اس کے جبر کے خلاف قیام کیا۔ فرعون نے ہر ممکن حربہ استعمال کیا، لیکن موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کے صبر اور استقامت کے نتیجے میں دریا میں غرق ہو کر اس کا انجام ہوا، اور بنی اسرائیل کو آزادی نصیب ہوئی۔
حضرت عیسیٰؑ کا مقابلہ یہودی علما اور رومی حکمرانوں کے استحصالی نظام سے تھا۔ انہوں نے مذہبی منافقوں اور ظالم بادشاہوں کے خلاف آواز اٹھائی، جس کے جواب میں ان کے قتل کی سازش کی گئی، لیکن اللہ نے انہیں زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا اور ان کے دشمن ناکام ہو گئے۔ ان کی تعلیمات آج بھی ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیتی ہیں۔
نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ الٰہی مزاحمت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مکہ میں مشرکین نے ہر ممکن طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو دبانے کی کوشش کی، لیکن آپؐ نے صبر و استقامت کے ساتھ دینِ حق کی تبلیغ جاری رکھی۔ ہجرتِ مدینہ، بدر و احد کی جنگیں، صلح حدیبیہ، اور پھر فتح مکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مزاحمت خالصتاً اللہ کے لیے ہو تو وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے نفاق، ظلم، اور استحصالی نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی۔ جب خلافت کو خلافتِ الٰہیہ سے ملوکیت میں تبدیل کرنے کی سازش ہوئی، تو آپؑ نے خاموش مزاحمت کی اور جب وقت آیا تو ظالموں کے خلاف قیام کیا۔ آپؑ کی حکومت عدل و انصاف پر مبنی تھی، جسے استعماری قوتوں نے زیادہ دیر قائم نہ رہنے دیا، لیکن آپؑ کی فکر آج بھی حریت اور مزاحمت کی علامت ہے۔
سید الشہداء امام حسینؑ نے کربلا میں یزیدی نظام کے خلاف سب سے عظیم قربانی دی۔ یزید چاہتا تھا کہ اسلام کو ایک بادشاہت میں تبدیل کر دیا جائے، لیکن امام حسینؑ نے اپنی جان، اپنے خاندان، اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دے کر اس استعماری نظام کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا۔ ان کی قربانی قیامت تک ہر دور کے ظالم حکمرانوں کے خلاف مزاحمت کا منشور بن چکی ہے، جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔
امام زین العابدینؑ نے قید و بند اور یزیدی ظلم کے باوجود مزاحمت جاری رکھی اور دعا و مناجات کے ذریعے تحریکِ حسینی کو زندہ رکھا۔ امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے علمی محاذ پر دشمن کا مقابلہ کیا اور اسلامی علوم کو اس انداز میں پھیلایا کہ آج دنیا ان کے علمی کارناموں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔
امام موسیٰ کاظمؑ نے ہارون رشید جیسے ظالم حکمران کی قید میں رہ کر استقامت کا وہ درس دیا جس نے عباسی استبداد کی بنیادیں ہلا دیں۔ امام علی رضاؑ کو مامون نے ولی عہدی کے جال میں پھنسانا چاہا، لیکن آپؑ نے اس کی چال کو ناکام بنا دیا اور اپنے علم و حکمت سے اسلامی بیداری کا احیاء کیا۔
یہ تمام مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر حق پر مبنی مزاحمت کی جائے، تو استعماری اور جابرانہ طاقتوں کو شکست دینا ممکن ہے۔
اردو ادب اور صحافت میں ایسے دانشوروں کی ایک بڑی تعداد موجود رہی ہے جو یا تو شعوری طور پر نیوکالونیل ایجنڈے کے فروغ میں شریک رہے یا لاشعوری طور پر مغربی استعمار کے فکری اثرات کو تقویت دیتے رہے۔ ایسے افراد نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی بے بسی کو مقدر بنا کر پیش کیا، اور سامراجی طاقتوں کو ایک ناقابلِ شکست حقیقت کے طور پر دکھایا۔ ان کی تحریروں میں ہمیشہ طاقتور کے بیانیے کو غالب حیثیت دی گئی، جبکہ مزاحمت کرنے والوں کو جذباتی، غیر منطقی اور ناکام قرار دیا گیا۔بعض دانشور جیسے کہ منٹو کو اگرچہ سماج کے گہرے تضادات اور طبقاتی مسائل پر کھل کر لکھنے والے ادیب کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات ان کی تحریریں استعماری اثرات کو بے نقاب کرنے کے بجائے ان کی ترویج کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے سامراجی نظام کے استحصالی پہلوؤں کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے ان کے زیرِ اثر پیدا ہونے والی بدحالی کو محض ایک سماجی حقیقت کے طور پر پیش کیا، جس میں تبدیلی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ یہی حال احمد علی کا ہے، جن کی تخلیقات میں اگرچہ برطانوی استعمار کے خلاف ایک دبے دبے احتجاج کی جھلک ملتی ہے، لیکن مجموعی طور پر وہ نیوکالونیل حقیقت کو چیلنج کرنے کے بجائے اس کا حصہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔
علی عباس جلالپوری جیسے دانشوروں نے جدید مغربی فلسفے کو اس حد تک اپنایا کہ مشرقی فکر، خصوصاً اسلامی تہذیب کی اصل روح کو ایک قدامت پرست، غیر ترقی یافتہ اور جامد روایت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے ہاں مغربی افکار کو ایک ناگزیر سچائی کے طور پر قبول کرنے کا رجحان نمایاں تھا، جو بالواسطہ طور پر نیوکالونیل نظام کے لیے راہ ہموار کرتا رہا۔ ان کے مقابلے میں عبداللہ حسین جیسے ناول نگاروں نے بھی اپنی تحریروں میں تاریخی اور سماجی حقائق کو سامراجی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی تحریروں میں مزاحمتی بیانیے کے بجائے غلامی کی ایک نفسیاتی تسلیمیت زیادہ نمایاں رہی۔
صحافت میں بھی ایسے افراد کی کمی نہیں جو نیوکالونیل نظام کو تقویت دینے والے مائنڈ سیٹ کے نمائندہ رہے۔ حسین حقانی جیسے افراد نے ہمیشہ مغربی طاقتوں کے استعماری عزائم کو منطقی اور ناگزیر بنا کر پیش کیا اور ہر اس بیانیے کی مخالفت کی جو مسلمان اقوام کی آزادی، خودمختاری اور مزاحمت کی بات کرتا ہے۔ اسی طرح نجم سیٹھی جیسے صحافیوں نے بھی ہمیشہ استعماری طاقتوں کے حق میں بیانیہ ترتیب دیا، ان کے اقدامات کو درست ثابت کیا، اور مظلوم اقوام کی مزاحمت کو ایک لاحاصل جدوجہد قرار دینے کی کوشش کی۔
یہ تمام دانشور، ادیب اور صحافی ایک ایسے فکری دھارے کا حصہ رہے جس نے نیوکالونیل ورلڈ آرڈر کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں دانشورانہ لباس پہنانے کی کوشش کی۔ ان کی تحریریں اکثر شعوری یا لاشعوری طور پر اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہیں کہ دنیا میں طاقت کا توازن ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا اور کمزور اگر شعوری مزاحمت کریں تو اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہی رہا کہ انہوں نے طاقت کے اصول کو ہی واحد حقیقت کے طور پر قبول کر لیا، اور اسی سوچ کو اپنے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی۔
وسعت اللہ خان کی تحریریں اکثر ایک مخصوص استعماری بیانیے کی گونج لگتی ہیں، جہاں طاقت کے اصول کو ہی حتمی سچائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور کمزور اقوام کی بے بسی کو ایک مقدر کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ محمد حنیف کے ناولوں میں بھی طنز اور مزاح کی چادر میں لپٹا ہوا ایک ایسا رویہ نظر آتا ہے جو استعماری ایجنڈے کی حقیقت کو پسِ منظر میں دھکیل دیتا ہے اور مزاحمت کو غیر سنجیدہ یا غیر مؤثر دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ رضا رومی جیسے لکھاریوں کی تحریروں میں مغربی جمہوریت کے ماڈل کو ایک کامل نمونہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ اسلامی تہذیب اور اس کے مزاحمتی اصولوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ خاور گھمن جیسے صحافی بھی اکثر اسی روش پر چلتے ہوئے سامراجی طاقتوں کے بیانیے کو دہراتے دکھائی دیتے ہیں۔
جاوید چوہدری کی تحریریں بظاہر معاشرتی اصلاح کے لیے لکھی جاتی ہیں، مگر ان میں اکثر ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ طاقتور اقوام کے سامنے کمزوروں کا سر جھکا لینا ہی عقلمندی ہے۔ حسن نثار ہمیشہ سے نیوکالونیل سوچ کے قریب رہے ہیں، جہاں وہ بارہا اسلامی تاریخ اور مشرقی تہذیب کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مغربی ماڈلز کو ہر مسئلے کا واحد حل قرار دیتے ہیں۔ ملیحہ لودھی جیسے افراد کی سفارتی تحریریں اور تجزیے ہمیشہ مغربی پالیسیوں کے حق میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں جبکہ مسلم دنیا کے مسائل اور ان کے استحصالی پہلوؤں کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔
محمل سرفراز، جو ایک خاتون صحافی کے طور پر مشہور ہیں، کی تحریروں میں بھی مغربی حقوق انسانی کے نظریات کو مکمل طور پر اپنانے کا رجحان نمایاں ہے، جبکہ مسلم دنیا کے اجتماعی سماجی، دینی اور ثقافتی پس منظر کو بہت کم جگہ دی جاتی ہے۔ مبشر زیدی جیسے صحافی اپنی تحریروں میں اکثر ان موضوعات پر توجہ دیتے ہیں جو استعماری ایجنڈے کو تقویت دیتے ہیں، لیکن سامراج مخالف بیانیے کو کمزور کرنے کے لیے مزاحمت کو دقیانوسی اور غیر ضروری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ تمام نام اردو صحافت اور ادب میں اس فکری دھارے کا حصہ رہے ہیں جو نیوکالونیل ازم کے اصولوں کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تسلیم کرتا ہے اور جدید غلامی کے اصولوں کو پوشیدہ رکھنے میں مددگار بنتا ہے۔ کچھ نام ہیں جیسے کہ نجم سیٹھی، عمار مسعود، خالد احمد، رضوان رضی، حامد میر، سلیم صافی، غازی صلاح الدین، عاصمہ شیرازی، نصرت جاوید، وجاہت مسعود، فرحت اللہ بابر، زاہد حسین، مبین قمر، خورشید ندیم، عامر متین، سہیل وڑائچ وغیرہ
ان کی تحریریں ایک خاص ذہن سازی کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جہاں طاقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو عملی حقیقت بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور مزاحمت کی قوت کو کمزور دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
قرآن کریم میں بزدلی، کمزوری اور جہاد سے گریز کرنے والوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تم بزدلی نہ دکھاؤ اور نہ غم کرو، تم ہی غالب آؤ گے اگر تم مؤمن ہو۔” (آل عمران: 139)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مؤمنین کے لیے کمزوری اور بزدلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ پر ایمان رکھنے والا شخص کبھی مایوسی یا خوف میں مبتلا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمت اور یقین کے ساتھ اللہ کے راستے میں جدوجہد کرتا ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں نکلو، تو تم زمین سے چمٹ جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ حالانکہ دنیا کی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے۔”(التوبہ: 38)
یہاں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو جہاد سے پیچھے ہٹتے ہیں اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت اپنی آخرت کو برباد کر رہے ہوتے ہیں، کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ اللہ کے دین کے لیے قربانی دی جائے۔
مزید برآں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وہ (منافقین) تمہارے ساتھ مل کر (جہاد میں) نہیں نکلتے مگر بہت کم، اور جب وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو بس تمہاری نگرانی کرتے ہیں، اور جب خوف آ جاتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ موت کے ڈر سے ان کی آنکھیں ایسے گھوم رہی ہوتی ہیں جیسے کسی پر بےہوشی طاری ہو گئی ہو، لیکن جب خوف دور ہو جاتا ہے تو تم پر تیز زبانیں چلاتے ہیں، مال و دولت کے لالچی ہیں۔” (الاحزاب: 18-19)
یہ آیات ان منافقین کا حال بیان کرتی ہیں جو بزدلی کے سبب دین کی راہ میں قربانی دینے سے کتراتے ہیں۔ وہ میدانِ جنگ میں کمزوری دکھاتے ہیں اور خطرہ ٹل جانے کے بعد زبانی دعوے کرتے ہیں، جبکہ ان کے دلوں میں ایمان کی حقیقی طاقت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
“اگر تم جہاد کے لیے نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور تم اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔” (التوبہ: 39)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں، اللہ انہیں سخت سزا دیتا ہے اور ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آتا ہے جو اس کے دین کے لیے جدوجہد کریں۔
قرآن کریم میں بارہا یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ بزدلی اور کمزوری ایک مؤمن کی شان کے خلاف ہے۔ اللہ کی راہ میں قربانی دینے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں، جبکہ بزدل اور کمزور لوگ ذلت اور رسوائی میں مبتلا رہتے ہیں۔
