استعماری طاقتیں اور تیسری دنیا کی ریاستی دھوکہ بازیاں
تحریر: سید جہانزیب عابدی
لاحول ولاقوۃ الا باللہ
صراط ٹائمز: لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے کہ استعماری طاقتیں جس نے اپنی ماضی کی کالونیل دور میں جن کو آج تیسری دنیا بھی کہا جاتا ہے جیسے پاکستان و ہندوستان اس میں بھی خصوصا پاکستان میں ریاست موجودہ دور میں ان نیوکالونیل طاقتوں کی ایجنٹ ہے مگر دوسری طرف ان کی مخالفت میں بھی رہتی لگتی ہے۔
اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے جسے “نیو کالونیلزم” یعنی جدید نوآبادیاتی نظام کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ استعماری طاقتوں نے براہ راست تسلط کے بعد بالواسطہ حکمرانی کا طریقہ اپنایا، جس میں وہ آزاد نظر آنے والی ریاستوں کے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں یہ نظام یوں کام کرتا ہے کہ ریاست خود ہی ان طاقتوں کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہناتی ہے، چاہے وہ معاشی، دفاعی، یا سیاسی امور ہوں۔
اس کی ایک شکل یہ ہے کہ ریاست کے اندر ایسے عناصر موجود ہوتے ہیں جو عالمی طاقتوں کے مفادات کے مطابق کام کرتے ہیں، چاہے وہ عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے ہوں، سکیورٹی معاہدے ہوں، یا سیاسی وابستگیاں۔ ان عالمی طاقتوں کی ایما پر ریاست بعض اوقات اپنے ہی شہریوں کے خلاف ایسے اقدامات کرتی ہے جو قومی مفادات سے زیادہ ان طاقتوں کے مفادات کے حق میں ہوتے ہیں۔
دوسری طرف، عوامی جذبات اور قومی خودمختاری کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے ریاست بظاہر ان طاقتوں کی مخالفت بھی کرتی نظر آتی ہے۔ مثلاً، سیاسی بیانات میں مغربی ممالک یا عالمی اداروں پر تنقید کی جاتی ہے، خود مختاری کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، اور بعض اوقات ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جو ان طاقتوں کی پالیسیوں سے تضاد رکھتے ہیں۔ تاہم، عملی طور پر یہ مخالفت اکثر علامتی ہوتی ہے، کیونکہ ریاستی پالیسیوں کا ڈھانچہ اب بھی اسی عالمی نظام کا حصہ رہتا ہے جو استعماری طاقتوں نے ترتیب دیا ہے۔
یہ صورت حال دراصل استعماری حکمت عملی کا ایک ارتقائی پہلو ہے، جہاں پرانا براہ راست کنٹرول اب سفارتی، معاشی اور نظریاتی دباؤ کے ذریعے تبدیل ہو چکا ہے۔ یوں ایک طرف ریاست ان عالمی طاقتوں کی ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہے، اور دوسری طرف داخلی سیاسی ضرورتوں کے تحت بظاہر ان کی مخالفت بھی کرتی نظر آتی ہے تاکہ عوام میں اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے۔
تیسری دنیا کی وہ ریاستیں جو مغربی سامراج کے شکنجے میں نہیں پھنسی ہیں، انہیں مختلف قسم کی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان ریاستوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش عالمی طاقتوں کی طرف سے غیر رسمی اور نرم طریقوں سے اثر و رسوخ بڑھانے کی ہے۔ یہ ریاستیں اپنے داخلی مسائل، اقتصادی مشکلات، اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں اور انہیں عالمی سطح پر اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے غیر متوازن طاقت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ سامراجی طاقتیں اس قدر مہارت سے عالمی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال چکی ہیں کہ غیر مغربی ریاستوں کو اپنے داخلی امور میں خود مختاری کا مظاہرہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان ریاستوں پر معاشی دباؤ، قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی، اور بین الاقوامی تعلقات میں مسلسل مداخلت جیسے مسائل عائد کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کی مثال پر بات کی جائے تو اس ملک کی عوام سامراجی ایجنٹوں کا شکار ہیں، جو عالمی طاقتوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ جبر مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے، جیسے عوامی حقوق کی پامالی، معاشی عدم مساوات، اور سیاسی استحکام کی کمی۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں خود مختاری کے دعوے اور عوامی سطح پر ان سامراجی طاقتوں کے خلاف بیانات دینے کے باوجود، ریاست کی پالیسیوں کا ڈھانچہ عالمی نظام کے مطابق ہوتا ہے جو مغربی طاقتوں کی ایما پر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کو اپنے حقوق اور آزادی کے لیے ایک جرات مندانہ تحریک کی ضرورت ہے، جس میں نظریاتی بیداری اور قومی اتحاد کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوامی شعور اور ایک جامع سیاسی تحریک کی صورت میں ہی سامراجی شکنجوں سے نکلنے کا راستہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس تحریک کا مقصد داخلی استحکام، خود مختاری، اور معاشی ترقی کے لیے عالمی اثرات سے آزاد پالیسیوں کا قیام ہو گا، تاکہ ملک کی عوام اپنے قومی مفادات کے لیے کام کر سکیں اور عالمی طاقتوں کی چالوں سے بچ سکیں۔
پاکستانی عوام کو اس صورتحال سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اپنی شناخت، اپنے قومی مفادات اور اپنے وسائل کا تحفظ کرنا سیکھنا ہوگا۔ یہ صرف سیاسی بیانات اور علامتی مخالفت سے ممکن نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی اور عوامی حمایت کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے داخلی سطح پر بھی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوامی سطح پر شعور بیدار ہو، سیاسی جماعتیں قوم کی فلاح کے لیے کام کریں، اور ایک ایسی قیادت ابھرے جو سامراجی مفادات کے بجائے اپنے ملک کے مفادات کو ترجیح دے۔ اس طرح، عوامی طاقت اور درست قیادت کے ذریعے اس سامراجی شکنجے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
