فلسطین اور بین الاقوامی سیاست، انصاف یا منافقت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
🖊️ مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
صراط ٹائمز :فلسطین کا مسئلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا ایک اہم مگر متنازع موضوع رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی طاقتیں، اور انسانی حقوق کے ادارے بارہا فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، مگر عملی اقدامات کی کمی عالمی سیاست میں موجود تضادات اور منافقت کو واضح کرتی ہے۔
مغربی طاقتوں کی دوہری پالیسی
امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک خود کو انسانی حقوق کے چیمپئن قرار دیتے ہیں، مگر جب بات فلسطین کی آتی ہے تو ان کا رویہ یکسر مختلف نظر آتا ہے۔
یوکرین پر روسی حملے کی مذمت اور فوری اقتصادی و عسکری مدد، جبکہ فلسطین پر اسرائیلی حملوں کی کھلی حمایت۔
اسرائیل کو فوجی امداد، جدید ہتھیار اور سیاسی تحفظ فراہم کرنا، جبکہ فلسطینی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینا۔
عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی پر بھی اسرائیل کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کرنا۔
اقوامِ متحدہ اور فلسطینی حقوق
اقوامِ متحدہ نے فلسطینی عوام کے حق میں کئی قراردادیں منظور کیں، جن میں اسرائیلی بستیوں کی غیر قانونی حیثیت، فلسطینی ریاست کے حق کو تسلیم کرنا، اور بیت المقدس کو متنازع علاقہ قرار دینا شامل ہیں۔ تاہم، ان قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونا اقوامِ متحدہ کی کمزوری اور بڑی طاقتوں کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
عرب ممالک اور مسئلہ فلسطین
ماضی میں مسلم ممالک، خاص طور پر عرب ریاستیں، فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت کرتی رہی ہیں۔ مگر حالیہ برسوں میں کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے ہیں، جسے فلسطینی عوام نے اپنی جدوجہد کے خلاف ایک دھچکہ قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان، اور مراکش کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات۔
سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اشارے۔
مسلم دنیا میں فلسطین کے لیے یکجہتی کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دینا۔
اسرائیلی لابی اور عالمی میڈیا
اسرائیلی لابی عالمی میڈیا، سیاست، اور معیشت میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتی ہے، جو فلسطینی کاز کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
مغربی میڈیا میں فلسطینی مزاحمت کو “دہشت گردی” اور اسرائیلی مظالم کو “دفاع” کے طور پر پیش کرنا۔
سوشل میڈیا پر فلسطین کی حمایت میں مواد کو سنسر کرنا اور اسرائیلی بیانیے کو فروغ دینا۔
ہالی وڈ اور دیگر ثقافتی اداروں کے ذریعے اسرائیل کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا۔
مسلم امہ اور عملی اقدامات کی ضرورت
مسلم ممالک کو فلسطینی عوام کی محض زبانی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج مسلم امہ کا ایک بڑا حصہ اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے، اس کی حمایت میں مصروف نظر آتا ہے۔
مسلم ممالک کی منافقت اور اسرائیل کی حمایت
57 اسلامی ممالک میں سے بیشتر نے فلسطینی عوام کے حق میں صرف علامتی بیانات دینے تک خود کو محدود کر رکھا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کے اقدامات اسرائیل کے مفاد میں جا رہے ہیں:
سفارتی تعلقات: متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کر لیے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور دیگر ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔
معاشی روابط: کئی مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہے ہیں اور اس کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں، جبکہ فلسطینی عوام معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
فوجی و سیکیورٹی تعلقات: بعض اسلامی ممالک اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کر رہے ہیں اور اس سے جدید ٹیکنالوجی خرید رہے ہیں، جو بعد میں فلسطینیوں اور خود انہی مسلم ممالک کے عوام کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔
ایران استقامت کی علامت
ایران وہ واحد اسلامی ملک ہے جو استقامت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف ڈٹا ہوا ہے اور فلسطینی مزاحمت کی عملی مدد کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی طاقتیں ایران پر مسلسل اقتصادی اور سیاسی پابندیاں عائد کر رہی ہیں، تاکہ وہ کمزور ہو جائے اور اسرائیل کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔ ایران نے:
فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو عملی مدد دی ہے، جن میں حماس اور اسلامی جہاد شامل ہیں۔
اسرائیل کے خلاف کھل کر موقف اختیار کیا ہے اور اسے “غاصب اور ناجائز ریاست” قرار دیا ہے۔
یوم القدس کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے، تاکہ دنیا بھر کے مظلوموں کو اس دن فلسطینیوں کی حمایت کے لیے متحرک کیا جا سکے۔
مسلم عوام کا ضمیر: ہم مسلمان ہیں بھی یا نہیں؟
اگر مسلم حکمرانوں کو ایک طرف رکھ کر عام مسلمان ان حالات پر غور کریں، تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم واقعی مسلمان ہیں؟
مسلمان وہ ہوتا ہے جو ایمان اور عمل میں یکساں ہوتا ہے، مگر آج ہم صرف زبانی دعوے کرتے ہیں جبکہ عمل سے ایمان کے تقاضے کہیں نظر نہیں آتے۔
فلسطینی بچے، عورتیں اور جوان روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں، جبکہ ہم آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے لیے صرف “ہمدردی” کے بیانات دیتے ہیں۔
ہمارے بازار اسرائیلی مصنوعات سے بھرے ہیں، ہمارا میڈیا اسرائیلی بیانیے کو فروغ دے رہا ہے، اور ہماری حکومتیں ظالم کے ساتھ کھڑی ہیں، تو پھر ہم کیسے خود کو “مسلمان” کہہ سکتے ہیں؟
فلسطین کا مسئلہ صرف ایک قوم کا نہیں بلکہ عالمی انصاف، انسانی حقوق، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا امتحان ہے۔ آج کی بین الاقوامی سیاست نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقتور ملک انصاف سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں عام لوگوں، خصوصاً مسلم امہ، کو اپنی اجتماعی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یوم القدس اسی عزم کو تازہ کرنے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا بہترین موقع ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم زبانی اسلام پر چلنا چاہتے ہیں یا حقیقی ایمان کی راہ اختیار کرنی ہے۔ اگر مسلم عوام متحد ہو کر فلسطین کے لیے عملی اقدامات کریں، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، اور حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں، تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ ورنہ، ہم ایک ایسے وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں شاید ہمیں اپنی “مسلم شناخت” پر بھی شک ہونے لگے۔
