31

بچپن میں والدین کی تربیتی کوتاہیاں اور نفاق کا علاج

  • نیوز کوڈ : 1424
  • 28 March 2025 - 2:47
بچپن میں والدین کی تربیتی کوتاہیاں اور نفاق کا علاج
فوری خواہشات کی تسکین اور چائلڈ ہُڈ ٹراما کے درمیان گہرا نفسیاتی تعلق پایا جاتا ہے۔ بچپن کے صدمے، جیسے نظر انداز کیا جانا، جذباتی یا جسمانی زیادتی، غیر محفوظ ماحول، یا والدین کی طرف سے محبت اور توجہ کی کمی، انسان کے ذہنی اور جذباتی نشوونما پر دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایسے افراد اکثر جذباتی خلا کو بھرنے کے لیے فوری تسکین کی تلاش میں رہتے ہیں، کیونکہ ان کا دماغ خود کو بچانے کے لیے فوری خوشی اور راحت کے ذرائع کی طرف مائل ہو جاتا ہے

بچپن میں والدین کی تربیتی کوتاہیاں اور نفاق کا علاج

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

🖊️*سید جہانزیب عابدی

صراط ٹائمز: فوری خواہشات کی تسکین اور چائلڈ ہُڈ ٹراما کے درمیان گہرا نفسیاتی تعلق پایا جاتا ہے۔ بچپن کے صدمے، جیسے نظر انداز کیا جانا، جذباتی یا جسمانی زیادتی، غیر محفوظ ماحول، یا والدین کی طرف سے محبت اور توجہ کی کمی، انسان کے ذہنی اور جذباتی نشوونما پر دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایسے افراد اکثر جذباتی خلا کو بھرنے کے لیے فوری تسکین کی تلاش میں رہتے ہیں، کیونکہ ان کا دماغ خود کو بچانے کے لیے فوری خوشی اور راحت کے ذرائع کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
نفسیات کے مطابق، چائلڈ ہُڈ ٹراما کا شکار افراد اکثر impulse control یعنی فوری جذبات پر قابو پانے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ ان کے اندر صبر اور انتظار کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے، کیونکہ ان کے ذہن نے ماضی میں تکلیف دہ تجربات کو برداشت کیا ہوتا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے مزید درد سے بچنے کے لیے فوری طور پر خوشی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں صدمے جھیلنے والے افراد زیادہ تر ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جو لمحاتی خوشی دیتی ہیں، چاہے وہ کھانے کی زیادتی ہو، نشہ آور اشیاء کا استعمال ہو، بے قابو خریداری ہو، یا سوشل میڈیا اور گیمز میں حد سے زیادہ وقت گزارنا ہو۔
یہ رویہ درحقیقت ایک دفاعی میکانزم کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں دماغ dopamine کے ذریعے وقتی طور پر خوشی اور راحت حاصل کرتا ہے، لیکن طویل مدتی نقصان کا شکار ہو جاتا ہے۔ چونکہ ان افراد نے بچپن میں صبر، ضبطِ نفس، اور جذبات کو سنبھالنے کی مناسب مہارتیں نہیں سیکھیں ہوتیں، اس لیے وہ بڑے ہو کر اپنی پریشانیوں سے بچنے کے لیے فوری تسکین کے ذرائع اپنانے لگتے ہیں۔ یہ سلسلہ انہیں زندگی کے بڑے فیصلے کرنے میں بھی غیر مستحکم بنا سکتا ہے، کیونکہ وہ لمبے عرصے تک انتظار یا کسی بڑی قربانی کے لیے تیار نہیں ہوتے، بلکہ فوری حل چاہتے ہیں۔
اگر چائلڈ ہُڈ ٹراما کا صحیح علاج نہ کیا جائے تو یہ رویہ زندگی بھر قائم رہ سکتا ہے، اور انسان خود کو غیر صحت مند عادات میں جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔ نفسیاتی علاج، خود آگاہی، صبر کی مشق، اور روحانی و جذباتی تربیت سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر انسان اپنی ماضی کی تکالیف کا شعوری طور پر سامنا کرے اور خود کو وقت دے، تو وہ اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو پا کر بہتر اور متوازن زندگی گزار سکتا ہے۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ چائلڈ ہُڈ ٹراما کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فوری خواہشات کی تسکین کے رجحان پر گہرے روحانی، اخلاقی اور عملی پہلوؤں سے روشنی ڈالتا ہے۔ یہ مکتب انسان کو صرف دنیاوی نفسیاتی اصولوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے ایک وسیع تر مقصد کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں صبر، توکل، تقویٰ، اور خودسازی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ تکالیف اور آزمائشیں محض عارضی ہیں اور انہیں حکمت اور صبر کے ذریعے سمجھا اور سنبھالا جا سکتا ہے۔
اگر بچپن میں انسان کو جذباتی یا نفسیاتی زخم ملے ہوں، تو اہلِ بیتؑ کی سیرت اس کا عملی علاج فراہم کرتی ہے۔ امام علیؑ کا فرمان ہے کہ “صبر کامیابی کی کنجی ہے”, یعنی جو شخص مشکلات پر صبر کرتا ہے، وہ جلد بازی اور وقتی تسکین کی خواہشات سے بچ سکتا ہے اور بلند مقاصد کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ چائلڈ ہُڈ ٹراما اکثر انسان میں بے چینی، مایوسی اور اضطراب پیدا کرتا ہے، لیکن اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سکون، ضبطِ نفس، اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی طرف راغب کرتی ہیں، جو کسی بھی نفسیاتی بحران سے نکلنے کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ میں دعا اور ذکر کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جو دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی ایک ایسی روحانی توانائی ہے جو زخموں کو بھرنے میں مدد دیتی ہے۔ دعائے کمیل، مناجاتِ شعبانیہ اور صحیفۂ سجادیہ جیسی دعائیں نہ صرف انسان کو اپنے درد کے اظہار کا موقع دیتی ہیں بلکہ اسے اللہ کی رحمت اور مدد کا احساس بھی دلاتی ہیں، جس سے نفسیاتی سکون حاصل ہوتا ہے۔ امام زین العابدینؑ کی دعائیں خاص طور پر دکھوں اور جذباتی صدمات سے نمٹنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہیں، کیونکہ ان میں ماضی کے زخموں کو صبر اور قرب الہی کے ذریعے شفا دینے کا عملی طریقہ سکھایا گیا ہے۔
اس مکتب کی تعلیمات کے مطابق، فوری خواہشات کی تسکین میں گرفتار ہونے کے بجائے، انسان کو اپنی روحانی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔ امام صادقؑ نے فرمایا کہ “جو شخص اپنی خواہشات کو قابو میں رکھے، وہی حقیقت میں آزاد ہے”, یعنی جو اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھے، وہی حقیقی سکون اور آزادی حاصل کر سکتا ہے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ کا دیا ہوا ضبطِ نفس اور تقویٰ کا درس انسان کے اندر اس قوت کو پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے جذبات پر حاوی ہو، اپنی زندگی کے زخموں کو نیکی، عبادت اور خدمتِ خلق کے ذریعے بھرے، اور اللہ کے قریب ہو کر اپنی اصل روحانی پہچان حاصل کرے۔
اس کے علاوہ، اہلِ بیتؑ کی سیرت میں ہمیں ان کی مشکلات اور آزمائشوں کے ساتھ صبر و استقامت کی ایسی مثالیں ملتی ہیں جو چائلڈ ہُڈ ٹراما سے گزرنے والے افراد کے لیے ایک عظیم درس ہو سکتی ہیں۔ کربلا کی تاریخ ایک زندہ مثال ہے کہ شدید ترین مصیبتوں کے باوجود امام حسینؑ اور ان کے اہلِ خانہ نے تقویٰ اور صبر کے ذریعے اپنے مقصد کو پایا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تکلیفوں اور ماضی کے زخموں سے نکلنے کا راستہ وقتی خوشیوں میں پناہ لینا نہیں، بلکہ خود کو اللہ کے قریب کر کے صبر، استقامت اور بلند حوصلے سے اپنی زندگی کو سنوارنا ہے۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ درحقیقت ایک مکمل نفسیاتی اور روحانی تربیت فراہم کرتا ہے، جو نہ صرف فوری خواہشات کی تسکین کی عادت کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ایک مضبوط، متوازن اور باوقار شخصیت کی تعمیر میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
نفاق درحقیقت ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے اندرونی تضاد، کمزور ارادے اور فوری تسکین کی خواہش سے جنم لیتی ہے۔ منافق کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہوتی ہے کہ وہ وقتی مفاد، ظاہری فوائد اور فوری آرام کو اپنی ترجیح بنا لیتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے اپنے اصولوں، ایمان اور سچائی سے سمجھوتہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ چونکہ وہ مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنے کے بجائے آسان راستے کی تلاش میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی شخصیت میں استقامت، سچائی اور مستقل مزاجی کی کمی رہتی ہے۔ یہی وہ بنیادی کیفیت ہے جو چائلڈ ہُڈ ٹراما سے متاثرہ افراد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، کیونکہ وہ ماضی کے درد سے بچنے کے لیے فوری راحت کے ذرائع کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
تقویٰ وہ کیفیت ہے جو انسان کو فوری خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت دیتی ہے اور اسے ایک بلند مقصد کے لیے مشکلات برداشت کرنے کی ہمت عطا کرتی ہے۔ ایک متقی انسان اپنی خواہشات کو صرف وقتی آرام یا دنیاوی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتا، بلکہ وہ ہر فیصلے کو حق اور باطل کے معیار پر پرکھتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو نفاق کے علاج کے طور پر کام کرتی ہے، کیونکہ منافق کا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ وہ وقتی فائدے کے لیے اپنے اصل چہرے کو چھپاتا ہے اور اصولوں کی قربانی دیتا ہے۔
قرآن میں بھی نفاق کو ایک ایسی بیماری قرار دیا گیا ہے جو دل میں پیدا ہوتی ہے اور اسے مسلسل بڑھنے دیا جائے تو یہ ایمان کو کمزور کر دیتی ہے۔ تقویٰ اس بیماری کا اصل علاج ہے کیونکہ یہ انسان کے دل کو اللہ کی یاد سے معمور کر دیتا ہے، اس کے فیصلے وقتی جذبات کی بجائے حقائق اور دیانت داری پر مبنی ہوتے ہیں، اور وہ وقتی فائدے کے بجائے طویل مدتی اخروی کامیابی کو اپنی ترجیح بنا لیتا ہے۔
اگر کوئی شخص چائلڈ ہُڈ ٹراما کی وجہ سے نفاق جیسی کیفیت میں مبتلا ہو چکا ہو، جہاں وہ حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے فوری تسکین کے پیچھے بھاگ رہا ہو، تو اسے تقویٰ کے ذریعے اس کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے۔ جب وہ صبر، استقامت اور خود پر قابو پانے کی تربیت حاصل کرتا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے اندرونی تضاد سے نجات پانے لگتا ہے۔ تقویٰ اسے یہ شعور دیتا ہے کہ وقتی فائدے کے بجائے سچائی، دیانت داری اور اللہ کی رضا کی راہ اختیار کی جائے، اور اسی میں اس کی حقیقی فلاح ہے۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو نفاق کی جڑ کو کاٹ دیتا ہے اور انسان کو ایک خالص، مضبوط اور سچے مؤمن کی حیثیت سے پروان چڑھاتا ہے۔
خلاصتا چائلڈ ہُڈ ٹراما اور فوری تسکین کی خواہش کا گہرا تعلق ہے، کیونکہ ماضی میں جذباتی یا نفسیاتی زخم کھانے والے افراد میں صبر اور ضبطِ نفس کی کمی ہوتی ہے۔ وہ اپنی تکلیف سے فرار حاصل کرنے کے لیے فوری خوشی کے ذرائع اپناتے ہیں، جیسے بے قابو خریداری، نشہ آور اشیاء، یا وقت ضائع کرنے والی سرگرمیاں۔ اس رویے کی جڑیں لاشعوری طور پر ماضی کے صدمات سے جڑی ہوتی ہیں، جہاں انسان نے تکلیف کو برداشت کرنے کے بجائے فوری راحت کو ترجیح دی ہوتی ہے۔ اگر ان زخموں کا شعوری طور پر سامنا نہ کیا جائے، تو یہ رویہ زندگی بھر چلتا رہتا ہے اور شخصیت کی پختگی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ چائلڈ ہُڈ ٹراما سے نجات کا عملی راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کو صبر، توکل اور ضبطِ نفس سکھاتا ہے، جو فوری خواہشات کے غلامی سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے۔ اہلِ بیتؑ کی سیرت، ان کی دعائیں، اور ان کا طرزِ زندگی مشکلات کے باوجود صبر و استقامت کی بہترین مثالیں ہیں۔ امام زین العابدینؑ کی مناجات، امام علیؑ کے فرامین، اور امام حسینؑ کا کربلا میں طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ تکلیفوں کا حل وقتی خوشی میں نہیں بلکہ خود کو مضبوط بنانے میں ہے۔ تقویٰ اور اللہ سے قربت ماضی کے زخموں کو بھرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے، کیونکہ یہ دل کو سکون دیتا ہے اور وقتی تسکین کی لت سے بچنے کی طاقت عطا کرتا ہے۔
نفاق بھی درحقیقت فوری تسکین کی بیماری ہے، کیونکہ منافق وہی ہوتا ہے جو وقتی فائدے کے لیے حق اور باطل کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔ وہ سچائی اور استقامت کی راہ پر چلنے کے بجائے آسان راستہ اختیار کرتا ہے، جو اکثر وقتی مفاد سے جڑا ہوتا ہے۔ تقویٰ نفاق کا اصل علاج ہے، کیونکہ یہ انسان کو وقتی فائدے پر طویل المدتی کامیابی کو ترجیح دینا سکھاتا ہے۔ متقی انسان وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں بھاگتا، بلکہ حق اور سچائی کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ جب ایک شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے، تو وہ اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے لگتا ہے، اپنے ماضی کے زخموں کا سامنا کرتا ہے اور خود کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھال لیتا ہے، جو نفاق کی جڑ کو کاٹ کر شخصیت میں سچائی اور استحکام پیدا کرتا ہے۔

والدین کی تربیتی کوتاہیاں, ایک طبیعی عمل ہے

ہر نسل کا اپنے والدین کے طریقوں کو پرانا سمجھنا اور ان میں غلطیاں یا کوتاہیاں محسوس کرنا ایک فطری اور قدرتی عمل ہے، جو زمانے کی تبدیلی اور انسانی ترقی کے ساتھ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ہر دور کے اپنے مخصوص حالات، نظریات اور ٹیکنالوجی ہوتی ہے، اور نئی نسل ان سے متاثر ہو کر ایک مختلف انداز میں سوچتی اور زندگی گزارتی ہے۔ جیسے جیسے دنیا آگے بڑھتی ہے، زندگی کے تقاضے بھی بدلتے جاتے ہیں، اور نئی نسل کو اپنے والدین کے طرزِ زندگی میں وہ فرسودگی نظر آتی ہے جو ان کے اپنے زمانے کے لحاظ سے غیر ضروری یا غیر موزوں محسوس ہوتی ہے۔
یہ سلسلہ صرف آج کے دور تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے میں یہی ہوتا آیا ہے۔ والدین اپنی زندگی کے تجربات کی بنیاد پر اپنے بچوں کی رہنمائی کرتے ہیں، جبکہ نئی نسل اپنی عقل، مشاہدے اور جدید دنیا کے اثرات کے تحت مختلف راستے تلاش کرتی ہے۔ اس فرق کی وجہ سے بعض اوقات والدین کے فیصلے سخت، غیر مؤثر یا دقیانوسی لگتے ہیں، جبکہ والدین سمجھتے ہیں کہ نئی نسل بے صبری اور جلد بازی کا شکار ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا نقطہ نظر اپنی جگہ درست ہوتا ہے، کیونکہ والدین کا تجربہ اور نئی نسل کی تازہ بصیرت، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں بھی والدین اور اولاد کے تعلق کو اسی فطری حقیقت کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ قرآن نے والدین کے احترام کو لازم قرار دیا، لیکن ساتھ ہی عقل، حکمت اور مشاورت کو بھی اہمیت دی۔ امام علیؑ نے فرمایا کہ اپنے بچوں کی تربیت ان کے زمانے کے مطابق کرو، کیونکہ وہ ایک مختلف دور میں جینے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ اصول اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ زمانے کے فرق کو سمجھنا اور اسے قبول کرنا ضروری ہے، نہ کہ والدین اور اولاد کے درمیان تلخی اور دوری پیدا ہونے دی جائے۔
یہ فطری حقیقت کہ ہر نسل اپنے والدین کے طریقوں میں کچھ کمزوریاں محسوس کرتی ہے، ایک مثبت پہلو بھی رکھتی ہے۔ اگر اس تبدیلی کو صحیح انداز میں اپنایا جائے تو نئی نسل والدین کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے زمانے کے مطابق بہترین راہ اختیار کر سکتی ہے۔ والدین کو بھی اس تبدیلی کو قبول کرتے ہوئے اپنی نصیحت اور رہنمائی کو نئی نسل کے مزاج کے مطابق ڈھالنا چاہیے، تاکہ ایک توازن قائم رہے اور نسلوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی برقرار رہے۔
والدین کی تربیت میں کمی بیشی ایک فطری امر ہے، کیونکہ وہ بھی انسان ہیں اور ان کی اپنی محدودات، تجربات اور حالات ہوتے ہیں۔ ہر والدین اپنی بہترین نیت کے ساتھ بچوں کی پرورش کرتے ہیں، مگر بعض اوقات ناواقفیت، سماجی دباؤ، یا اپنی ہی نفسیاتی الجھنوں کی وجہ سے کچھ کمزوریاں ان کی تربیت میں شامل ہو جاتی ہیں۔ انسان طبیعتاً غلطیوں کا شکار ہوتا ہے، اور والدین بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، اس لیے اسلامی تعلیمات میں والدین کے لیے دعا اور مغفرت کی تلقین کی گئی ہے۔
اسلام نے والدین کے احترام کو لازم قرار دیا اور ان کے لیے دعا کو عبادت کا حصہ بنایا، تاکہ اولاد ان کی تربیت میں پائی جانے والی کمیوں کی بجائے ان کی محبت، محنت اور قربانیوں کو یاد رکھے۔ قرآن میں واضح طور پر والدین کے حق میں دعا سکھائی گئی: رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا یعنی “اے میرے رب! ان پر رحم فرما، جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا تھا۔” یہ دعا اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ والدین نے جس طرح بچوں کی پرورش کی، اسی طرح وہ بھی اللہ کی رحمت کے محتاج ہیں۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ میں بھی والدین کے لیے دعا کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ امام سجادؑ کی رسالة الحقوق میں والدین کے حقوق میں انہیں عزت دینے اور ان کے لیے دعا کرنے پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں جتنی بھی کوشش کریں، ان کی تربیت میں کچھ نہ کچھ کمی رہ ہی جاتی ہے۔ اولاد اگر والدین کی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے لیے دعائیں کرے، تو یہ عمل جہاں والدین کے درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے، وہیں اولاد کے دل میں بھی نرمی، وسعتِ ظرف، اور شکر گزاری کو پروان چڑھاتا ہے۔
والدین کے لیے دعا اور مغفرت کا حکم صرف ان کی دنیاوی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔ یہ نہ صرف والدین کے لیے نجات کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ اولاد کے کردار کو بھی سنوارتا ہے، کیونکہ جو اپنے والدین کے حق میں دعا کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے اندر شکرگزاری، محبت اور درگزر کی خوبیاں پیدا کر رہا ہوتا ہے۔ اسلام کی یہ حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ والدین کی خامیوں پر توجہ دینے کے بجائے ان کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے اور اللہ سے ان کے لیے بھلائی اور مغفرت طلب کی جائے، تاکہ خاندانی رشتے محبت اور رحمت کے اصولوں پر قائم رہیں

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1424

ٹیگز

تبصرے