33

خود پر کنٹرول حاصل کرنے میں ماہ رمضان کی اہمیت

  • نیوز کوڈ : 1347
  • 26 March 2025 - 1:03
خود پر کنٹرول حاصل کرنے میں ماہ رمضان کی اہمیت
تقویٰ اور نفس پر کنٹرول انسانی زندگی میں توازن، سکون اور کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ نفس اگر بے قابو ہو جائے تو انسان خواہشات کا غلام بن کر اپنی عقل اور شعور کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ جذباتی، اخلاقی اور روحانی تباہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر: سید جہانزیب عابدی

صراط ٹائمز: تقویٰ اور نفس پر کنٹرول انسانی زندگی میں توازن، سکون اور کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ نفس اگر بے قابو ہو جائے تو انسان خواہشات کا غلام بن کر اپنی عقل اور شعور کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ جذباتی، اخلاقی اور روحانی تباہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ تقویٰ، جو درحقیقت اللہ کی نگرانی کا احساس ہے، انسان کو حدود میں رکھتا ہے اور اسے درست اور غلط کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ایک اندرونی قوت ہے جو برائیوں سے دور رکھتی ہے اور نیکیوں کی طرف مائل کرتی ہے۔
نفس کی خواہشات فوری تسکین چاہتی ہیں، لیکن اگر انہیں قابو میں نہ رکھا جائے تو انسان اپنی زندگی کے طویل المدتی فوائد کو قربان کر دیتا ہے۔ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے کرنے لگتا ہے، جو اکثر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ ضبطِ نفس کا مطلب صرف خواہشات کو دبانا نہیں، بلکہ انہیں اس انداز میں قابو میں رکھنا ہے کہ وہ انسان کی بہتری کے لیے کام کریں نہ کہ اسے نقصان پہنچائیں۔ جب کوئی شخص اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے، تو وہ خود کو گناہوں سے بھی بچا سکتا ہے اور اپنی شخصیت میں نظم و ضبط پیدا کر سکتا ہے، جو ہر میدان میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
روحانی نقطۂ نظر سے، نفس پر کنٹرول کے بغیر اللہ سے قربت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بے قابو انسان اپنے جذبات، خواہشات اور دنیاوی لذتوں میں ایسا گم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی اصل حقیقت اور مقصدِ حیات کو بھول جاتا ہے۔ تقویٰ انسان کو اس غفلت سے نکالتا ہے اور اسے اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، جس سے اس کے دل کو حقیقی سکون اور زندگی کو مقصدیت ملتی ہے۔ یہ اسے صرف ظاہری طور پر نیک بننے تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اس کے باطن کو بھی پاکیزہ کرتا ہے، اس کے خیالات، ارادوں اور اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالتا ہے۔
تقویٰ اور نفس پر قابو کے بغیر انسان اپنی زندگی میں ایک بے لگام گھوڑے کی مانند ہو جاتا ہے، جو کسی بھی سمت بھٹک سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کی باگیں کھینچ کر ان پر کنٹرول رکھے، تو وہ زندگی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار اور معنوی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ ضبطِ نفس اسے ہر قسم کی شدت پسندی، منفی جذبات اور وقتی جذباتیت سے بچاتا ہے، جس سے وہ ایک بہتر، باوقار اور کامیاب انسان بن سکتا ہے۔
روزہ انسان کے روحانی اور نفسیاتی پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، خاص طور پر جب تزکیۂ نفس اور تقویٰ کے حصول کی بات ہو۔ علمِ نفسیات کی روشنی میں دیکھا جائے تو روزہ نفس کی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے کیونکہ یہ انسان کو اس کی بنیادی جبلتوں پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ کھانے، پینے اور دیگر جسمانی خواہشات سے پرہیز نفس کو قابو میں رکھنے کا ایک عملی تجربہ فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خود پر ضبط اور تحمل کی صفت پروان چڑھتی ہے۔
جب انسان کھانے اور دیگر ضروریات کو ترک کرتا ہے تو اس کے اندر قوتِ ارادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ نفسیاتی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ خود پر قابو پانے والے افراد زندگی میں زیادہ کامیاب اور متوازن ہوتے ہیں۔ روزہ رکھنے سے انسان میں یہ صلاحیت بڑھتی ہے کہ وہ فوری خواہشات کی تسکین کے بجائے طویل مدتی فوائد پر غور کرے، جو نفسیات میں delayed gratification کہلاتا ہے۔ یہ صفت نہ صرف تزکیۂ نفس میں مدد دیتی ہے بلکہ دیگر شعبوں میں بھی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔
مزید برآں، روزہ انسانی جذبات کو بھی کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ نفسیاتی نقطۂ نظر سے، غصہ، بے چینی اور دیگر منفی جذبات کا اکثر تعلق نفس کی بے قابو خواہشات سے ہوتا ہے۔ جب انسان روزے کے دوران بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے، تو وہ صبر اور استقامت کو سیکھتا ہے۔ اس عمل سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے اور جذباتی استحکام میں اضافہ ہوتا ہے، جس کی جدید نفسیات میں بھی بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ روزہ انسان کو mindfulness یعنی شعوری آگاہی کا درس دیتا ہے۔ انسان اپنی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھتا ہے، گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اور اپنے خیالات کو پاکیزہ بنانے کی سعی کرتا ہے۔ یہ مسلسل خود احتسابی اور خود آگاہی کی مشق نفسیاتی لحاظ سے بھی انتہائی مفید ہے، کیونکہ یہ فرد میں مثبت طرزِ فکر اور اصلاحِ نفس کی عادت پیدا کرتی ہے۔
تقویٰ کے حصول کے لیے روزہ ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو اپنی زندگی میں سادگی، قناعت اور احساسِ ذمہ داری کی طرف راغب کرتا ہے۔ جب کوئی فرد مسلسل اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا سیکھ لیتا ہے، تو وہ دنیاوی لذات کے دھوکے میں پڑنے کے بجائے اعلیٰ روحانی اور اخلاقی مقاصد پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح روزہ محض ایک عبادت نہیں بلکہ نفسیاتی، اخلاقی اور روحانی ترقی کا ایک مکمل نظام ہے، جو انسان کو حقیقی تقویٰ اور پاکیزگی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
روزے کے ساتھ دیگر عبادات جیسے نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن تقویٰ کے حصول اور نفس پر قابو پانے میں نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ یہ سب مل کر انسان کی ذہنی، روحانی اور نفسیاتی اصلاح کا ایک مکمل نظام تشکیل دیتی ہیں۔ علمِ نفسیات کی روشنی میں، عبادات کا مستقل معمول انسان کے ذہنی سکون، جذباتی توازن اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
نماز دن میں کئی مرتبہ دہرایا جانے والا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے شعور اور لاشعور میں گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے، تو وہ اپنی توجہ دنیاوی مصروفیات سے ہٹا کر ایک اعلیٰ مقصد کی طرف مرکوز کرتا ہے۔ یہ mindfulness اور meditation کی ایک اعلیٰ شکل ہے، جو نفسیاتی لحاظ سے انسان کے اندر سکون، یکسوئی اور خود آگاہی کو فروغ دیتی ہے۔ باقاعدگی سے نماز پڑھنے والا شخص اپنے جذبات کو بہتر طریقے سے کنٹرول کر سکتا ہے، کیونکہ نماز کی حالت میں اسے مکمل طور پر اپنے خیالات اور حرکات پر توجہ دینی ہوتی ہے، جو ضبطِ نفس کی مشق ہے۔
دعا کا عمل انسان کے اندر عاجزی اور شکرگزاری کے جذبات پیدا کرتا ہے، جو نفسیاتی طور پر اسے مثبت سوچنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ جب کوئی شخص دعا کرتا ہے، تو وہ اپنی خواہشات اور پریشانیوں کو ایک اعلیٰ ہستی کے سپرد کر دیتا ہے، جس سے اس کا ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور اس کے اندر صبر اور قناعت کی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ جدید نفسیاتی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ دعا اور اللہ سے تعلق قائم رکھنے والے افراد میں مایوسی، بے چینی اور ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، کیونکہ ان کے پاس ایک ایسا سہارا ہوتا ہے جو انہیں امید دیتا ہے اور مشکل حالات میں سنبھالے رکھتا ہے۔
تلاوتِ قرآن تقویٰ اور ضبطِ نفس میں اس لیے مددگار ہے کیونکہ یہ نہ صرف روحانی بلکہ ذہنی اور جذباتی نشوونما کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ قرآن کی تلاوت اور اس پر غور و فکر انسان کے خیالات کو ایک مثبت رخ پر لے جاتی ہے اور اسے زندگی کے اعلیٰ مقاصد کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ نفسیاتی طور پر، جب انسان ایک گہری اور معنی خیز کتاب کو توجہ سے پڑھتا ہے، تو اس کی cognitive abilities یعنی فکری صلاحیتیں بہتر ہوتی ہیں، اس کا ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور وہ بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ قرآن کی آیات خاص طور پر انسانی نفسیات کے مطابق ہدایت فراہم کرتی ہیں، جو خوف، بے چینی، غصے اور لالچ جیسے منفی جذبات کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
یہ تمام عبادات روزے کے ساتھ مل کر نفس کے تزکیے کے عمل کو مضبوط کرتی ہیں۔ اگر صرف روزہ رکھا جائے لیکن باقی عبادات کو ترک کر دیا جائے، تو ضبطِ نفس اور تقویٰ کا وہ مطلوبہ اثر حاصل نہیں ہوتا جو ایک مکمل عباداتی نظام سے حاصل ہوتا ہے۔ جب انسان نماز، دعا اور تلاوت کو اپنے روزے کے ساتھ جوڑتا ہے، تو وہ مسلسل ایک ایسی کیفیت میں رہتا ہے جہاں اس کی روحانی اور نفسیاتی تربیت ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کا دل اور دماغ پاکیزہ خیالات سے معمور ہو جاتے ہیں، اور وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ یہ سب چیزیں مل کر اسے ایک مضبوط، متوازن اور تقویٰ کی راہ پر گامزن انسان بناتی ہیں، جو نہ صرف اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں صبر، حکمت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1347

ٹیگز

تبصرے